داعش ۔ پسِ منظر ۔۔(قسط 8)وہارا مباکر

SHOPPING

موصل کے قریب دولت اسلامیہ فی العراق کے سربراہ ابھی اس پوزیشن پر نئے تھے۔ پچھلے کمانڈرز کے برعکس یہ جنگجو نہیں بلکہ سکالر تھے۔ اپنی پی ایچ ڈی بغداد یونیورسٹی سے کی تھی۔ ڈاکٹریٹ اسلامک لاء میں کی تھی۔ یہ  سربراہ 32 سالہ ابراہیم عواد البدری تھے۔ انہوں نے اپنا جہادی لقب ابوبکر البغدادی کا اختیار کیا تھا۔

امریکی فوج ملک سے نکل چکی تھی۔ زرقاوی نے جب یہ جماعت قائم کی تھی تو اس کا نام جماعت التوحید والجہاد رکھا تھا۔ اس جماعت کا مقصد خلافت کا قیام تھا، لیکن اب اس کا پیغام سننے والا کوئی نہیں تھا۔ کبھی یہ کسی خودکش حملہ آور کو بغداد روانہ کر دیا کرتے تھے۔ کسی بینک کے صارفین کو، کسی چرچ سروس میں، فوج میں بھرتی ہونے والوں کی قطار میں کھڑے نوجوانوں کو مار دیا کرتے تھے۔ عراقیوں کی توجہ عراقی پارلیمنٹ میں جاری سرکس کی طرف تھی۔ ان حملوں کی تُک اب کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ یہ گروپ کار بم بنا سکتا تھا۔ خود کش حملہ آور بھرتی کر لیتا تھا لیکن تنظیم کھوکھلی ہو چکی تھی۔ یہ جو نظریہ بیچ رہے تھی، کسی کو اس کی پرواہ نہیں رہی تھی۔ زرقاوی کی موت کے پانچ سال بعد اب یہ اس نہج پر تھے کسی تنظیم کے لئے ختم ہو جانے سے بھی زیادہ بُرا انجام ہے۔ یہ غیرمتعلقہ ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عراقی القاعدہ کا زوال زرقاوی کی موت کے بعد شروع ہو گیا تھا۔ اگرچہ ان کی کارروائیاں جاری رہیں لیکن میدانِ جنگ بدل رہا تھا۔ امریکی فوج کا انخلا 2007  میں شروع ہوا اور آخری دستہ 18 دسمبر 2011 کو عراق کی سرحد پار کر کے کویت میں داخل ہو گیا۔ وہ جنگ جس میں ساڑھے چار ہزار امریکی فوجی مارے گئے۔  اب مستحکم عراق چلانا عراقی حکومت کا کام تھا۔ وزیرِاعظم نور المالکی ملک کو یکجا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ ان کی پالیسی سنی قبائل اور عراقی کردوں، دونوں کو قابلِ قبول نہیں تھیں۔

جانے سے پہلے امریکی افواج نے ایک حملے میں دولتِ اسلامیہ فی العراق کی لیڈرشپ کو ختم کر دیا تھا۔ ابو غادیہ ایک ہیلی کاپٹر حملے میں مارے گئے تھے۔ تکریت میں گروپ کی سنئیر قیادت کے اجلاس پر ہونے والے حملے میں ابو عمر البغدادی اور ابو ایوب المصری بھی مارے گئے تھے۔ دولتِ اسلامیہ نے جاری کردہ پیغام میں انتقام کا وعدہ کیا تھا “لمبی، اداس راتیں اور تاریک دن آنے والے ہیں جو خون سے بھرے ہوں گے”۔

حقیقت یہ تھی کہ اگرچہ ان کے نئے چیف ابوبکر البغدادی کے ارادے تو بلند تھے لیکن اس تنظیم کے پاس تو اس کمزور عراقی حکومت کو بھی چیلنج کرنے کی اہلیت بھی نہیں تھی۔ اس کے پاس چار چیزوں کی کمی تھی۔ وسائل، افرادی قوت، جگہ اور سب سے بڑھ کر کوئی کاز۔ کوئی ایسی وجہ جس کی مدد سے یہ لوگوں کو متوجہ کر سکے۔

ان کو یہ سب عراق سے باہر مل گیا۔ شام کی خانہ جنگی کے ہنگامے نے ان کو یہ چاروں چیزیں فراہم کر دیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام میں بغاوت شروع ہوئے چھ ماہ ہو چکے تھے جب ابوبکر بغدادی اپنے کام کے لئے تیار تھے۔ شام کے بڑے علاقے سے سیکورٹی کے ادارے ختم ہو رہے تھے۔ اس شورش زدہ ملک میں قدم جمانے کا موقع تھا۔ دولت اسلامیہ کا پہلا گروپ سات سے آٹھ لوگوں پر مشتمل تھا، جو شام کی صورتحال کا جائزہ لینے دریائے فرات کے ساتھ چلنے والی سڑک کے ذریعے شام میں داخل ہوا تھا۔ انہوں نے جلد ہی یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ جگہ عراق سے زیادہ موافق تھی۔ متشدد، لاقانونیت کا شکار شام جہاں پر ہتھیاروں کی آزادانہ نقل و حرکت کی جا سکتی تھی۔ نہ ہی اوپر سے کسی طیارے یا ہیلی کاپٹر کے آنے کا خوف تھا۔ یہ اس تنظیم کیلئے ایک آئیڈیل جگہ تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام اور اردن پڑوسی ملک تھے۔ دونوں کے حکمران ملک پر حکومت کرنے والے طاقتور حکمرانوں کے فرزند تھے۔ دونوں کو ان کے والد نے غیرمتوقع طور پر چنا تھا۔ دونوں نے تعلیم برطانیہ سے حاصل کی تھی۔ دونوں کی بیویاں مغرب سے تعلیم یافتہ گلیمرس اور اپنے کیرئیر رکھنے والی خواتین تھیں۔ دونوں کے بچوں کی آپس میں فیملی کے دورے کے وقت سپرماریو ویڈیوگیم اکٹھے کھیلنے پر دوستی ہو گئی تھی۔ جب عرب بہار آئی تو دونوں ممالک میں لوگ حکومت کے خلاف اٹھے تھے۔ بظاہر ایک جیسے لگنے والے ان لیڈروں کا اس پر ردِ عمل بالکل ہی متضاد تھا۔ اس ردِعمل نے ان ممالک کی قسمت طے کر دی۔

عرب بہار نے خطے کے دوسرے ممالک کی طرح اردن کا رخ بھی کیا۔ لوگ تبدیلی کے نعرے کے ساتھ سڑکوں پر نکلے۔ شاہ عبداللہ اس کے لئے تیار تھے۔ انہیں تبدیلی دے دی گئی۔ وزیرِاعظم برخواست ہوئے اور معروف بخت، جو اصلاح پسند مقبول راہنما تھے، وزیرِاعظم بنے۔ انہیں کرپشن دور کرنے اور مقامی حکومتوں کو ٹھیک کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا۔ بادشاہ نے ملک میں سیاسی اصلاحات کرنا شروع کیں۔ قومی اور مقامی انتخابات میں تیزرفتار اصلاحات ہوئیں۔ اپنی طاقت وزیرِ اعظم اور کابینہ کے حوالے کرنا شروع کی۔ اردن میں یہ تحریک بہت جلد دم توڑ گئی کیونکہ یہ جس بادشاہ سے ٹکرائی تھی، وہ خود ہی ان کا ہمنوا تھا۔ جہاں عرب بہار میں حکومتیں الٹا دی گئیں، خون بہتا رہا۔ وہاں اردن میں ایک سال تک جاری رہنے والے ان مظاہروں میں صرف تین ہلاکتیں ہوئیں، جن میں سے دو پولیس والوں کی تھیں۔

شام کی بغاوت جب شروع ہوئی تو یہ مذہبی بغاوت نہیں تھی۔ لوگ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئے تھے۔  حماة میں ہونے والے بہت بڑے مظاہرے میں جلوس میں قرآن بھی تھے اور صلیب بھی۔علوی بھی اس میں شریک ہوئے۔  یہاں بشارالاسد نے جو ہتھکنڈے استعمال کئے، اس میں حکومت مخالف لوگوں کو تکفیریوں کا لیبل دینا تھا۔ 2011 میں شاہ عبداللہ نے بشار الاسد کو فون کیا۔ ایک دوسرے کا اور خاندان کا حال احوال پوچھنے کے بعد شاہ عبداللہ نے بغاوت کا پوچھا اور بتایا کہ انہوں نے کیا اقدامات لئے اور بشار کو کچھ مشورہ دینے لگے کہ ان کی بات کاٹ دی گئی، “آپ صرف اپنے اور اردن پر توجہ دیں”۔ کال جلد ہی ختم ہو گئی۔

عبداللہ کے لئے یہ ناگوار اور غیرمتوقع تھا۔ بشارالاسد کے والد ایک بڑے  ہی بے رحم ڈکٹیٹر تھے۔ مکاری اور طاقت کے ملاپ کی وجہ سے غربت سے ترقی کر کے صدر بنے تھے اور طویل عرصہ رہے تھے۔ بشار اپنے والد کی طرح نہیں تھے۔ صدر بننے کے بعد انہوں نے ملک میں کئی اصلاحات کی تھیں۔ نہ صرف اردن کو بلکہ تمام دنیا کو ان سے امید تھی۔ کئی نوجوان اور قابل مشیروں کو اصلاحات کیلئے ملک لے کر آئے تھے۔ پرانے جنرلوں اور بااثر طبقات کو ہٹایا تھا۔ عبداللہ کو امید تھی کہ وہ ان کا بڑھا ہاتھ تھام لیں گے۔ لیکن بشار نے اس راستے کا انتخاب کیا، جو ان کے والد کا طریقہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دولتِ اسلامیہ فی العراق کی قیادت کے ایماء پر بشار الاسد سے لڑنے کے لئے ملشیا قائم کی گئی۔ یہ گروپ جبہت النصرہ کہلایا۔ لیکن بغدادی کے عزائم شامی باغیوں کی مدد کے نہیں تھے۔ ان کے ارادے زیادہ بلند تھے۔ اصل مقصد خلافت کی بنیاد ڈالنا تھا۔ دولتِ اسلامیہ کو اس خلافت کے لئے کسی ٹھکانے کی ضرورت تھی۔ ان کے لئے شام بغداد کی کالونی تھی۔  النصرہ فرنٹ، جس کا فوکس شام تھا، وہ بعد میں اس سے الگ ہو گیا۔

اپنے پیشرو کی طرح بغدادی کا مقصد شام یا عراق میں اسلامی حکومت کا قیام نہیں رہا بلکہ سرحدوں سے ماورا سلطنت کا قیام تھا۔ القاعدہ اس سے پہلے خلافت کو مستقبل بعید کا گول قرار دیتی رہی تھی جس کے لئے ایک ایک کر کے مشرقِ وسطیٰ کی حکومتیں گرائی جائیں۔ دولتِ اسلامیہ اس کے لئے انتظار بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

القاعدہ کی قیادت زرقاوی کو اور اس کے بعد آنے والوں کو منع کرتی آئی تھی کہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے دہشت کا لیول کچھ کم کر دینا چاہیے۔ سر کاٹنے کی ویڈیوز، بچوں اور خواتین سمیت عام شیعہ آبادی پر حملے وغیرہ کم ہو چکے تھے۔ بغدادی نہ صرف اس سب کو واپس لے آئے بلکہ اس شدت کے ساتھ جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئی تھی اور اس کو دنیا بھر میں یہ مناظر دکھانے کا طریقہ بھی آتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

SHOPPING

ساتھ لگی تصویر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف حماة شہر میں ہونے والے مظاہرے کی ہے۔

images
SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *