امام حسین اور مولانا جلال الدین رومی۔ثاقب اکبر/آخری قسط

ایک مومن کے لیے ان کی شہادت کا سوز و غم ایک معمولی غم نہیں کیونکہ کسی گوشوارے سے محبت عشقِ گوش کا لازمہ ہے۔ جو کوئی بھی رسول اللہ سے محبت کرتا ہے سوارِ دوشِ مصطفیٰ سے اس کی محبت فطری ہے۔ عشق کی فطرت ہے کہ وہ محبوب سے وابستہ ہر چیز کو محبوب رکھتا ہے۔ خود آنحضرتؐ کی محبت، محبت پروردگار اور عشق حضرت حق کا ناگزیر تقاضا ہے۔ سید الشہداء جو ایک عظیم اور پاک روح سے عبارت تھے، ان کا سوز و ماتم ایک مومن کے لیے بہت عظیم ہے۔ سانحہ کربلا کی شہرت حضرت نوحؑ کے دور میں آنے والے طوفان سے سو گنا زیادہ ہے۔ چہاردانگ عالم میں حادثہ کربلا کی شہرت جا پہنچی ہے اور یہ شہرت ہمیشہ باقی رہے گی۔
دوسری نظم میں مسافر شاعر روز عاشوراکے ماتمیوں سے امام حسینؑ اور کربلا کے بار ے میں اپنا نقطہء  نظر بیان کرتا ہے۔ اسے حکایت کے انداز سے پیش کیا گیا ہے۔
گفت: آری لیک کو دور یزید؟
کی بدست این غم؟ چہ دیر اینجا رسید؟
چشمِ کوران آن خسارت را بدید
گوشِ کَرّان آن حکایت را شنید
خفتہ بودستید تا اکنون شما
کہ کنون جامہ دریدیت از عَزا؟
پس عزا بر خود کنید ای خفتگان
زانک بد مرگیست این خواب گران
روح سلطانی ز زندانی بجست
جامہ چہ درانیم و چون خاییم دست
چونک ایشان خسرو دین بودہ اند
وقت شادی شد چو بشکستند بند
سوی شادروان دولت تاختند
کْندہ و زنجیر را انداختند
روزِ مُلکست و گَش و شاھنشھی
گر تو یک ذرّہ از ایشان آگھی
ورنہ یی آگہ برو بر خود گری
زانک در انکار نقل و محشری
بردل ودینِ خرابت نوحہ کن
کہ نمی بیند جز این خاکِ کَھُن
ورھمی بیند چرا نبود دلیر
پشتدار وجانسپار و چشم سیر
در رخت کو ازمی دین فرّخی
گربدیدی بحر کو کف سخی
آنک جو دید آب را نکند دریغ
خاصہ آن کو دید آن دریا و میغ
ان اشعار کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے:
اس شاعر نے کہا کہ لیکن دور یزید تو کب کا بیت چکا اس غم کی داستان یہاں کیوں اتنی دیر سے پہنچی ہے۔
کربلا میں جو نقصان ہوا اسے تو اندھی آنکھوں نے بھی دیکھا اور بہرے کانوں نے بھی اس کی حکایت سنی ہے۔
کیا تم لوگ اب تک سوئے ہوئے تھے کہ آج تم اس کی عزا میں اپنا دامن چاک کررہے ہو۔
پس اے خواب غفلت میں پڑے ہوئے لوگو! تم خود اپنے آپ پر عزاداری کرو کیونکہ یہ خواب گراں خود ایک بری موت ہے۔
امام حسین اس مادی قید خانے سے نکل کر مقام سلطانی و بادشاہی تک جا پہنچے۔روح سلطانی قید سے رہا ہو گئی لہٰذا جامہ کیوں چاک کریں اور کف افسوس کیوں ملیں۔

اہل بیت رسول چونکہ بادشاہ دین وایمان تھے اس لیے انھوں نے جب مادیت کے بند توڑ دیے تویہ شادمانی کا موقع ہے۔
وہ سعادت و سربلندی کی طرف چل پڑے اوراس دنیا کے طوق و زنجیر انھوں نے اتار پھینکے۔
ان کی شہادت کا دن ان کی حکومت، مسرت اور بادشاہی کا دن ہے۔ اگر تم ان سے ذرہ بھر بھی آگاہی رکھتے ہو۔
اور اگر تم ان کے اس مقام سے آگاہ نہیں ہو تو خود پر گریہ کرو کیونکہ تم انتقال اور محشر کے بارے میں انکار میں پڑے ہو۔
تم اپنے خراب حال دل اور تباہ حال دین پر نوحہ کرو کیونکہ تمھارا دل اس خاکِ کہنہ اور عالم خاکی کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔
اور اگر تم یہ سب دیکھتے ہو تو پھر ظلم کے خلاف امام حسین اور ان کے انصار کی  طرح تم دلیر و شجاع کیوں نہیں ہو اور تم کیوں متوکل علی اللہ، فداکار اوربے نیاز نہیں ہو۔تمھارے چہرے پر مئے دین پینے سے آنے والی شادابی کہاں ہے؟اگر تو نے سمندر کو دیکھ لیا ہے تو تیرا دست سخا کہاں ہے۔اگر کوئی ایک ندی بھی دیکھ لیتا ہے تو کسی کو پانی دینے سے دریغ نہیں کرتا تو پھر سمندر اور بادل کو دیکھ لینے والے کو تو بہت دریا دل ہونا چاہیے۔

مطالب پر ایک نظر:
زیر نظر حکایت کو مولانا روم نے دو نظموں میں پیش کیا ہے۔ دوسری نظر میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یزید کا ظاہری دور تو کب کا بیت چکا۔ وہ حلب کے سوگواروں سے کہتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر تمھیں اتنی دیر سے کیوں پہنچی ہے۔وہ اس طرف متوجہ کررہے ہیں کہ سانحہ کربلا مادی لحاظ سے تو کب کا بیت چکا۔ اس واقعے کو تو نابیناؤں کی آنکھوں نے بھی دیکھا ہے اور بہرے کانوں نے بھی اس کی صدائے بازگشت سنی ہے، تو کیا تم ابھی تک سوئے ہوئے تھے  کہ جواب غم و اندوہ سے اپنا جامہ تار تار کررہے ہو اور اگر ایسا ہی ہے تو تم اس واقعے سے غافل تھے جو اس قدر عالمی شہرت رکھتا ہے تو پھر اپنی خواب غفلت پر عزاداری کرو کیونکہ خواب گراں کی موت تو بہت بری موت ہے۔

مولانا دراصل حقیقت کربلا، حقیقت شہادت اور امام عالی مقامؑ کے ان باطنی مقامات سے غفلت کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔جوانھوں نے مادی دنیا کی زنجیر توڑ کر اپنے محبوب ازلی کے حضور پا لیے ہیں۔ امام حسینؑ کا سوگواراس حقیقت اور اس مقام سے غافل ہے تو اس کا ظاہری ماتم بے معنی ہے، اسے اپنی غفلت پر ماتم کرنا چاہیے۔ کربلا میں تو روح قدسی اس زندان مادیت سے آزاد ہو گئی۔ امام حسینؑ اس مادیت کے قید خانے سے نکل کر مقام سلطانی و بادشاہی تک جا پہنچے۔ حضرت معین الدین چشتی اجمیریؒ سے منسوب ایک معروف قطعہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:
شاہ است حسین پادشاہ است حسینؑ
دین است حسینؑ دین پناہ است حسینؑ
سرداد نداد دست دردست یزید
حق کہ بنائے لا الہ است حسینؑ

اس پہلو سے دیکھا جائے تو پھر گریباں چاک کرنے اور کف افسوس     ملنے کا محل نہیں بلکہ خود اس راہ کی طرف قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ امام عالی مقامؑ خسرو دین تھے، بادشاہ دیں تھے لہٰذا جب انھوں نے مادی بند توڑ دیے اور زنجیر مادیت کو اتار پھینکا تو ان کی روح وصال حق سے سرفراز ہو گئی اور یہ امر ان کے لیے باعث شادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرفاء میں سے جب کوئی اس مادی دنیا سے نکل کر وصل الٰہی سے فیض یاب ہوتا ہے تو اسے ”عروسی“ سے یاد کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کے روز وصال کو ”روز عُرس“ کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔ گویا امام حسینؑ کا وجود اس دنیا کے بادشاہوں نے گوارا نہ کیا اور انھیں تہ تیغ کردیا لیکن ان کی شہادت کا دن ان کی بادشاہت کا دن بن گیا۔ اس طرح شہادت کا سفر ان کے لیے سعادت و سربلندی کا سفر بن گیا۔ اب اگر کوئی عزادار امام کے اس مقام سے آگاہ نہیں ہے تو پھر گویا وہ عالمِ باطن اور جہان دیگر کا انکار کررہا ہے اور عملاً وہ اس دنیا کی موت کو ایک دائمی موت سمجھ رہا ہے۔

ایسے شخص کو مخاطب کرتے ہوئے مولاناکہتے ہیں کہ تمھیں اپنے تباہ حال دل اور اپنے برباد دین پر نوحہ و زاری کرنا چاہیے کیونکہ آخرت اور شہداء کی دائمی حیات کو نظر میں نہ رکھنا ظاہرکرتا ہے کہ تم اس عالم خاکی کے سوا کچھ نہیں دیکھتے اور اسی کو حقیقی زندگی سمجھتے ہو اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر تمھیں شہدا و اسرائے کربلا کی طرح شجاع و بہادر ہونا چاہیے اور اپنی جان مالک ازلی وابدی کے حضور فدا کرنے کے لیے ہمہ دم تیار ہونا چاہیے، اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس جان کو حضور جاں آفریں میں نثار کرنے کے لیے آمادہ رہنا چاہیے اور مال و متاعِ دنیا سے تمھاری آنکھوں کو سیر ہونا چاہیے جیسا کہ کربلا والوں نے اس دنیا سے اپنی بے نیازی کو ثابت کر دکھایا اور اگر تمھارا دعویٰ ہے کہ تم ایسے ہی ہو تو پھر تمھارے عارض و رخسار پر اس کا اثر دکھائی دینا چاہیے چونکہ شراب عشق کو نوش جاں کرنے والے کا چہرہ اس کی کیفیت داخلی کی حکایت کرتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کرم و سخا کے بحر بے کراں تھے انھوں نے اپنا سب کچھ راہ حق میں قربان کردیا اور اپنے دروازے پر آنے والے کسی حاجت مند کو کبھی محروم نہیں کیا۔ اگر تم نے اس بحر ناپیدا کنار کا سراغ لگا لیا ہے تو پھر تمھارا دست سخا اور اظہار جود و عطا کہاں ہے کیونکہ جو کسی ندی کو دیکھ لیتا ہے وہ بھی کسی تشنہ کام کو سیراب کرنے سے دریغ نہیں کرتا لہٰذا وہ خصوصیت جو سمندر اور رحمت الٰہی کے ابر باراں کو دیکھنے والے سے ظاہر ہوتی ہے تمھارے وجود سے کیوں ظاہر نہیں ہو رہی۔

ڈاکٹر علی حاجی بلند کے بیان کردہ مطالب!
ایران کی یونیورسٹی پیام نور کے استاد معاصر مولانا شناس اور محقق پروفیسر ڈاکٹر علی حاجی بلند نے بھی مولانا کی مثنوی کی ان شہرہ آفاق نظموں پر بہت بلند مطالب ذکر کیے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے پہلی نظم کے اس شعر۔۔
نعرہ ھاشان می رود در ویل وشت
پر ھمی گردد ھمہ صحرا و دشت
کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی بات شروع کی ہے اور پھر دونوں نظموں کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔ہم ان کے شکریے کے ساتھ یہ مطالب پیش کرتے ہیں:

این بیت از مثنوی است کہ اشارہ بہ شیعیان حلب دارد کہ براي امام حسین ع عزاداری مي کنند۔
در این عزاداری نعرہ ھایي مي زنند کہ در ویل و وشت۔ صحرا و دشت را صدا یشان پر می کند۔
ویل: دریا، وادی یا چاھی در جنھم است و کنایہ از حال بد و روزگار بسیار ناخوش است۔

وشت: بہ معنی نیکو و خوب و حال خوب است۔
یعنی این ھا بدون آنکہ بہ اصل مطالب توجہ کنند فقط بر اساس ظاھر بینی نعرہ و فریاد می کنند۔ و برایشان فرقی ندارد کہ حالشان خوب است یا بد۔ درحالی کہ انسان در حال بد معمولا نعرہ می کشد۔ اشارہ بہ این مطلب است کہ امام حسین ع بہ آرزوی حقیقی خویش کہ وصال حضرت رب است رسیدہ است و روز وصال عاشق و معشوق بھترین روزھا و شادترین روزھا است۔ چرا ظاھر پرستان در چنین روزی بہ جای شکر وصال نعرہ و نالہ و گریہ سر می دھند۔
اینان باید برای حال خود گریہ کنند کہ خود اینان مردہ ی غفلت از حق تعالی ھستند و باید بر خود عزاداری کنند۔ وگرنہ امام حسین ع کہ بہ عزاداری ما احتیاجی ندارد۔
پیش مومن کی بود این غصہ خوار
قدر عشق گوش عشق گوشوار
البتہ در ادامہ باید گفت مصیبت کربلا و اندوہ عظیم عاشورا و غصہ ی اھلبیت رسول را خوردن و گریستن برامام، خوار و کم ارزش و تنگ

مایہ نیست۔
بلکہ مومن باید این صدمہ ی عظیم را بزرگ بدارد و این روز و شعائر آن را تعظیم کند و ھرگز خوار و پست در حساب نیاورد و بزرگی این واقعہ را ھمیشہ مد نظر داشتہ باشد۔ مومن حقیقی عاشورا را زندہ نگہ می دارد و این غصہ را خوار نمی گرداند۔
چرا کہ بہ اندازہ ی عشق گوش محبوب عشق گوشواری است کہ برھمان گوش آویختہ است۔
چنانچہ عشق بہ گوشوارہ محبوب بہ دلیل عشق بہ گوش محبوب است۔ یعنی عشق بعدی از عشق قبلی سرچشمہ می گیرد۔ وعزاداری بر سید الشھدا مانند گوشواری است کہ بر گوش حقیقت حسینی آویختہ است۔ پس چون عاشق گوش محبوب(امام حسین ع) باشیم عاشق گوشوارہ کہ ھمان عزاداری است خواھیم بود۔
نکتہ
باید توجہ کرد عاشق بہ تمام توابع وابستہ ھا و پیوستہ ھای معشوق ھم مانند خود معشوق عاشق می شود۔ ھر چیزی کہ با محبوب قرینہ و نزدیکی و اتصال داشتہ باشد بہ واسطہ ی اتصالش بہ معشوق مانند خود معشوق زیبا و دلربا ومورد توجہ است۔

نکتہ بعدی
در روایات اہل بیت از امام حسن و امام حسین ع بہ عنوان دو گوشوارہ کہ ھمیشہ گوش بر رسول و خدا داشتہ اند و سخنان خدا را آویزہ گوش می فرمودند یاد شدہ است۔
انسان ھای وقایع سھمگین کربلا را ندیدند و کور و کربودند۔ اگر کور و کرنبودند چرا آن زمان حرکتی نکردند واکنون مویہ ولا بہ می کنند۔ شما تا حال خفتہ بودید واینک کہ وقت یاری و نصرت گذشتہ و شما بہ ندای ھل من ناصرِ او جواب ندادید اکنون جامہ ی عزا بر خود می درید؟؟
ای خفتگان عزا بر خود کنید کہ ولی الھی را یاری نکردید و خواب گران شما از ھمہ ی مرگ ھا

بدتر است۔
روح سلطانی ز زندانی بجست
ایشان کہ خسروان و پادشاھان دین بودہ اند بند این جھان شکستند و وقت شادی وصال بہ محبوب ایشان است۔ روز عاشورا روز پادشاھی و شاھنشاھی و شادی وصال معشوق است۔ اگر تو از حالات این بزرگان آگاہی۔ واگر آگاہ نیستی پس بہ حال خود گریہ کن کہ جز این خاک و عالم خاک را نمی بینی و بہ افلاک راھی نمیدانی!!!
ور ھمی بیند چرا نبود دلیر
اگر جز این خاک کھنہ چیز دیگری ھم می بیند و درک می کند چرا مانند امام حسین ع و یارانش دلیر و شجاع در برابر ستم نیستید؟؟ چرا پشتندار و پشتیبان حق و اولیای الھی و امامان نبودید و نیستید؟چرا در راہ دین جانسپاری واز جان گذشتگی مانند آن اولیای الھی ندارید؟ چرا مانند امام ع و اصحابش چشمتان از مال و جاہ و مقام سیر نیست؟ چرا چشمتان از نعمات الھی سیر نیست تا مانند ایشان باشید۔ معلوم است شما جز خاک چیز دیگری نمی بینید۔ ومانند ایشان بہ افلاک نظر ندارید۔
گرفتار ناسوت شدہ اید و از ملکوت الھی بی خبرید۔

در رخت کو از می دین فرخی
اگر ریا و نفاق نمی کنید و عزاداریتان حقیقی است چرا در رخسار و ظاھر شما از شراب وصال و تجلیات الھیہ فرخی و خوشی و خوشبختی دیدہ نمی شود؟
اگر دریای عظیم حضرت امام حسین را دیدید کہ بہ ھمہ ھر چہ داشت بخشید و حتی آب آشامیدنی خود را بہ اسبان سپاہ دشمن داد و دشمنان و اسبانشان را سیراب فرمود در حالی کہ می دانست تشنہ خواھند ماند۔ اگر شما دریای بخشش را دیدید چرا حتی یک کف آب سخاوت نورزیدید۔ کسی کہ جوی را ببیندآب را از کسی دریغ نمی کند۔ کسی کہ دریای عشق و رحمت امام حسین را درک کند و ابرھای رحمت الھی را ببیند نباید از آب دریغ کند و تشنگان را عطشان رھا کند؟؟
یعنی اھل ظاھر کہ غافلند رزاقی حق را نمی بینند مانند آن موری کہ دریک خرمنگاہ بزرگ با یک دانہ گندم می کوشد و می جوشد و می لرزد۔

ان عبارات کا اردو مفہوم کچھ یوں ہے:
اس میں حلب کے رہنے والے شیعوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو روز عاشورا امام حسینؑ کی عزاداری کررہے تھے۔ عزاداری کرتے ہوئے وہ جس سے نعرہ و فریاد بلند کررہے تھے اس کی آواز ویل و وشت اور صحرا و دشت میں گونج رہی تھی۔ ”ویل“ جہنم کے دروازے، وادی یا گڑھے کو کہتے ہیں۔ یہ برے حال اور بہت بدحالی کی طرف اشارہ ہے۔ ”وشت“ اچھائی اور اچھے حال کے معنی میں ہے۔
یعنی یہ لوگ اصل مطلب کی طرف توجہ کیے بغیر فقط ظاہر بینی کی بنیاد پر نعرہ و فریاد بلند کیے ہوئے ہیں اور ان کے لیے اس میں کوئی فرق نہیں کہ ان کا حال(حقیقی طور پر) اچھا ہے یا برا ہے جب کہ انسان عام طور پر برے حال میں فریاد کناں ہوتا ہے۔

یہ اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ امام حسینؑ اپنی حقیقی آرزو کو پہنچ گئے ہیں جو حضرت رب کا وصال ہے اور انھوں نے اپنے رب کا وصال پا لیا ہے اور عاشق و معشوق کے فضال کا دن ان کے لیی بہترین اور شاد ترین دن ہے۔ لہٰذا ظاہر ہر سمت لوگ اس روز شکر وصال کے بجائے نالہ و فریاد اور گریہ زاری میں کیوں مصروف ہیں۔ انھیں چاہیے کہ اپنے حال پر گریہ کریں کیونکہ یہ تو خود حق تعالیٰ سے عظمت کی وجہ سے مردہ ہیں لہٰذا چاہیے کہ اپنے پر گریہ کریں وگرنہ امام حسینؑ کو تو ہماری عزاداری کی ضرورت نہیں۔

البتہ اس کے ساتھ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ کربلا کی مصیبت عاشورا کے عظیم غم، اہل بیت رسول کے لیے سوز و الم اور امام حسینؑ پر رونا کوئی معمولی امر نہیں اور یہ کوئی بے وقعت چیز نہیں بلکہ ایک مومن کو چاہیے کہ اس عظیم واقعے کو اہمیت دے، اس دن کی اور ان شعائر کی تعظیم کرے اور انھیں ہرگز کم تر نہ جانے۔ اس واقعے کی عظمت کو ہمیشہ مدنظر رکھے۔ حقیقی مومن وہ ہے جو عاشورا کو ہمیشہ زندہ رکھتا ہے اور اس غم کو کم تر نہیں جانتا کیونکہ محبوب کے کان میں آویزاں گوشوارہ بھی اتنا ہی پیارا ہوتا ہے جتنا خود محبوب کا کان۔ محبوب کے گوشوارے سے عشق خود محبوب سے عشق کی دلیل کی بنا پر ہے یعنی بعد والا عشق پہلے والے عشق ہی سے پیدا ہوا ہے، بعد والے عشق کا سرچشمہ پہلے والا عشق ہی ہے۔

سیدالشہداء کی عزاداری حقیقت حسینی کے گوش پر آویزاں شوگوارے کی مانند ہے۔ پس ہم چونکہ گوش محبوب یعنی امام حسینؑ کے عاشق ہیں اس لیے ہم اس کے گوشوارے کے بھی عاشق ہیں جو اس کی عزاداری ہے۔
ایک اہم نکتہ!
اس امر کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ عاشق معشوق سے وابستہ و پیوستہ ہر چیز پر ایسے ہی عاشق ہوتا ہے جیسے وہ معشوق پر عاشق ہوتا ہے۔ہر وہ چیز جو کسی بھی طریقے سے معشوق سے نزدیک ہو اور اس سے اتصال رکھتی ہو وہ معشوق ہی کی طرح زیبا و دل ربا لگتی ہے اور عاشق کو اپنی طرف متوجہ رکھتی ہے۔

ایک اور قابل توجہ نکتہ!
روایات اہل بیت ؑمیں امام حسنؑ اور امام حسین کو اسلام کے دو ایسے گوشوارے کہا گیا ہے کہ جو ہمیشہ رسول خداؐ اور اللہ تعالیٰ کی طرف گوش بر آوازرہے۔ انھوں نے اللہ کی باتوں کو اپنے لیے  آویزہ گوش بنائے رکھا۔ لوگوں نے کربلا کے دردناک واقعات کو نہیں دیکھا، وہ اندھے اور بہرے تھے۔ اگر وہ اندھے اور بہرے نہیں تھے تو پھر اس زمانے میں وہ حرکت میں کیوں نہیں آئے اور آج گریہ و فغاں کررہے ہیں۔ تم آج تک سوئے ہوئے تھے اور اب جب کہ امداد اور نصرت کا وقت گزر چکا ہے اور تم نے ان کی ”ھل من ناصر ینصرنا“ کا جواب نہیں دیا اور اس پر لبیک نہیں کہا آج ان کی عزا میں اپنا دامن چاک کررہے ہیں۔

اے خواب(عظمت) میں پڑے لوگو! اپنے آپ گریہ کرو کہ تم نے اللہ کے ولی کی مدد نہ کی اور تمھارا خواب گراں ہر موت سے بدتر ہے۔وہ تو دین کے سردار اور بادشاہ تھے انھوں نے اس دنیا کے بند توڑ ڈالے اب تو اس کے لیے اپنے محبوب سے وصل کا موقع ہے۔ اگر تمھیں ان عظیم ہستیوں کے حالات سے کچھ آگاہی ہو تو روز عاشورا بادشاہی، شہنشاہی اور وصال معشوق کی خوشی کا دن ہے اور اگر تمھیں اس امر سے آگاہی نہیں تو پھر اپنے حال پر گریہ کرو کہ تم اس خاک اور اس عالم خاکی کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور تمھیں آسمان کے راستوں کا کچھ پتہ نہیں۔ اگر اس خاک کہنہ سے ماوراء وہ کوئی چیز دیکھتے ہیں اور اس کا ادراک کرتے ہیں تو پھر امام حسینؑ اور ان کے انصار کی طرح ظلم کے مقابل دلیر اور شجاع کیوں نہیں ہیں۔ کیوں تم حق، اولیاء الٰہی اور آئمہ کے پشتیباں اور مددگار نہیں تھے اور نہیں ہو؟ ان اولیاء الٰہی کی طرح راہ دین میں تم جانسپاری اور فداکاری نہیں کرتے ہو؟ امام حسینؑ اور ان کے انصار کی طرح تمھاری آنکھیں مال و منال اور جاہ و مقام سے سیر کیوں نہیں ہیں۔ تمھاری آنکھیں نعمات الٰہی سے سیر کیوں نہیں کہ تم ان جیسے ہو جاؤ۔

واضح ہے کہ تم خاک کے علاوہ کچھ اور نہیں دیکھتے اور تمھاری نظریں ان کی مانند نہیں کہ افلاک کو دیکھیں۔ واضح ہے کہ تمھیں خاک کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا اورتم ان کی طرح افلاک کو نظر میں نہیں رکھتے۔اگر تم ریا اور نفاق نہیں کررہے اور تمھاری عزاداری حقیقی ہے تو پھر تمھارے رخسار پر اور تمھاری ظاہر پر شراب وصال اور تجلیات الٰہی کی خوشی اور خوش بختی دکھائی کیوں نہیں دیتی۔

اگر تم نے حضرت امام حسینؑ کا سمندر(سادل) دیکھا ہے کہ ان کے پاس جو کچھ تھا وہ آپ نے سب کو عطا کردیا یہاں تک کہ سپاہِ دشمن کے گھوڑوں کو اپنے پینے کا پانی بخش دیا۔ آپ نے دشمنوں اور ان کے گھوڑوں کو سیراب کردیا جب کہ جانتے تھے کہ اس طرح آپ پیاسے رہ جائیں گے تو پھر تم چلو بھر پانی کی سخاوت سے بھی کیوں محروم ہو جب کہ ایک شخص جب ایک ندی کو دیکھ لیتا ہے تو کسی کو پانی پلانے سے دریغ نہیں کرتا۔

لہٰذا وہ شخص جس نے امام حسینؑ کے بحر عشق و رحمت کو دیکھا ہے اور رحمت الٰہی کے بادلوں کو دیکھا ہے تو اسے نہیں چاہیے کہ پیاسوں کو پیاسا ہی چھوڑ دے۔ یعنی اہل ظاہر غافل ہیں، وہ اس رزاق کو نہیں دیکھتے جیسے ایک چیونٹی گندم کے کسی بڑے ذخیرے میں موجود ہو، گندم کا ایک دانہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں، اس کے لیے بے چین اور لرزرہی ہیں۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *