بیتس سال کے دوران لاہور کی پبلشنگ ہسٹری کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ لیکن جس بات کا صرف میں گواہ ہوں، وہ بیان کرنا نہیں بنتا۔ مختصرا اتنا بتاتا چلوں کی بتیس سال میں جتنے بھی سیلاب آئے، بارشیں ہوئیں، جلوس نکلے، حکومتیں بدلیں، مارشل لاء اور نگران حکومتوں کی بے یقینی آئی، افغانستان کی جنگ ہوئی، پاک بھارت سرحد پر یا کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی ہوئی، سیاسی ہلچل مچی، ڈالر کا ریٹ 60 روپے سے 300 کے قریب پہنچا، کوئی وفاتیں ہوئیں، کاغذ کی قیمت میں ہر سال اضافہ ہوا یا قلت پیدا ہوئی، لوڈشیڈنگ سے لے کر عید اور محرم الحرام کے دن تک تمام سماجی معاملات کا نتیجہ صرف اور صرف ایک نکلا: لکھنے والوں کو ادائیگی سے انکار یا کمی۔

ہمارے جرائد بھی اِس کی ایک مثال ہیں، وہ کاغذ والے، بائنڈر، کمپوزر، پروف ریڈر، حتیٰ کہ کتاب لاد کر لانے والے ریڑھا بان کو بھی ادائیگی کرتے ہیں، مگر کسی شاعر کو غزل یا نظم یا ترجمہ کردہ افسانے کے ایک ہزار روپے بھی نہیں دے سکتے۔ اخبارات میں بھی یہی حال ہے۔ رپورٹر حضرات تو اپنا کام دھندا باہر سے چلا لیتے ہیں، کام بھی نکلواتے ہیں۔ مگر سب ایڈیٹر ایسی مخلوق ہے جو حقیقتاً اخبار کو بناتا اور اکثر تنخواہ کو ترستا ہے۔ ایک بار خبریں میں کام کرتے ہوئے ضیا شاہد نے تین ماہ کی بقایا تنخواہوں میں سے نصف نصف ماہ کی تنخواہ دی اور میٹنگ بلا کر سب سے داد سمیٹنا چاہی اور پوچھا: ’’سب خوش ہو نا؟‘‘ میں نے کہا، جی سر، جوگر لینے تھے، ایک پیر لے لیا ہے، باقی آدھی تنخواہ ملے گی تو دوسرا پیر لوں گا۔ لیکن لکھنے والے کا ایک پیر ننگا ہی رہتا ہے۔
مشین مین، بائنڈر، کاغذ والے، گتے والے وغیرہ کو اخبار یا کتاب یا رسالے کا پبلشر کبھی ادائیگی سے انکار نہیں کرے گا۔ بلکہ ڈالر اور مہنگائی کے ساتھ اُن کے ریٹس بڑھتے رہیں گے۔ جبکہ سرکاری اداروں میں تراجم اور ایڈیٹنگ کا معاوضہ ابھی تک 2001ء والا ہی رائج ہے۔
لکھنے والے سٹیکر یا چاندی کے ورق کے نیچے لگا وہ کاغذ ہیں جسے اُتار کر ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے اور ورق مٹھائی پر لگا کر فروخت کی جاتی ہے، یا سٹیکر میں حقوق کے نعرے درج ہوتے ہیں۔
(بہت سے لکھنے والے تو پبلشروں کی ناراضی کے ڈر سے یہاں لائیک بھی نہیں کریں گے 🙂
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں