سینیٹ الیکشنز کیا واقعی ٹرمپ کارڈ ہیں؟۔۔شاہداقبال خان

ہر طرف این آر او کا تذکرہ ہے اور یہ سوال بھی  بہت سے دوستوں نے پوچھا کہ کیا واقعی تحریک انصاف کو سینیٹ الیکشنز کو زندگی موت کا مسلہ بنا لینا چاہیے؟اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں سینیٹ کا نظام بتانے کے لیے آپ کا کچھ وقت لوں گا۔ سینیٹ  کی کل 104 نشستیں ہیں جن میں سے 23,23 اراکین ہر صوبائی  اسمبلی منتخب  کر کے بھیجتی ہے۔ 8 اراکین کو فاٹا کے ایم این  ایز منتخب کرتے ہیں جبکہ چار مخصوص نشستوں پر وفاقی حکومت کی طرف سے نامزدگی ہوتی ہے۔اگر موجودہ اسمبلیاں برقرار رہتی ہیں تو فارمولا کے مطابق مسلم لیگ ن کو 35 کے قریب، پی پی اور تحریک انصاف کو13,13 جبکہ ایم کیو ایم کو 7  نشستیں ملیں گی۔ باقی نشستیں چھوٹی چھوٹی صوبائی  جماعتوں میں تقسیم ہو جائیں گی!

سینیٹ کی اہمیت کیا ہے؟

وفاقی حکومت کوئی بھی بل لے آئے اور اسے قومی اسمبلی سے منظور بھی کرا لے تو بھی اس کی اس وقت تک کوئی حیثیت نہیں جب تک کہ سینیٹ اسے پاس نہ کرے۔ ہاں اگر حکومت کے پاس سینیٹ میں کم نشستیں ہوں تو وہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا جوائنٹ سیشن بلا کر دونوں اسمبلیوں کے کل 446 اراکین کی ووٹنگ کروا سکتی ہے جس میں حکومت کوبل کی منظوری کےلیے کل 224 ووٹ درکار ہوں گے. اب مسلہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں دوتہائی  اکثریت ہو گی تو یہ 224 کا نمبر پورا ہو سکے گا نہیں تو بل کی منظوری کو بھول جائیے  اور اگر مثال کے طور پر حکومت کے پاس قومی اسمبلی اور سینیٹ کے رکن ملا کر 224 کی تعداد پوری ہو جاتی ہے تو بھی اسے بنیادی قانون میں ترمیم کے لیے سینیٹ سے الگ منظوری لینا پڑے گی۔

اب اگر ہم فرض کرتے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشنز  اسی اسمبلی سے مارچ میں ہو جاتے ہیں  اور 2018  ، جولائی  میں تحریک انصاف 50 فیصد نشستیں جیت کر وفاقی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو تحریک انصاف کے پاس قومی اسمبلی میں 172 نشستیں جبکہ سینیٹ میں 13 نشستیں ہوں گی یعنی کل ملا کر 185 نشتیں۔ چلیں اگر تحریک انصاف کچھ اور جماعتوں کو بھی ساتھ ملا لیتی ہے تو تعداد زیادہ سے زیادہ 210 تک پہنچ جائے  گی  اور  پھر  بھی  مطلوبہ  نمبر  پورا  نہیں  ہو گا۔  یعنی تحریک انصاف کو بل کی منظوری کے لیے پی پی، جمعیت یا ن لیگ کے پاؤں  پڑنا پڑے گا اور وہ حکومت کو جامد کر دیں گی۔ تحریک انصاف کی حکومت بجٹ بھی منظور نہیں کرا سکے گی۔ یعنی کہ  عمران خان کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو جائے گی۔

دوسری طرف اگر تحریک انصاف سینیٹ الیکشنز کو عام انتخابات تک ملتوی کرانے میں کامیاب ہو جائے  تو الیکشن میں صرف سادہ اکثریت حاصل کرکے بھی تحریک انصاف سینیٹ الیکشن میں 40 کے قریب نشستیں جیت جائے  گی اور قومی اسمبلی کی 172 نشستیں ملا کر ان کی مجموعی نشستوں کی تعداد 212 ہو جائے گی اوراس کے بعد  کسی چھوٹی جماعت سے اتحاد کے ذریعے حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی سے با آسانی بل پاس کروا سکے گی۔ حکومت کی بیساکھیاں ختم ہو جائیں گی۔

اس لیے ثابت ہوا کہ یہ سینیٹ الیکشنز تحریک انصاف کے لیے ٹرمپ کارڈ اور زندگی موت کا مسئلہ ہیں اور انہیں ہر حال میں یہ الیکشنز رکوانے چاہییں  اور اس کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دینا چاہیے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔ دوسرا طریقہ کے پی اسمبلی کو فروری میں تحلیل کر دینا ہے کیونکہ اگر ایک بھی صوبائی  اسمبلی تحلیل ہوئی  تو سینیٹ الیکشنز قانونی طور پر نہیں ہو سکیں گے۔ اگر ن لیگ کے پی اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے تحریک عدم  اعتماد لے آتی ہے تو پھر پلان سی کے طور پر تحریک انصاف کو تمام اسمبلیوں سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔

Shahid Baloch
Shahid Baloch
شاہد اقبال خان پی ایچ ڈی بزنس ایڈمنسٹریشن کے طالبعلم ہیں اور سپیریر ہونیورسٹی لاہور کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پاکستانی سیاست، معاشرتی مسایل، معیشت اور کرکٹ جیسے ٹاپکس پر لکھتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *