قربانی ایک تحقیقی مطالعہ(3)-انور مختار

قربانی کا تصور محض دین اسلام میں نہیں بلکہ دیگر الہامی اور غیرالہامی مذاہب میں بھی ہزاروں سال سے قربانی کا تصور رائج رہا ہے۔ کچھ مذاہب میں تو یہ سلسلہ اب منقطع ہوچکا ہے جبکہ اسلام سمیت کچھ مذاہب میں تاحال یہ جاری و ساری ہے۔ سیکڑوں سال قبل دنیا کے ناقابل رسائی جنگلات میں بہت سے مشرک قبائل حتیٰ کہ آدم خور قبائل بھی ان دیکھے دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے قربانی دیتے آئے ہیں۔بعض قبائل میں تو اس کے لیے انسان تک کی قربانی دی جاتی رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں اہل مصر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اچھی فصل کے لیے نیل کے دیوتا کو خوش کرنے کے لیے انسان، جو عام طور پر کوئی کنواری دوشیزہ ہوا کرتی تھی، کی قربانی دیا کرتے تھے۔ انڈونیشیا کے وحشی اور آدم خور قبائل کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ انسانوں کی قربانی دیا کرتے تھے۔جنوبی امریکا کے بہت سے جنگلی قبائل میں بھی اس امر کے اشارے ملتے ہیں کہ وہ ایسا کیا کرتے تھے۔ جانوروں کی قربانی تو مختلف مذاہب میں عام رہی ہے اور آج بھی دی جاتی ہے تاہم اس سلسلے میں حرام حلال جانور کی تمیز نہیں کی جاتی۔ہندو مت میں بھی مختلف دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے ’’بھینٹ‘‘ کا تصور موجود ہے۔قربانی کے لیے ضروری نہیں کہ ان مذاہب میں صرف جانوروں کو قربان کیا جائے بلکہ خوراک اور دیگر مختلف اشیاء کی شکل میں بھی قربانی دی جاتی ہے۔تاہم اس مضمون میں ہمارا بنیادی موضوع وہ قربانی ہے جس میں جان داروں کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔
قربانی کو مختلف مذاہب میں مختلف ناموں سے پکارا جاتا رہا ہے۔مثال کے طورپر ماقبل عیسائیت کے مختلف علاقائی مذاہب میں قربانی کے لیے جو نام استعمال کیے جاتے تھے ، ان میں ہندوئوں میں اسے ’’بھینٹ‘‘ اور ’یگیا ‘‘، یونانیوں میں ’’تھوسیا‘‘ ، جرمانی قبائل میں ’’بلوٹان‘‘ اور صیہونی یا عبرانی زبان میں ’’قربان‘‘ کہا جاتا تھا۔ جانوروں کی قربانی مختلف مذاہب میں دیوتائوں کو خوش کرنے اور موسم میں تبدیلی لانے کی استدعا کے طور پر دی جاتی تھی۔یہ قربانی لگ بھگ تمام مذاہب کے پیروکاروں جیسے عبرانیوں ، یونانیوں ، رومنوں ، قدیم مصریوں ، مایا، ایزٹک کے ہاں دی جاتی رہی ہے۔یونان کے دیہات میں رہنے والے عیسائی آرتھوڈوکس سینٹس کو خوش کرنے کے لیے جانوروں کو قربان کیا کرتے تھے اور یہ رسم ’’قوربانیا‘‘ کہلاتی تھی۔اگرچہ دیگر لوگ اس رسم سے ناخوش تھے تاہم بہرحال اس سلسلے میں رواداری کامظاہرہ کیا جاتا تھا۔
قربانی کے تصور کے حوالے سے اسکالر والٹر برکرٹ کہتے ہیں کہ یونانیوں میں قربانی کے تصور نے شکار کے عمل سے جنم لیا۔ شکاری اپنی خوراک کے لیے جانوروں کو شکار کرتے تھے لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس کرتے تھے۔ لہٰذا وہ قربانی کے عمل کے ذریعے کفارہ ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ایتھنز میں اس رسم کے دوران ایک بیل کو قربان کیا جاتا تھا۔ اس قربانی کا ہیرو کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے استعمال ہونے والا بیل ہوتا تھا۔اس بیل کو ویسے تو مارنا جرم تھا لیکن اسے ذبح کرکے ’’قربانی‘‘ کا اظہار کیا جاتا تھا اوراس کے بعد سب کو اجازت مل جاتی تھی کہ وہ اپنی خوراک کے لیے جنگلی جانوروں کا شکار کریں۔اس طرح یونان کی ریاست ایتھنز میں دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے سیکڑوں بیلوں کی قربانی دی جاتی تھی اور بعدازاں ان کے گوشت کو پکا کر دعوت کی جاتی اور سرکاری میلہ سجایا جاتا تھا۔
قدیم اسرائیل میں قربانی کا تصور واضح ہے۔بائبل کے افتتاحی ابواب میں قربانی کا صحیح صحیح طریقہ تک موجود ہے۔قربانی کے لیے جاندار اور بے جان دونوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ جاندارکی قربانی کے سلسلے میں انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ پہلے میں جاندار کو مکمل طورپر جلایا جاتا تھا۔دوسری میں جانور کو جزوی طور پر جلایا جاتا تھا اور باقی حصے کو مذہبی پیشوا کی خدمت میں نذر کردیا جاتا تھا۔ تیسری میں جانور کے کسی مخصوص حصے کو جلایا جاتا تھااور باقی کو کھالیاجاتا تھا۔اس قربانی کا مقصد خدا کو خوش کرنا اور اخلاقیات کا تعین کرنا تھا۔مندر ثانی (Second Temple)کی تباہی کے بعد سمیریوں میں قربانی کا تصور ختم ہوگیا۔زمانہ وسطیٰ کا یہودی فلسفی میمون کہتا ہے کہ قربانی کے مقابلے میں خدا عبادت اور مراقبے کو زیادہ ترجیح حاصل ہے تاہم وہ اس بات کو سمجھتا تھا کہ بنی اسرائیل قربانی کے عادی تھے خاص طور پر آس پاس کے مختلف مشرک قبائل اس کو خدا سے رابطے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ میمون کے مطابق یہ بات فطری تھی کہ اہل اسرائیل قربانی کو خدا اور انسان کے درمیان رابطے کا ضروری حصہ سمجھتے تھے۔خدا کی طرف سے انسانوں کو قربانی کی اجازت دراصل ان کی نفسیاتی محدودات کے حوالے سے ایک رعایت تھی۔یہ ایک قسم کا پہلا قدم تھا جس کے ذریعے امید کی جاتی تھی کہ بنی اسرائیل مشرکانہ پوجا پاٹ چھوڑ کر عبادت اور مراقبے کی طرف آئیں گے۔
عیسائیت میں قربانی کا تصور اور بائبل میں حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے بیٹے کی قربانی کے واقعے کو بائبل کے مطابق خدا تعالیٰ دیکھنا چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایمان کس قدر پختہ ہے، اس مقصد کے لیے انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی دیں(حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی کے بارے میں ہمارے اسلامی لٹریچر میں بھی بہت سی روایات موجود ہیں مثلاً امام قرطبی نے آیت 37:102 کے ذیل میں ان صحابہ اور تابعین اور علماء کا ذکر کیا ہے جو کہ اسحاق کے ذبیح اللہ ہونے کے قائل تھے یہ 7 صحابہ تھے: (1) ابن عباس (2) علی ابن ابی طالب (3) عبداللہ ابن مسعود (4) جابر (5) عمر بن الخطاب (6) ابو ہریرہ (7) عباس بن المطلب جبکہ تابعین یہ تھے: (1) علقمہ (2) شعبی (3) مجاہد (4) سعید بن جبیر (5) کعب الاحبار (6) قتادہ (7) مسروق (8) عکرمہ (9) قاسم بن ابی بزہ (10) عطا (11) مقاتل (12) عبدالرحمن بن سابط (13) زہری (14) سدی (15) عبداللہ بن ہزیل (16) امام مالک بن انس جبکہ نحاس اور طبری جیسے بے تحاشہ علماء نے بھی اسحاق کو ہی ذبیح اللہ قرار دیا تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اسحاق کی قربانی تو شام (بیت المقدس ) میں ہوئی تھی، تو پھر دنبے کو منیٰ میں کیسے قربان کیا گیا؟ چنانچہ اس کے لیے یہ احادیث ہیں کہ کہ اللہ نے معجزے کے ذریعے ایک ہی رات میں ابراہیم کو بیت المقدس سے مکہ پہنچا دیا (بمع جنت سے آنے والے دنبے کے) اور انہوں نے منیٰ کے مقام پر پھر اس دنبے کو ذبح کیا۔ امام قرطبی آگے اس آیت 37:102 کے ذیل میں یہ روایت نقل کرتے ہیں
قال سعيد بن جبير: أُرِيَ إبراهيمُ ذبح إسحاق في المنام، فسار به مسيرة شهر في غداة واحدة، حتى أتى به المنحر من مِنىً فلما صرف اللّه عنه الذبح وأمره أن يذبح الكبش فذبحه، وسار به مسيرة شهر في رَوْحة واحدة طويت له الأودية والجبال. وهذا القول أقوى في النقل عن النبي صلى الله عليه وسلم وعن الصحابة والتابعين.
ترجمہ:
سعید بن جبیر نے کہا : مجھے خواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دکھائے گئے آپ قربان گاہ میں آئے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ماہ کی مسافت ایک دن میں طے کرائی یہاں تک کہ منی میں مینڈھے کو ذبح کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس مینڈھے کو ذبح کیا آپ نے ایک ماہ کی مسافت ایک رات میں ممل کی آپ کے لئے وادیاں اور پہاڑ لپیٹ دیئے گئے تھے ‘ یہ قول نبی کریم ‘ صحابہ اور تابعین سے قوی طریقے سے نقل ہوا ہے۔
پھر امام قرطبی نے ان صحابہ کا نام ذکر کیا ہے جن سے مروی ہے کہ ذبیح اللہ اسمعیل تھے۔
یہ 4 صحابہ ہیں، جن کے نام یہ ہیں: (1) ابوہریرہ (2) ابو طفیل عامر بن واثلہ (3)عمر ابن خطاب (4) ابن عباس۔ جبکہ جن تابعین نے اسمعیل کو ذبیح اللہ بتایا ہے، ان کے نام امام قرطبی نے یہ نقل کیے ہیں: (1) سعید بن مسیب (2) شعبی (3) یوسف بن مہران (4) مجاہد (5) ربیع بن انس (6)محمد بن کعب قرظی (7) کلبی (8) علقمہ آخر میں امام قرطبی اپنا فیصلہ سناتے ہوئے لکھتے ہیں
والأوّل أكثر عن النبي صلى الله عليه وسلم وعن أصحابه وعن التابعين.
ترجمہ:
پہلی تعبیر (یعنی اسحاق کا ذبیح اللہ ہونا) نبی کریم ‘ صحابہ کرام اور تابعین سے بہت زیادہ سندوں کے ساتھ منقول ہے۔
ایک اور مزیدار بات نوٹ کیجئےؒ: صحابہ میں ابن عباس اور عمر ابن خطاب سے دونوں ہی چیزیں منقول ہیں ، یعنی وہ دونوں کچھ روایات میں اسحاق کو ذبیح اللہ کہہ رہے ہیں، جبکہ کچھ روایات میں اسمعیل کو ذبیح اللہ کہہ رہے ہیں۔
یہی حال تابعین میں سعید ابن مسیب ، شعبی، مجاہد اور علقمہ کا ہے جو کہ کچھ روایات میں اسحاق کو ذبیح اللہ کہہ رہے ہیں، جبکہ کچھ روایات میں اسمعیل کو) بحرحال حضرت ابراہیمؑ کا ایمان مضبوط تھا اس لیے انھوں نے فوری طور پر خداتعالیٰ کے حکم کے آگے سرخم تسلیم کرلیا۔حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کی قربانی دے رہے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے رحم کیا اور قربانی میں ان کے بیٹے کی جگہ مینڈھا ظاہر ہوگیا جس کی انھوں نے قربانی دی اور یوں حضرت اسحاق کی جان بچ گئی۔ رومن کیتھولک چرچ ، مشرقی آرتھوڈوکس چرچ کے ساتھ ساتھ ہائی چرچ اینجلیکن اور عیسائیت کے دیگر فرقوں میں بھی اس عمل کو قربانی کے طوپر دیکھا جاتا ہے۔بائبل میں اس قربانی کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ موجود ہے۔
ہندو مت میں قربانی کا تصور غیر جاندار کی قربانی سے وابستہ ہے۔ ہندو مت میں قربانی کے لیے کسی جاندار کو استعمال کرنے کی روایت نہیں۔ البتہ خوراک کی نیت سے ذبح کیے گئے جانور کا گوشت یا دیگر اعضا قربانی کے لیے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ہندو مت میں قربانی عبادت کے ساتھ ہی منسلک ہے۔ سنسکرت میں ’’یگیا‘‘ کا لفظ ہے جسے ترجمہ کرنے کی صور ت میں ’’قربانی‘‘ کا لفظ ہی سامنے آتا ہے۔قربانی کے لیے گھی ، اناج ، مصالحوں اور لکڑی وغیرہ کو آگ میں پھینکا جاتا ہے۔اس موقع پر منتر اور اشلوک پڑھے جاتے ہیں۔ آگ دیوی اگنی کہلاتی ہے جو کہ اس قربانی کو لے کردیوتائوں کے پاس جاتی ہے۔ ویدوں کے زمانے میں یگیا کے لیے عام طورپر دودھ ، ملائی ، گھی ، اناج اور کچھ پودوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ جانوروں کی قربانی نہیں دی جاتی تھی۔ جدید زمانے میں یگیا کا عمل شادیوں اور تدفین کے علاوہ ذاتی پوجا پاٹ کے دوران بھی کیا جاتا ہے۔
جاری ہے

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply