تاریخ پاکستان کا ایک جوابی بیانیہ

اسلام کی تشریح کے لئے جوابی بیانئے کے علاوہ تاریخ پاکستان اور نظریہ پاکستان کی بھی ایک مختلف تشریح کی ضرورت ہے متحدہ ہندوستان میں اقلیتیں اس بات سے خوف زدہ تھیں کہ کسی آئینی یقین دہانی کے بغیر متحدہ ہندوستان کی آزادی کی صورت میں اکثریت جمہوریت اور قومیت کے نام پر اقلیتی مذاہب اور لسانی اقوام کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کرے گی۔
اس لئے مسلمان یہ چاہتے تھے کہ ان کی شناخت اور اردو زبان کو آئینی تحفظ حاصل ہو 1919 کے لکھنو پیکٹ سے 1946 کے وزارتی مشن تک انھوں نے پوری کوشش کی کہ انھیں متحدہ ہندوستان میں اپنی شناخت اور خود مختاری کے ساتھ رہنے کا حق مل جائے۔۔۔ مگر کانگرسی راہنمائوں نے متحدہ قومیت کی وجہ سے یہ تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے 1947 میں بنگال اور دریائے سندھ میں بسنے والے مختلف صوبوں کو ایک ایسا الگ وفاق تشکیل دینا پڑا جہاں اقلیتی گروہوں کی شناخت کو تسلیم کیا جائے گا ۔۔اور ان کی زبانوں کو تسلیم کیا جائے گا ۔۔۔
یہی نظریہ پاکستان تھا بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد یہ نہیں ہوسکا ۔۔ہندی کی جگہ اردو کو بالادست بنا کو باقی زبانوں کی اہمیت سے انکار کیا گیا اور متحدہ ہندی قومیت کی جگہ مسلم پاکستانی قومیت کا تصور پیش کر کے دوسری قومیتوں کا تصور مسترد کیا گیا جس کی وجہ سے 1971 میں ایک مزید نیا ملک بنا۔۔۔۔
پاکستان کو ایک ایسے وفاق کے طور پر ہی رکھا جاسکتا ہے جہاں اردو وفاقی رابطے کی زبان ہو اور دوسری تمام زبانوں اور قومیتوں کو آئینی تحفظ حاصل ہو۔۔۔۔۔۔۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *