ایرانی ٹھگ ماسکو میں/ڈاکٹر مجاہد مرزا

مثل برگ آوارہ’سے

julia rana solicitors

 

 

 

 

ان دنوں میرے مقام رہائش کے نزدیک تر ایک بہت بڑی کھلی مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ اسی مارکیٹ میں ظفر نے بھی ایک کنٹینر کرائے پر لے کر وہی کام شروع کر دیا تھا جو اس مارکیٹ میں کچھ پاکستانی پہلے سے کر رہے تھے یعنی ہندوستانی فرموں سے سویٹر اور ٹی شرٹس ادھار پر لے کر تھوک میں بیچنے کا کام۔ اب میرا جب بھی گھر بیٹھے دل اوبھتا میں کوئی فرلانگ دو فرلانگ دور ویگنوں کے سٹاپ پر پہنچتا جہاں سے ایک ویگن پندرہ بیس منٹ میں مجھے اس کھلی مارکیٹ تک پہنچا دیتی تھی۔ ظفر کے توسط سے وہاں کئی پاکستانیوں سے شناسائی ہو گئی تھی۔ یا پھر میں اس پاکستانی شخص کے پاس چلا جاتا تھا جس نے میرا تقریبا” سارا مال اٹھا لیا تھا۔ وہاں بھی مزید پاکستانیوں سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ جگہ شہر کے دوسرے کنارے پر واقع تھی۔ ایک بار وہ شخص کہیں نکلا ہوا تھا، کہ گیٹ سے فون آیا تھا۔ چونکہ یہ دفتر ایک انسٹیٹیوٹ کے اندر واقع تھا اس لیے اگر باہر سے کوئی ملاقاتی یا گاہک آتا تو دربان فون کرکے معلوم کر لیتا تھا کہ کیا اسے آنے دینا چاہیے۔ فون پر دربان نے کسی شخص سے بات کروائی تھی، جس نے اپنا نام چوہدری صداقت بتایا تھا، میں نے دربان سے کہا تھا کہ انہیں آنے دو۔ چوہدری صداقت مجھے دیکھا بھالا سا لگا تھا۔ اس نے خود ہی یاد دلایا تھا کہ کئی سال پہلے وہ ایک کام کے سلسلے میں مجھ سے ملا تھا۔ انسان مناسب تھا چنانچہ اس سے دوستی ہو گئی تھی۔ اس کے توسط سے ایک نسبتاً  جوان ،چھوٹے قد کے ذوالفقار نامی شخص سے بھی ملاقات ہوئی تھی، جس کی خوش خلقی اور حاضر جوابی کے باعث میں اس سے بے تکلف ہو گیا تھا۔
پہلے جس شخص نے مال لیا ہوا تھا، اس نے ایک اور شخص کی دیکھا دیکھی ایک ہوٹل کا فلور کرائے پر لے کر ‘سب رینٹ‘ کرنے کا کام کیا تھا۔ بعد میں ذوالفقار نے بھی یہ کام شروع کر دیا تھا اور مجھے برابر کی بنیاد پر اس کام میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی جو میں نے قبول کر لی تھی۔ کمرے کرائے پر لینے والے ایران سے آئے مسافر ہوتے تھے جو کنبوں سمیت ہوٹلوں میں رہتے تھے۔ مجھے ماضی میں ایران میں بطور طبیب کے کچھ عرصہ بتانے کے سبب فارسی زبان کی شد بد تھی۔ ذوالفقار نے اسی وجہ سے میرا کام میں شریک ہونا بہتر خیال کیا تھا۔
ان ایرانیوں کے پاس کاریں ہوتی تھیں۔ یہ دن کے دس گیارہ بجے ہوٹل سے نکل جاتے تھے اور پانچ چھ بجے شام کو لوٹتے تھے۔ سبھی کمروں میں غیر قانونی طور پر کھانے پکاتے تھے اور بیشتر ایرانیوں کا مرغوب نشہ “تریاک کشیدن” یعنی افیون کا دھواں سینے میں اتارنے کا نشہ کرتے تھے۔ یا تو وہ ایران سے ہی افیون ساتھ لے کر آتے تھے یا کچھ مشکوک مقامی لوگ ضروری اشیاء ہوٹل میں لا کر دینے کی آڑ میں انہیں فراہم کر دیتے تھے۔
آہستہ آہستہ مجھے ان کے بارے میں بہت کچھ پتہ چل گیا تھا اگرچہ ذوالفقار جانتے بوجھتے ان کی اصلیت مجھ سے چھپانے کی کوشش کیا کرتا کیونکہ وہ مجھے جانتا تھا کہ میں دیانتداری اور شفافیت کا پرچارک ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی مسئلہ کھڑا کر دوں۔ مجھے پتہ چلا تھا کہ یہ سارے لوگ جن کی تعدادِ  پچاسیوں سینکڑوں تھی، چند قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے، ہر قبیلے کا اپنا ایک سردار تھا۔ سبھی کسی نہ کسی طرح سے ایک دوسرے کے رشتے دار تھے۔ ان کے مرد عورتیں، جوان لڑکے لڑکیاں سب دن دیہاڑے سر عام لوگوں کو ٹھگنے میں طاق تھے۔ اس کام کے لیے نکلنے کو وہ “گشت پر جانا” یعنی گشت رفتن کہتے تھے۔ ایران میں یہ سارے لوگ تہران کے نواحی شہر کرج کے باسی تھے، جہاں سنا تھا ان کی اس طرح کمائی  گئی دولت سے بنائی گئی بڑی بڑی حویلیاں تھیں۔
مجھے اس بارے میں یوں معلوم ہوا تھا کہ ایک بار ان کے قبیلے کے عباس نامی ایک سردار نے جو تن و توش والا کرخت شکل شخص تھا مجھے ساتھ چلنے کو کہا تھا کہ اسے روسیوں سے کوئی کام ہے شاید اسے مترجم کی ضرورت پڑے۔ میں اس کے ہمراہ چلا گیا تھا۔ عباس کے ساتھ اس کا ایک ساتھی تھا جو کار کی پچھلی نشست پر بیٹھا تھا جبکہ میں عباس کے ساتھ والی نشست پر۔ عباس شہر میں کار گھماتا رہا پھر اس نے ایک بڑے ایئر پورٹ کو جانے والی سڑک پر کار ڈال دی تھی۔ وہ عقابی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی نظر سڑک سے ذرا اتر کر کھڑی ہوئی دو کاروں پر پڑی تھی، جن میں سے نکل کر روسی پکنک منا رہے تھے۔ شراب پی رہے تھے اور تربوز کھا رہے تھے۔
عباس نے اچانک گاڑی سائیڈ پر روکی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ ” آپ کو میں ایک تماشہ دکھاتا ہوں” اس نے اپنی جراب میں سے ڈالروں کی ایک رول کی ہوئی گٹھی نکالی تھی اور مجھ سے کہا تھا کہ میرے ساتھ آئیں۔ وہ ان روسیوں کے نزدیک پہنچا تھا۔ ان کو ڈالر دکھا کر کہا تھا۔ دلار روبل، دلار روبل، تورست۔ چونکہ اس نے کوئی تماشہ دکھانے کا کہا تھا اس لیے میں نہیں بولا تھا ورنہ میرا دل چاہ رہا تھا کہ عباس کو بتا دوں کہ ڈالر منی ایکسچینج والوں سے تبدیل کروائے۔ روسیوں نے بھی نو، نو ،نو کہا تھا اور مسکرا رہے تھے۔ پھر عباس نے اپنے دائیں ہاتھ کی مٹھی بند کرکے درمیانی انگلی اور انگشت شہادت سے اپنی دونوں آنکھوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معصوم اور احمق سی شکل بنا کر کہا تھا “روبل، پکازات، پکازات”۔ روسیوں نے استفسارانہ نظروں سے میری جانب دیکھا تھا۔ میں نے بتایا تھا کہ غالباً  یہ روسی کرنسی نوٹ دیکھنا چاہتا ہے۔ ان میں سے دو افراد نے یک لخت اپنی جیبوں سے ہزار ہزار پانچ پانچ سو روبل کے کئی نوٹ نکال کر اس کی جانب کر دیے تھے۔ عباس نے پکازات، پکازات کرتے ہوئے پہلے ایک سے نوٹ پکڑ کر چند ثانیوں میں اسے لوٹا دیے تھے اور یہی عمل دوسرے کے ساتھ دہرایا تھا۔ روسیوں نے نوٹ واپس جیب میں ڈال لیے تھے۔ عباس ان کا شکریہ ادا کرکے گاڑی کی طرف چل دیا تھا۔ میں بھی اس کے ساتھ جا کر گاڑی میں بیٹھ گیا تھا۔ میں نے پوچھا تھا،” آغا عباس آپ نے تو کوئی تماشا نہیں دکھایا”۔ ” آپ نے ان کی احمق شکلیں نہیں دیکھی، میں نے انہیں کیسے بیوقوف بنایا۔ خیر چھوڑیں، آپ کو تماشا پسند نہیں آیا” یہ کہہ کر قہقہہ لگا دیا تھا۔ میں جھینپ کر خاموش ہو گیا تھا۔ آگے واپسی موڑ آنے سے پہلے عباس نے پوچھا تھا کہ آج کیا دن ہے۔ جب میں نے اسے دن بتایا تو اس نے کہا تھا،” اوہو، میں تو سمجھا تھا، آج منگل ہے۔ وہ شخص تو ہوگا ہی نہیں جس سے کام تھا، چلیں واپس چلتے ہیں۔ مجھے معاف کیجیے گا، آپ کو تکلیف دی”۔ “کوئی بات نہیں” میں نے کہا تھا لیکن مجھے یہ سب کچھ عجیب و غریب سا لگا تھا۔ لوٹنے پر جب میں نے ذوالفقار سے اس کا تذکرہ کیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ اگر آپ کو یہ آئندہ کبھی ساتھ چلنے کو کہیں تو ان کے ہمراہ مت جائیے گا۔ پھر اس نے بتایا تھا کہ یہ کس طرح لوگوں کو اپنی ٹوٹی پھوٹی روسی اور انگریزی سے بیوقوف بنا کر ان کی جیبوں سے کرنسی نوٹ نکلواتے ہیں اور پھر پلک جھپکتے ہی ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے نوٹوں سے کچھ ہاتھ کی پچھلی جانب چھپا لیتے ہیں۔ اگر دس نوٹ ہوں تو یہ تین سے زیادہ نہیں نکالتے۔ اسی تناسب سے جتنے نوٹ کوئی دکھائے اسی حساب سے غائب کیے جاتے ہیں۔ پھر اس نے وہ کرتب کرکے دکھانے کی کوشش کی تھی جس میں ظاہر ہے وہ ماہر نہیں تھا لیکن مجھے پتہ چل گیا تھا کہ آج میں نہ جانتے بوجھتے ایک مجرمانہ عمل کا حصہ رہا تھا۔
بعض اوقات ان کی شوخ لڑکیاں مذاق کرنے کے موڈ میں ہمارے دفتر میں آتی تھیں اور بڑے سبھاؤ سے پچاس ڈالر کا نوٹ دے کر اس کے بدلے میں روبل دینے کا کہتی تھیں۔ مثال کے طور پر اگر اس کے پندرہ سو روبل بنتے تھے اور ذوالفقار یا میں نے انہیں پانچ پانچ سو کے تین نوٹ دے دیے تو وہ چٹکی بجاتے دکھاتی تھیں کہ آپ نے دو نوٹ دیے ہیں یعنی پندرہ سو کی بجائے ایک ہزار اور اگر انہیں سو سو روبل کے پندرہ نوٹ دیے جاتے تو وہ اسی طرح چشم زدن میں دکھاتی تھیں کہ آپ نے پندرہ کی بجائے دس نوٹ دیے ہیں۔ جونہی ہم ششدر ہوتے تھے وہ ہنس کر اپنے ہاتھ کی پشت دکھاتی تھیں جہاں انگلیوں کے انتہائی نچلے حصے میں دبے چوری کردہ نوٹ لٹکے ہوتے تھے۔ ایسا ایک تو وہ مذاق میں کیا کرتی تھیں، دوسرے اس لیے نہیں چراتی تھیں کہ ان ٹھگوں کے اصول تھے جن میں ایک اصول یہ تھا کہ جہاں وہ رہتے ہوں،وہاں سے چند کلو میٹر کے دائرے میں وہ ایسی کوئی حرکت نہیں کرتے۔
وہ کہتے تھے کہ ان کے کام کے تین انجام ہو سکتے ہیں پہلا یہ کہ مال ہاتھ آ جائے، دوسرا یہ کہ پٹائی ہو جائے، تیسرا یہ کہ گرفتار ہو جائیں۔ پٹائی سے بچنے کے لیے وہ گاڑیاں بھگانے میں مشاق تھے اور گرفتاری سے بچنے کی خاطر جی کھول کر رشوت دینے پر رضامند۔ وہ ہمہ وقت چاق و چوبند اور تیار ہوتے تھے۔ بنیادی طور پر وہ خانہ بدوش لوگ تھے جو شہروں کی زندگیوں میں رچ بس گئے ہیں لیکن ان کا ذوق آوارگی انہیں کمانے اور گھمانے کے لیے ملک ملک لے جاتا ہے۔ انہوں نے بقول ان کے اطالویوں کو اتنا لوٹا ہے جتنا اطالوی مافیا نے بھی نہیں لوٹا ہوگا۔ زیادہ کمائی والا دوسرا ملک وہ روس کو سمجھتے تھے۔

Facebook Comments

ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply