کمانڈو بابو اور سول سروس آف پاکستان (1947-2018)۔۔عارف انیس ملک

کیا سول سروس آف پاکستان مر چکی ہے یا نزع کے عالم میں ہے؟اگر میرے بس میں ہو تو یہ کتبہ بیوروکریسی کی قبر پر آویزاں کردینا چاہیے. ویسے سول سروس کب کی دم توڑ چکی ہے، باضابطہ تدفین کا وقت اب آیا چاہتا ہے. گورکنوں میں ہم خود اور خاکی بابو شامل ہیں.

1947 میں جب یہ ملک بنا تو بانی پاکستان نے بہت واضح الفاظ میں بتلا دیا کہ پاکستانی سول سروس کو کیسا ہونا چاہیے. تاہم ان کی رحلت کے ایک سال بعد ہی ہم اسٹیبلشمنٹ کے طور پر اقتدار کے کھیل میں، کھلاڑی بن گئے. یہ کھیل لیاقت علی خان کے قتل، غلام محمد کے عروج کے بعد اس وقت اختتام کو پہنچا جب خاکی بابؤں نے ہم ٹائی  کوٹ والوں کو شطرنج سے نکال باہر کیا. ظاہر ہے ٹینکوں اور توپوں کا مقابلہ صرف دماغ سے کرنا ناممکن تھا، جو بازار سے بارعائت دستیاب تھے. تب سے ہم اس کھیل میں سیاست دانوں اور فوجیوں کے ‘پوڈل’ کے طور پر شریک ہیں. اولین دور کی داستان خودساختہ صوفی قدرت اللہ شہاب کے طلسم ہوش ربا، شہاب نامے میں پڑھی جاسکتی ہے.

ستر سالہ تاریخ میں بیوروکریسی کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کا کام  ذوالفقار علی بھٹو نے سرانجام دیا جب بیوروکریٹ کے سر سے آئینی تحفظ کی چادر اتار دی گئی. اب بیوروکریٹ ‘یس مین’ تھا. اسے ہر صورت میں ماسٹرز کو خوش رکھنا تھا. اپنی تعلیم، ذہانت، چابکدستی کو خاکی یا آبی حکمرانوں کے دوام کے لیے استعمال کرنا تھا. جس نے ایسا کیا، اس کا اقبال بلند ہوا، اس کا منہ ہیروں سے بھر دیا گیا، باقی محض نوکری کرتے رہ گئے.

مسلم لیگ نواز شریف کا پنجاب اور وفاق میں تیس سالہ اقتدار اور زرداری ٹولے کا عروج ریڑھ کی  ہڈی کے بغیر والی بیوروکریسی کی باضابطہ موت تھی. اس عرصے میں بیوروکریٹس کا پالتو جتھا پالنے کا رواج عام ہوا. لاہوری، کشمیری ہونا اور ‘باس’ کے لیے قانون کی ناک کو موڑنا، حتی کہ خون کی ندیاں بہا دینا بھی معمول ٹھہرا. ‘رینٹ اے بیوروکریٹ’ سروس کا آغاز ہوا. سی ایس ایس کے پل صراط سے گزرنے والوں کو اب ایک اور مقابلہ بھی درپیش تھا. یہ مقابلہ اپنے ضمیر اور روح کے سودے کا تھا، جس میں ہمارے ڈی ایم جی اور پولیس سروس کے دوست عموماً سب پر سبقت لے جاتے. مستثنیات موجود رہیں لیکن تقریباً ہر اس افسر کو نشان عبرت بنا دیا گیا جس نے   ذراسی چراند بھی کی یا کوشش کی۔۔۔۔

‘انگلی کی حکومت’ میں، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو عضو معطل بنا کر ڈی سی سے لے کر ایس ایچ او لیول تک اپنی مرضی چلائی گئی. گریڈ بائیس کے افراد کو منشی بنا لیا گیا. حکمرانوں نے ‘انڈر 18’ ٹیم بنالی. سول سروس اکیڈمی سے نکلنے تازہ تازہ گریڈ اٹھارہ کے چوزوں کو ڈپٹی کمشنریاں، کمشنریاں آفر کی گئیں اور ‘لیتھل کلرز کمانڈو بابوز’ کا گروہ تیار کرلیا گیا جو کسی بھی حد تک جاسکتا اور کسی بھی رکاوٹ کو عبور کرسکتے تھا. ہمارے ڈی ایم جی اور پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے دوست پھر بازی لے گئے. گو کمانڈوز ان کی بھی پوری تعداد کا کوئی بیس فیصد ہوں گے، باقی تو حسرت سے ان کو دیکھتے ہیں. بیوروکریسی کو جیب میں ڈالنے کے لئے کرپشن کو قانونی شکل دے دی گئی. آج جب بائیسویں گریڈ میں کچھ لوگ تیس سالہ سروس کے بعد ڈیڑھ لاکھ تنخواہ لے رہے ہیں تو گریڈ اٹھارہ میں آٹھ دس سال کی سروس والے پندرہ سے پچیس لاکھ ماہانہ تنخواہ بھی باعزت طریقے سے وصول کر رہے ہیں.

بیوروکریسی کی اکثریت باضمیر اور محنتی افسران پر مشتمل ہے، جنہوں نے اس سرزمین بے آئین پر کسی نہ کسی طرح قانون کی حکمرانی برقرار رکھی مگر ہم اکثر اپنے سپہ سالاروں کے ہاتھوں بیچ دیے  گئے. ان ستر سالوں میں پاکستانی عدلیہ اور افواج پاکستان کی طرح سول سروس آف پاکستان تاریخ کی غلط سمت میں کھڑی رہی ہے. ہم میں سے بہت سے زورآوروں کے ساتھ دودھ سوڈا ہوگئے اور ہم نے پاکستان کے ساتھ ایک مقبوضہ علاقے کا سلوک کیا. ہم نے قانون کی حدبندی کرنے کی بجائے، طاقتوروں کی خواہش پر ساری حدیں پار کرلیں. ہم نے گاڑیوں، گھروں، مال، پانی اور اختیار والی پوسٹنگز، اور ششکے کے لیے فرعونوں کے دربار میں سرنڈر کردیا. کھیت کی باڑھ ہی کھیت کو کھا گئی . آج جب ہم اپنے ساتھ کسی زیادتی پر  باہر نکلیں گے تو شاید ہمارے ساتھ کوئی نہیں نکلے گا، کیونکہ ہمارے نامہ اعمال میں ایسا کوئی عمل نہیں ہے. ہمیں کرائے کا قاتل بننے پر شرم آنی چاہیے. کم ازکم میں اس پر شرمسار ہوں.

ملک مہر دین ، مقابلے کا امتحان پاس کر کے شہر لاہور میں ایک عہدہ ء جلیلہ پر فائز ہوئے۔۔ سرگودھا سے ایک عزیز ان کے دیدار کے سلسلے میں لاہور آیا۔ سٹیشن سے ملک صاحب کا پوچھا تو ایک وسیع جنرل نالج والے قلی نے بتایا کہ نہایت گھٹیا، ذلیل اور نا معقول آدمی ہیں ۔ بہرحال آپ کو ملنا ہے تو جی پی او چوک سے سیکریٹریٹ کو چلے جانا۔

چوک کے سپاہی سے پوچھا تو فرما یا کہ سو رذیل مریں تو ایسا خبیث پیدا ہوتا ہے۔۔۔ اور سیکریٹریٹ کا رستہ دکھا دیا۔۔ گیٹ پر اہلکار نے کہا کہ ملک صاحب کو دیکھتا ہوں تو ضبط_تولید سراسر درست معلوم پڑتا ہے اور کمرے کی راہ دکھا دی۔۔ چپڑاسی نے بھی کہا کہ بہت ہی واہیات آدمی ہے ۔۔

اندر گئے ۔ چائے پی۔ گپ شپ ہوئی ۔ مہمان نے پوچھا کہ ماشااللہ اختیار تو بہت ہے۔ تنخواہ کتنی ہوگی۔۔

ملک صاحب گلا کھنکار کے بولے ۔۔ یار تنخواہ تو تھوڑی ہے۔ بس عزت کی خاطر نوکری کر رہا ہوں۔۔

تقریباً ہم سب بیوروکریٹس تھوڑے بہت فرق سے ملک مہر دین ہیں.

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کمانڈو بابو اور سول سروس آف پاکستان (1947-2018)۔۔عارف انیس ملک

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *