بھارت اس وقت جرمنی، جاپان، چین اور امریکہ کے بعد پانچویں بڑی معیشت بن چکا ہے۔2023 میں بھارت کی معیشت تقریباً 3.75 کھرب ڈالر ہے جو 2014 میں 2 کھرب ڈالر تھی۔ گویا 9 سال کے عرصے میں بھارت کی معیشت دوگنا ہو چکی ہے۔ پاکستان کی معیشت اس وقت 378 ارب ڈالر ہے جو بھارت سے تقریباً 10 گنا کم ہے۔ بھارت رقبے کے اعتبار سے پاکستان سے تقریباً 4 گنا جبکہ آبادی کے اعتبار سے 6.5 گنا بڑا ہے۔
جرمنی اور جاپان جو بھارت سے معیشت کے اعتبار سے اب تک اوپر چین کی معیشت بالترتیب 4.3 کھرب ڈالر اور 4.4 کھرب ڈالر ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ 2027 تک بھارت بین اور امریکہ کے بعد دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن جائے گا۔
چین کی معیشت کا حجم اس وقت 19.3 کھرب ڈالر ہے جبکہ امریکہ اس وقت 26.8 کھرب ڈالر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ 1865 میں امریکی خانہ جنگی کے بعد امریکہ نے خوب ترقی کی اور 1890 میں یہ اس وقت کی سب سے بڑی معیشت برطانیہ پر سبقت لے گیا۔
قوموں کی تاریخ میں واضح مقاصد، درست فیصلے، قدرتی اور انسانی وسائل کا صحیح استعمال وہ چند اہم عوامل ہیں جو انہیں ترقی کی منازل طے کراتی ہیں۔ اس حوالے سے اگر چین کو دیکھا جائے تو چین نے بہتر حکمتِ عملی اور مضبوط معاشی و اقتصادی پالیسیوں جن میں سرِ فہرست مقامی صنعتوں میں ریاستی سطح پر سرمایہ کاری، مجموعی پیداوار میں اضافہ اور شہریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری شامل تھی۔ پالیسیوں کے انہیں تسلسل اور عملداری کے باعث 2010 میں چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن کر اُبھرا۔
آج اگر دیکھا جائے تو بھارت بھی اسی روش پر گامزن ہے۔ بھارت اپنی خارجہ پالیسی کو مضبوط بنا رہا ہے اور دنیا کے تمام بڑے ممالک کے ساتھ تجارتی و سفارتی روابط بہتر کر رہا ہے جس سے بھارت میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مقامی صنعتوں کو فروغ اور مجموعی پیداوار میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
دنیا میں آج انہیں اقوام کی عزت و مرتبہ ہے جنکی معیشت مضبوط ہے اور سفارتی و بین الاقوامی سطح ہر انہیں ممالک کی سنی جاتی ہے۔ ریاستی کی سطح پر قومیں اور ممالک غیر جذباتی اور اپنے مفادات کے لیے کوشاں ہوتے ہیں۔ اسکی مثال بھارت کی خلیجی و مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ دوستی اور تجارتی معاہدے ہیں جو ایک زمانے میں پاکستان میں بقول ہماری ریاست کے بیانیے کے ” برادر ممالک” تصور کیے جاتے تھے. پاکستان کی حرکتوں اور غیر واضح خارجہ و داخلہ پالیسیوں کے باعث اسکی شیلف لائف ختم ہوتی جا رہی ہے کیونکہ بالعموم جنوبی ایشیاء میں پر امن دور شروع ہو رہا ہے اور کوئی بڑی جنگیں نہیں ہورہیں جن میں امریکہ یا چین کو پاکستان کی ضرورت ہو۔ لہذا پاکستان کوندودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر کیا جا رہا ہے۔ بیرونی امداد رک چکی ہے، ملک کی معیشت اور معاشی پیداوار کے ذرائع پر پچھلے پچھتر برس میں توجہ نہ دینے کے باعث صنعتیں کمزور ہیں، زراعت کے شعبے میں پیداوار بڑھتی آبادی کے تناسب سے کم ہے، زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہیں، امپورٹ ایکسپورٹ میں دو گنا کا فرق ہے اور بالعموم ملک لنگڑا کر چل رہا ہے۔ جس طرح غریب کو بس کل کی روٹی کی فکر ہوتی یے ویسے ہی پاکستان کو آئے روز ملک چلانے کے لیے پیسوں کی کمی کا سامنا ہے۔ نظام کی بدحالی، افراطِ زر اور مسائل کے حوالے سے غیر سنجیدگی
عروج پر ہے۔ ہماری اشرافیہ کو یہ سوچنا ہو گا کہ ملک اس طرح سے کب تک چلے گا یا پھر ہمیں کسی معجزے کا انتظار ہے؟ دعا کیجیے کہ اڑوس پڑوس میں کوئی جنگ چھڑے جس میں بڑی طاقتیں کودیں تاکہ ہماری پھر سے موجیں لگیں اور ہم پھر سے اپنے بچوں اور نسلوں کے مستقبل کے سودے کر کے تھوڑی بہت عیاشی کریں کیونکہ پچھتر سالوں میں ہماری مصنوعات یا تو جنگی جنونی ہیں یا زبردستی کی قربانی دینے والی عوام۔
قائدِ اعظم نے صحیح کہا تھا یہ ملک ایک تجربہ گاہ ہے۔
ہم واقعی اس تجربہ گاہ کے چوہے جن پر دہائیوں سے طرح طرح کے تجربات ہو رہے ہیں۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں