مشن ریڈ روز

آپریشن ریڈ روز:-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنائپر ٹو ایگل سنائپر ٹو ایگل”میں اس وقت بارڈر کے قریب پہنچ گیا ہوں اوور ”
سنائپر ٹو ایگل سنائپر ٹو ایگل ۔۔میں نے پرندہ حاصل کر لیا ہے اور میں اب واپس اپنے گھونسلے کی طرف جا رہا ہوں۔ اوور
ہیڈکوارٹر سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا اور جواب میں صرف ساں ساں کی آوازیں ۔۔۔اسی دوران میرے ریڈیو کی بیٹری بھی ختم ہو چکی تھی۔
موسلادھار بارش ہو کر ابھی تھمی ہی تھی کے تیز ہوا چلنی شروع ہو گئی اور سخت سردی نے اپنا آپ دکھا نا شروع کر دیا تھا،ہلکی ہلکی بارش کے قطرے تیز ہوا کی وجہ سے چہرے پر ننھے ننھے پتھروں کی طرح لگ رہے تھے کہ اچانک آسمانی بجلی کا ایک زور دار کڑاکا ہوا اور پورے کا پورا جنگل روشن ہو گیا۔
میں نے اس روشنی میں راستے کا اندازہ لگایا اور درخت کی کھوہ میں سے نکل کر بھاگنا شروع کر دیا۔ اندھیرا، ٹھنڈ اور جگہ جگہ کیچڑ اور پانی کی وجہ سے بھاگنا تو درکنار چلنا بھی مشکل تھا لیکن زندہ رہنے اور مشن کو مکمل کرنے کی لگن مجھے بھاگتے رہنے پر مجبور کر رہی تھی، میرا پورا جسم ٹھنڈ کی وجہ سے جمتا ہوا محسوس ہو رہا تھا اور بارش کے قطرے آنکھوں میں پڑنے کی وجہ سے ہر چیز دھندلی ہو چکی تھی مگر میں اپنی ہی دھن میں آگے چلا جا رہا تھا۔
اس اثناء میں مجھے اپنے عقب میں گاڑیاں رکنے اور آدمیوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں آئیں کہ دیکھو جانے نہ پاۓ اسے پکڑو۔ وہ بارڈر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اتنا سننا تھا کے میرے جسم میں ایک بجلی سی کوندی اور میرے قدم اور تیز ہو گئے۔ مجھے دور سے بارڈر پر جلتی ہوئی مدہم سی روشنی نظر آئی لیکن اس وقت تک میرے جسم نے تقریبا ًمیرا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کے جیسے ابھی سینہ پھاڑ کر باہر آ جاۓ گا۔
ایک فائر کی آواز آئی اور گولی زن سے میرے دائیں کان کے پاس سے گزری ۔میں نے بائیں جانب چھلانگ لگائی، لیکن اندھیرے کی وجہ سے کچھ نظر نہ آیا اور میں ایک کھائی میں لڑھکتا ہی چلا گیا۔ جیسے ہی ایک جگہ جا کر رکا تو غیر ارادی طور پر میرا ہاتھ اس پیکٹ کی طرف گیا جو کہ میں اتنی مشکل سے لے کر یہاں تک پہنچا تھا اور میری آنکھوں میں یہ سوچ کر آنسو آ گئے کہ اگر یہاں تک پہنچ کر بھی یہ دشمن کے ہاتھ لگ گیا تو میری زندگی اور اتنی محنت کا کیا فائدہ؟
یہ سوچ کر میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن میرے دائیں کندھے اور گھٹنے میں درد کی شدید لہر اٹھی جسکا مطلب تھا کے دونوں ٹوٹ چکے ہیں اور میں چکرا کے نیچے گر پڑا اور نا جانے کس چیز سے میرا سر ٹکرایا اور میرا سارا چہرہ گرم خون سے بھر گیا۔ میرے کانوں میں میرا پیچھا کرنے والوں کی آوازیں آہستہ آہستہ واضح ہونا شروع ہو گئیں اور اسی دوران بارڈر سے فائرنگ کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا اور مشن کے فیل ہونے کے دکھ سے میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور میں بے ہوش ہو گیا۔
نا جانے میں کتنی دیر بے ہوش رہا ۔جیسے ہی ہوش آیا تو میں نے ہڑبڑا کر اٹھنے کی کوشش کی لیکن تکلیف کے باعث اُٹھ نا سکا اچانک میرے عقب سے باتوں کی آواز آئی ۔۔
ایجنٹ ایکس۔۔ مبارک ہو ۔۔تم اپنے ملک میں ہو اور تمہارا مشن کامیاب ہوگیا ہے ۔۔ہمیں تمہاری بہادری پر ناز ہے جس طرح تم نے اپنے مشن کو مکمل کیا ہے ملک و قوم کے ساتھ ساتھ تم نے اپنے خاندان کا نام بھی روشن کیا ہے۔
اور میں نے خوشی سے اپنے جذبات پر قابو پاتے اور لرزتے ہاتھوں سے گلاب کے پھولوں کا گل دستہ بیگم کو پیش کرتے ہوے کہا بیگم ویلنٹائن ڈے مبارک۔۔۔۔۔۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *