تارکینِ وطن کی کشتی سے لاپتہ آبدوز تک/محمد وقاص رشید

بابا ! ایک دفعہ یورپ پہنچ گیا ناں تو وارے نیارے ہو جائیں گے۔ آپ زندگی بھر اپنے گھر کا خواب دیکھتے رہے آپکا یہ خواب میں پورا کروں گا دیکھنا۔ انشاللہ دو سال کے اندر اندر ایک کوٹھی بنوا کر دونگا آپ کو۔ آپکو پتا ہے ناں ایک ڈالر اب تو تین سو کے لگ بھگ ہے۔ آپ خود سوچیں اگر وہاں سے ہزار ڈالر بھی بھیجوں تو یہاں کے کتنے بنتے ہیں۔ تین لاکھ ابّا تین لاکھ۔
ماں اب رونے کے دن گئے۔ بس یورپ پہنچ جاؤں ایک بار، تیری آنکھیں بنواؤں گا اور تیرے جو کڑے  بیچے ہیں نہ ماں یہ تو تو کیا اس سے زیادہ تولے کے پہلے تین مہینے ہی میں بنوا کر دونگا انشاللہ۔
ماں ! بہن کی شادی دھوم دھام سے ہو گی۔ جہیز میں ہر چیز دوں گا ہر چیز۔ اسکے سسرال والوں کو کہہ دے بس سال ڈیڑھ دے دیں پھر دیکھیں۔ اور یہ جو قرضہ لیا ہے نہ یہ بھی اتار دوں گا رب کے فضل سے۔
بوڑھی آنکھوں نے دور جاتے بیٹے کو دیکھا تو آنسوؤں سے اندر موجود موتیا کھلنے لگا منظر دھندلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا ! میرا تو مارے تجسس کے برا حال ہے۔ زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر ہو گا۔ آپ کو پتا ہے کہ جب ٹائی ٹینک فلم آئی تھی تو میں نے تب سوچا تھا کہ کاش زندگی میں ایسا موقع ملے کہ حقیقی ٹائی ٹینک بھی دیکھ سکوں اور اب آپ میری یہ خواہش پوری کرنے جا رہے ہیں اور وہ بھی اپنے ساتھ۔ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا ایڈونچر ہونے جا رہا ہے۔ بابا آئی لو یو کہ آپ نے میری خواہش پر پانچ لاکھ ڈالر خرچ کیے۔ پانچ لاکھ ڈالر۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کشتی کے انجن کو نہ جانے کیا ہو گیا۔ اے خدا مدد فرما۔ کسی بھی طرح سے یہ انجن ٹھیک ہو جائے۔ یاب مجھے ماں کی آنکھیں بنوانی ہیں ۔ بابا کو گھر بنا کر دینا ہے۔ بہن کی شادی کرنی ہے۔ مالک میں یورپ نہ پہنچ سکا تو قرضہ کیسے واپس ہو گا۔ ماں کا سارا زیور میں نے بیچ دیا۔ ماں باپ بہت یاد رہے ہیں یا الہی رحم فرما۔ او خدایا ۔ او مالک ۔ او پروردگار ۔ رحم فرما۔ یہ تو کشتی ڈوب رہی ہے۔ تو کیا میں مرنے والا ہوں ؟ نہیں یا اللہ تجھے تیری رحمت کا واسطہ تیرے حبیب کا صدقہ۔ کوئی غیبی مدد فرما۔ یہ تو کشتی الٹ گئی۔ میں ۔ ں ۔ ں ۔ں ۔میرے خواب۔ بابا ۔ ماں ۔ بچاؤ ۔۔۔یااللہ۔۔۔۔ر ر ر حم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا ۔ آئی ایم سو ایکسائیٹڈ۔ چند ہی لمحوں میں ہم ٹائی ٹینک کے ملبے کو دیکھ پائیں گے۔ کیا شاندار ایڈونچر ہونے جا رہا ہے۔ بابا یہ سیف تو ہے ناں ؟۔ ویسے میں نے پڑھا ہے کہ سب میرین میں ایسا خودکار نظام نصب ہے کہ اگر اسکا اپنے بحری جہاز کے کنٹرول سے رابطہ منقطع بھی ہو جائے تو یہ فوری طور پر سطح پر آنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بابا ! یہ کیا ہو رہا ہے بابا ؟۔۔۔ یہ آواز کیسی ہے آبدوز کی دیواریں سکڑنے کیوں لگیں۔ یہ پچکنے کیوں لگیں۔ بابا ! کیا ہم مرنے والے ہیں۔ بابا ! او خدایا ایسا تو سوچا بھی نہیں تھا۔ بابا آپکی گود میں زندگی کا آغاز ہوا تھا آپ ہی کی آغوش میں م م م م ووو ت ت ت۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی بھی عجیب کتھا ہے یہ دنیا بھی عجیب کہانی۔ یہ دو مختلف نہیں بلکہ متضاد زندگیاں گزارتے خاندانوں کی دردناک داستان ہے۔ ایک جانب پاکستان کے امیر ترین لوگ اور دوسری جانب غریب۔ آنکھوں میں خواب مختلف مگر یہ خواب زندگی نہیں موت سے تعبیر ہوئے۔ موت ایک اٹل حقیقت۔ ایک طرف سستی تو دوسری جانب مہنگی مگر آخر فنا۔ پر فراز صاحب نے کہا تھا “خواب مرتے نہیں ” ہاں سچ ہے انسان مرتے ہیں انکے خواب نہیں۔ سمندر اجتماعی قبر بنانے والوں کے خواب زندہ ہیں۔ خدایا مغفرت الہی بخشش۔۔۔
پسِ تحریر ! ایک خواب طالبعلم کا بھی ہے کہ سمندر کے اجتماعی قبر بننے کی بجائے یہ سرزمین امیر و غریب کی اجتماعی دھرتی بن سکے۔ جہاں غریبوں کو نہ تو غیر قانونی تارکینِ وطن بنتے ہوئے یوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑیں اور نہ ہی ان مہنگی اموات پر اپنی بھڑاس نکالنی پڑے۔ موت تو ہر کسی کو آنی ہے موت قطعی طور پر ایسا موقع نہیں کہ مرنے والے کی دولت پر طعنہ زنی کی جائے دوسرا یہ تو پھر وہ خاندان ہے جسکی دولت کے اثرات صنعت کی صورت عام آدمی تلک پہنچتے ہیں لیکن اس وطن کے فیصلہ سازوں کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ امیر و غریب میں فاصلہ بڑھتے بڑھتے واقعی اتنا بڑا سمندر نہ بن جائے کہ یہ پوری قوم کی اجتماعی قبر بن جائے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply