ایک اداکار محض اپنی اداکاری کی حد تک فلم بینوں کو محظوظ کرسکتا ہے مگر سپراسٹار کا دائرہ وسیع ہوتا ہے ـ فلم بین سپراسٹار کی نجی زندگی ، اس کے انٹرویوز، مختلف سیاسی، ثقافتی و سماجی معاملات پر اس کی رائے، اس کے تشہیری پروگرام الغرض اس سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی اہمیت دیتے اور اس سے متاثر ہوتے ہیں ـ ہندی سینما جیسی پراثر صنعت کا سپراسٹار ثقافت تک کو بدلنے کی قوت رکھتا ہے ـ سپراسٹار کی اس متاثر کن طاقت کے باعث اس کے مداح سمیت دشمن بھی اس پر کڑی نظر رکھتے اور غیر محسوس طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں ـ مداحین کے لئے وہ قریبی عزیز کی صورت اختیار کر لیتا ہے ـ ماضی میں فلم “قلی” کی شوٹنگ کے دوران امیتابھ بچن کے زخمی ہونے اور موت کی دہلیز پر پہنچنے کی اطلاع ملنے پر آدھا بھارت عبادت میں مشغول ہوگیا تھا ـ دورِ حاضر میں اسٹار پاور کے لحاظ سے امیتابھ بچن کے بعد اگر کسی کا نام لیا جاسکتا ہے تو وہ بلاشک و شبہ شاہ رخ خان ہیں ـ
اوپر کہا جاچکا ہے جب شاہ رخ خان فلم انڈسٹری میں آئے تب ہندوستان میں دو متوازی لہریں چل رہی تھیں ـ ایک ایودھیا تحریک جس کے بطن سے جارحانہ ہندو قوم پرستی کی پیدائش ہوئی اور اس کے ذریعے ہندو توا سیاست نے شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا ـ دوم بھارتی ریاست کی نئی معاشی پالیسی نے انڈین مارکیٹ کو دنیا کے لئے کھول دیا جسے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس نے ایک زبردست موقع کے طور پر دیکھا ـ شاہ رخ خان کے تجزیے میں ان دونوں لہروں کا اہم کردار ہے ـ کسی ایک لہر کو اولیت دینا ہرگز درست نہ ہوگا ـ شاہ رخ خان ایک “آؤٹ سائیڈر مڈل کلاس” ہونے کے ساتھ ساتھ “مسلم” شناخت بھی رکھتے ہیں ـ ان کی مسلم شناخت جہاں طاقت پکڑتی ہندو توا سیاست سے تضاد پیدا کرتی ہے وہاں ایک آؤٹ سائیڈر مڈل کلاس ہونا انہیں نئی معاشی پالیسی کے ساتھ منسلک کر دیتا ہے ـ
ہندو توا سیاست ملک میں ہندو بالادستی کو اپنا ہدف بناتی ہے لیکن عالمی سطح پر وہ ایک مہان اور سیکولر بھارت کو اپنی منزل تصور کرتی ہے ـ عالمی سطح پر مہان بھارت کو متعارف کروانے کے لئے ایک ایسے چہرے کی ضرورت ہے جو بھارت کی سیکولر شناخت کو برقرار رکھ کر برصغیر میں اس کی متنوع ثقافت کی ترویج کرے ـ شاہ رخ خان نے اداکار سے سپر اسٹار بننے کے دوران ریاستی نیشنل ازم کی اس عالمی خواہش کو کماحقہُ پورا کیا ہے ـ وہ بھارتی سینما کے واحد اداکار ہیں جو یورپ اور امریکا میں وسیع پیمانے پر مقبول ہیں ـ ان کے ہم عصر سپراسٹار سلمان خان اور عامر خان پوری کوشش کے باوجود یورپ و امریکا میں وہ مقبولیت حاصل نہ کرپائے جو شاہ رخ خان کو بلاشرکت غیرے حاصل ہے ـ سلمان و عامر پر کیا موقوف دلیپ کمار، راج کپور، دیوآنند، راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن جیسے دیوہیکل اداکار بھی یورپ و امریکا کو فتح نہ کرپائے ـ راج کپور سابق سویت یونین اور عامر خان چین تک ہی پہنچ پائے ہیں ـ دوسری جانب شاہ رخ خان سعودی عرب اور ایران جیسے بظاہر قدامت پرست ریاستوں میں بھی بھارت کی شناخت متصور کئے جاتے ہیں ـ
شاہ رخ خان کا عالمی سطح پر بھارت کا سیکولر چہرہ بننے کے پیچھے وزیراعظم نرسہماراؤ کی لبرل معاشی پالیسی کا اہم ترین کردار ہے ـ لبرل پالیسی کے باعث ہندوستان میں نجی سٹیلائٹ چینلز کی بھرمار ہوئی، عالمی سرمایہ داروں کی برانڈڈ کمپنیاں بھارتی سماج میں سرایت کر گئیں اور مڈل کلاس کو دنیا سے رابطے کا موقع ملا ـ ہندو توا سیاست اور اس چمکتے دمکتے بھارت نے تضادات میں اتفاقات کی راہیں تلاش کرلیں ـ
بظاہر عجیب لگتا ہے مگر شاہ رخ خان کے فلمی سفر کے تجزیے میں یہ نکتہ پوری قوت سے سامنے آتا ہے کہ وہ اپنی مسلم شناخت کے باوجود ہندو توا کی سیاسی ثقافت کو مضبوط بنانے میں بھی موثر کردار ادا کرتے رہے ہیں ـ
امیتابھ بچن کے حوالے سے کہا جاچکا ہے کہ وہ “مہا بھارت” کے جنگجو ہیروؤں “ارجن” اور “کشن” کے مماثل تھے ـ ان کے دور میں محنت کش طبقہ اپنے بقا کی جنگ لڑ رہا تھا جسے نہ صرف عالمی سطح پر غالب مارکسی نظریے کی حمایت حاصل تھی بلکہ ملک کے اندر بھی نہرو معاشی پالیسی بڑی حد تک اس طبقے کی پشت پر کھڑی تھی ـ
رام مندر تحریک نے کشن اور ارجن کی جگہ “رام” کو مرکزیت دی، لبرل معاشی پالیسی اور مڈل کلاس خوابوں نے رام کی لطیف اور صلح جو اساطیری شخصیت کو مزید متعلقہ بنایا ـ اس نئے بھارت میں محنت کش طبقے کی کوئی جگہ نہیں تھی ـ شاہ رخ خان سینما اسکرین پر جہاں مڈل کلاس خوابوں کی تکمیل کا استعارہ بنے وہاں انہوں نے رام کی صلح جو شخصیت کا روپ دھار کر رام اور سیتا کی اساطیری محبت کو بھی بڑی فنکاری سے پردے پر پیش کیا ـ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امیتابھ بچن کے اینگری ینگ مین تصور کو بعض منفی اور بڑی حد تک رسکی متشدد کرداروں کے ذریعے قصہ پارینہ بنا دیا ـ
شاہ رخ خان نے یہ تینوں کام نوے کی دہائی میں اپنی مختلف بلاک بسٹر ہٹ فلموں کے ذریعے انجام دیے ـ ان کے اس ارتقائی سفر کو فلم “دیوانہ” (1992) کی بجائے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ڈرامہ سیریز “فوجی” سے دیکھنا ہوگا جس میں انہوں نے ایک محب وطن مڈل کلاس نوجوان فوجی کا کردار ادا کرکے بھارتی نیشنلزم کی دنیا میں اپنا پہلا قدم رکھا ـ “فوجی” کے بعد ان کی فلموں و کرداروں کا تجزیہ کرکے جاننے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے کس طرح ایک معمولی متوسط طبقے کے آؤٹ سائیڈر نوجوان سے دنیا کے امیر ترین فلمی سپراسٹار کا منصب حاصل کیا ـ
جاری ہے
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں