حادثے روز راہزنوں کی طرح سرراہ مسافروں کا انتظار کرتے ہیں ۔اپنی ذات کی تسکین انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ چھپ کر وار کرے اور زنجیروں کی کھنک سے عقوبت خانوں کو آباد رکھے۔ انسان محبت کرنے کےلیے وجود میں آیا تھا۔ اسے تو اپنے سجدوں میں محبت کی آمیزش کرنا تھی۔ وہ کسی اپنے جیسے کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر خدا کی محبت کا طلبگار کیسے ہو سکتا ہے ۔ مرتبہ ملتے ہی مرتبت بھی عطا نہیں ہو جاتی۔ یوں ہوتا نہیں کہ خواب ، جیسے ہی آنکھ کھل جائے اسی وقت حقیقت میں بدل جائے۔ آنکھ کھل جائے تو سب خواب ہے ؛ بند ہو جائے یہی حقیقت ہے۔ دنیا کی بےثباتی کا پتہ چل جائے تو انسان نہ شاخ دل پر بیٹھے پرندوں کو اڑا سکتا ہے اور نہ اس کی آواز کا باد نسیم کی سرسراہٹ سے اونچا ہونا ممکن ہے۔
لفظ گمان کے افق سے طلوع ہوتے ہیں اور سنگریزوں کی طرح ہر سو بکھر جاتے ہیں ۔ ہر سنگ پر کسی امنگ کا نام لکھا ہے۔ زندہ رہنے کی امنگ سر اٹھاتی ہے مگر زندگی انسان کو مار دیتی ہے۔ انسان اپنی تنہائی میں گر کر مر جاتا ہے ۔ جب جینے کی امنگ جسم میں باقی نہیں رہتی تو جاں بھی بکھر جاتی ہے۔ خواہش کی ایک چنگاری ہستی کو سرد نہیں ہونے دیگی۔ مراد جب تک پوری نہیں ہوتی، زندہ رہتی ہے۔ آس کو حیات جاوداں کےلئے کسی نہ کسی کا ساتھ چاہیئے ۔ بدن روح کے بغیر کچھ نہیں اور روح کا منتظر کوئی نہیں تو وہ خود بھی کچھ نہیں ۔ منتظر ہمیشہ تنہا نہیں ہوتا۔ جو ہمیشہ موجود ہو، تنہا وہی رہتا ہے کہ اسے انتظار نہیں ہوتا۔ انسان اسی لیے مر جاتا ہے کہ وہ ایک نہیں رہ سکتا ۔ تنہا صرف خدا کی ذات ہے؛ سارے امکان ایک گرداب میں ہیں مگر اسے کسی امکان سے کوئی غرض نہیں ؛ سب اس کی طرف نگاہ کیے ہوئے ہیں اور وہ خود کسی کا منتظر نہیں؛ سب اس کی طرف لوٹنے والے اور وہ وہاں ازل سے موجود ہے جہاں سے اس کی ابدی تنہائی کبھی شروع ہوئی تھی۔
جس محبت سے ہاتھ تھاما گیا ہو ، وہ گداز چراغ کی لو بڑھا دیتا ہے۔ وقت رخصت آنکھیں ہمیشہ کچھ کہہ رہی ہوتی ہیں ۔ مصور جب لکیر کھینچتا ہے تو آنکھوں میں محبت بھر دیتا ہے۔ رنگ و روغن سے نقش و نین بنائے جائیں تو صورتیں پنہاں اور فقط صورت گری پہ تکیہ ہو تو ناز و انداز نہاں۔ مگر وہ سب جو سامنے رہتا ہے اور وہ تمام جو وہ نہیں دیکھنا چاہتا؛ اسے معلوم ہو جاتا ہے۔ لب بام عرش اگر چھلک گیا تو قیامت آ سکتی ہے؛ گر نام لب پر آگیا تو کیا نہیں ہو سکتا۔ خلق خدا سے قربت کا راز خدا کے طریق میں ہے۔ جو جس شئے کا طلبگار ہو، اسے وہ دے دو۔ جہاں محبت کی ضرورت ہے، اس زمین میں گل کاشت کرنے میں تاخیر نہ کر اور گر طلب راسخ ہو تو جلدی کی ضرورت نہیں ۔ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جو آنکھیں خیرہ کر دیتا ہے، اسی کے ہو جاو کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ گر بھی نہیں، دم ساز بھی نہیں۔ راستہ یہی ہے کہ یا وہی بن جاو یا اسی جیسے ہو جاو۔ خیال رہے ؛ دست سوال دراز رہے، اور ہمیشہ انتظار رہے کہ کون کب آنکھ جھپکتا ہے اور کون کس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔
شنید ہے کہ شب آرزو میں ایک ایسا لمحہ بھی آتا ہے کہ جس میں، میں نہیں رہتا اور وہ، وہ نہیں رہ سکتا۔ رشک آتا ہے جب کوئی کسی کےلئے چلمن سے جھانکتا ہے؛ خدایا، تو کہاں ہے؟ دعا کےلیے ضروری تو نہیں کہ لب پھڑپھڑائے جائیں ؛ کسی کے بارے میں صرف سوچنا بھی دعا بن جاتا ہے۔ جب کوئی گڑگڑاتا ہوا بدنصیب کسی فاخر کی رعونت کے بوجھ تلے کچل دیا جاتا ہے تو پھر سماع و وداع کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ مخلوق پر ظلم کر کے کوئی خدا کی محبت نہیں جیت سکتا۔ آسمان کے پردے بھی تب چاک ہوتے ہیں جب کوئی نور کی تمنا کرتا ہے۔ شب دیجور میں زلفوں کا سہارا خوابوں کو تو معطر کر دے گا مگر صبح ناتواں نادم ہو کر دریچوں سے جھانکے گی اور جب اسے کوئی جاگتا نظر نہیں آئے گا تو بدلیوں کی اوٹ میں سسک سسک کر روئے گی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ابر برستا ہے؛ وہ تو معاملہ کچھ اور ہے۔ دینے والا دروازے پر آ کر کھڑا رہے اور کوئی دروازہ کھول کر بھی نہ دیکھے تو کیا اس پر بھی قدرت کف افسوس نہ ملے؟
بستیاں کھنڈر بننے کی آس میں آباد رہتی ہیں۔ ان کا انتظار انہیں شکستہ کر دیتا ہے ۔ ان کی امید لوگوں کو اپنے اصل کی طرف لوٹنے پر مجبور کرتی ہے ؛ لوٹنے والوں کو علم نہیں ہوتا کہ ان کا راستہ دیکھنے والا بھی کوئی ہے کہ نہیں۔ وہ بھی کسی نہ کسی آس پر لوٹتے ہیں۔ ان کی آس انکے قدموں کو تیز رکھتی ہے۔ ان کا یقین انہیں مسمار نہیں ہونے دیتا۔ ایک جگہ کھڑے ہو کر انتظار کرنے میں اور لوٹ کر آنے میں یہی فرق ہے۔
زمانہ اپنی بات اب کہہ چکا ہے ۔ تمہیں کچھ اور سننا ہے تو اپنی خاموشی سے کچھ کشید کرو۔ کہنے سننے کا عمل ایک لامتناہی سلسلہ ہے، اس کا کوئی آخر نہیں ۔ اس بات کا فیصلہ خود کیا جاتا ہے کہ آپ نے کب تک سننا ہے۔ کسی کو کچھ کہنا آپ کے بس کی بات نہیں۔ جو حکم ہوتا ہے، وہی زبان سے نکل سکتا ہے۔ کبھی بات سر اٹھانے کی بابت کی جاتی ہے اور کبھی سر کٹانے کےلیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ انسان کی اپنی سکت نہ سر اٹھانے کی ہے اور نہ سر جھکانے کی؛ اسے تو اپنی ریت پر اپنی لہروں کےلئے اپنا نام لکھنا ہے اور وہاں سے اٹھ جانا ہے۔ پانی کے ساتھ ساتھ چلتے رہنے سے ساحل کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بستیاں دریاوں کے کنارے اس لیے آباد ہوتی تھیں تاکہ وہ ریت پر ننگے پاوں اگلے پانیوں کی جانب بڑھتی رہیں۔ یہاں کسی بستی کا اپنا دریا نہیں ہوتا۔ یہاں ہر دریا ہمارے اندر بہتا ہے؛ وہ کبھی ہمیں ساحل پر اچھال دیتا ہے اور کبھی غرقاب کر دیتا ہے۔
زمانے کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہ ہماری سوچ ہے جو ہمیں دیواروں میں مقید کر دیتی ہے۔ زمانے کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی؛ یہ ہماری دیواریں ہیں جو وقت کو دریوزہ گر بنا دیتی ہیں ۔ سوچ کبھی دروازوں کے پیچھے بند نہیں رہ سکتی اور دیواریں کبھی کسی کو ہمیشہ کےلئے اپنا مکین قرار نہیں دے سکتیں۔ سرحد صرف اس شخص کےلئے ہے جو سوچ سے عاری ہے۔ قیام اس شخص کے نصیب میں ہے جو فیصلہ کر چکا ہے کہ قدم اسے کہیں نہیں لے جا سکتے۔ جو زمانے کی رفتار سے آگے نکل گیا، اسے کس جفا کا ڈر اور کس وفا کی خبر ؟ محبت اس لیے محترم ہے کہ سامنے رہتی ہے۔ عقیدت صرف ایک دو نسلوں تک ساتھ دیتی ہے۔ احترام کا احوال کچھ صدیوں تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر وہ وقت ضرور آتا ہے جب سوچ کو ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ خیال زماں و مکان نہ بدلے تو زمین کے سینے پر مقبرے کوڑھ کی طرح ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ منطق کسی کی حد اصغر کو ملقب کرنے سے قاصر ہے۔ کوئی موضوع حد اکبر کی تلقیب نہیں کر سکتا۔ صرف محبت ہے جو حد ادب کو بیان کر سکتی ہے۔

جب لوگوں پر ان کی اپنی سوچ واضح ہو جاتی ہے تو وہ ڈر جاتے ہیں ۔ سوچیں مستحکم ہوں تو محبت میں بدل جاتی ہیں اور متزلزل ہوں تو مصیبت ؛ خیالات اپاہج ہوں تو نفرت کا روپ دھار لیتے ہیں اور اعتماد ان کا سہارا ہوں تو تاثیر و تقلید کی عقیدت سے لپٹ جاتے ہیں ۔ جہان کار خیر میں ایک خیال سے نظام متاع و مطیع بدل جاتا ہے۔ زمان شر ، پریشان خیال لوگوں کی توجہ سے رواں رہتا ہے۔ اپنی وقعت اپنے آگاہ ہونے میں ہے؛ جب تک محمول کسی بابت جانتا نہیں، اس کی کسی تعدیل ، کسی تردد ، کسی تمدید کی کوئی اہمیت نہیں ۔ انسان کا ہر علم صرف ایک نقطے پر آ کر رک جاتا ہے کہ اس کے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اس بے بسی اور بے اختیاری کے عالم میں انسان جو فیصلے کرتا ہے، وہ محبت کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ محبت ہماری سوچ کو ہمیشہ واضح کرتی ہے اور اسی لیے ہم محبت سے ڈرتے ہیں۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں