اس پارے میں سورة المائدة کی آیت 83 سے اختتام تک ہےاور سورة الأنعام کی ابتدائی 110 آیات ہیں۔
پچھلے پارے کے اختتام پر نصاری کی مدح ہورہی تھی۔ اس پارے کا آغاز بھی اسی کے تسلسل سے ہوا اللہ تعالی ان کی تعریف کرتے ہوئے فرما رہے کہ وہ قرآن کی آیات سن کر روپڑتے ہیں۔ علماء کے مطابق یہ آیات نجاشی (شاہ حبشہ) اور ان کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئیں۔ اللہ تعالی نے ان کی تعریف فرمائی اور کہا کہ ان کے اس فعل کے بدلے میں انہیں جنت میں داخل کر دیا۔ اس سے پتہ چلا کہ اللہ کے کلام کو سن کر رونا صالحین کا طریقہ ہے اور اللہ تعالی کے نزدیک پسندیدہ ترین کام ہے۔
اس کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ حلال کو حرام مت بناؤ نیکی میں بھی حد سے بڑھنا اللہ کو ناپسند ہے۔ تو جو حلال اور طیب ہے اسراف سے بچتے ہوئے ان سب چیزوں کا استعمال کرنا اور کھانا پینا مطلوب ہے۔ نیکی کا مطلب یہ نہیں کہ حلال کو بھی چھوڑ دیا جائے۔
اس کے بعد قسم کا کفارہ بتایا گیا کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا یا کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اگر ان میں سے کسی چیز کی استطاعت نہ ہو تو پھر تین دن کے لگاتار روزے رکھنا۔ یہ اس قسم کا کفارہ ہے جو ارادة کھائی جائے۔ بغیر نیت قسم کے الفاظ منہ سے نکل جائیں تو پھر کوئی کفارہ نہیں۔
شراب، جوا، فال نکالنے کے تیر سب حرام ہیں۔ خبردار کیا گیا کہ شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کرتا ہے اور نماز سے روکتا ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالی نے احرام کی کچھ بحث کی ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت ہے اگر کوئی کر لے تو اللہ کے حکم کے مطابق کفارہ دے۔ یہ ممانعت خشکی کے جانوروں کے لئے ہے۔ سمندری جانوروں کا شکار احرام کی حالت میں بھی جائز ہے۔
کعبہ مشرفہ، قربانی کے جانور اور مقدس مہینے سب حرمت والے ہیں۔ رسول کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے زبردستی منوانا نہیں۔ رسول کے بعد یہ ذمہ داری آپ کی امت پر عائد ہوتی ہے۔
ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ حرام کی کثرت اچھی لگنے لگے۔ ہر چیز میں پاکیزگی مطلوب ہے۔ کثرت سوال کی ممانعت ہے اس سے دین مشکل ہوجاتا ہے۔ دین کے احکام میں آباء واجداد کی پیروی اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر باپ دادا کی پیروی کرنے سے دین اور دنیا دونوں ضائع ہوتے ہیں۔ انسان کے اوپر سب سے پہلی ذمہ داری اس کے اپنے عمل کی ہے۔ پہلے خود عمل کریں پھر دوسروں تک پہنچائیں۔
اس کے بعد وصیت کے بارے میں آیا کہ اگر سفر میں موت آنے لگے اور وصیت کرنی ہو تو دو عادل لوگوں کو گواہ بنا لو۔
اس سورت کے آخر میں قیامت کی کچھ منظر کشی ہے کہ اس دن اللہ تعالی تمام رسولوں سے پوچھیں گے کہ تمہاری امت نے تمہیں کیا جواب دیا تھا؟ پھر اللہ تعالی عیسی علیہ السلام پر اپنے انعامات گنوا کر ان سے کہیں گے کہ میں نے تمہیں یہ سب انعامات اس لئے دیے تھے اس کہ تم لوگوں کو اپنی اور اپنی ماں کی الوہیت کی دعوت دو۔ عیسیٰ علیہ السلام نصاریٰ کے تمام باطل اقوال سے برات کا اظہار کریں گے اور کہیں گے کہ اللہ تعالی یہ تیرے بندے ہیں چاہیں تو انہیں عذاب دے دیں چاہے تو بخش دے۔ اللہ تعالی فرمائے گا کہ آج سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی اور وہی کامیاب ہیں یہاں سورۃ المائدہ ختم ہوتی ہے۔
سورۃ الانعام قرآن کی ان پانچ سورتوں میں سے ہے جو الحمدللہ سے شروع ہوتی ہیں۔ یہ مکی سورت ہے اور پوری ایک ہی مرتبہ میں نازل ہوئی۔ ستر ہزار فرشتے اس کے ساتھ نازل ہوئے۔ اس سورت میں مشرکین کے اسلام اور نبی علیہ السلام پر اعتراضات ذکر کر کے ان کا جواب دیا گیا۔ اللہ کی حمد سے سورت کا آغاز ہوا اور صفت تخلیق کا ذکر کیا گیا۔ حمد اس تعریف کو کہتے ہیں جس میں کسی کے کمال کی وجہ سے محبت وتعظیم پائی جائے ۔ پھر تنبیہ کی گئی وہ تمہارا ظاہر باطن سب جانتا ہے، اسی نے زمین، آسمان، اندھیرا، نور اور تمہیں پیدا کیا۔
پھر کفار کے بارے میں بتایا کہ وہ اللہ کی آیات اور اس کی تخلیق میں غور وفکر نہیں کرتے۔ حق کا انکار کرتے ہیں۔ قیامت کے دن سے ڈرایا گیا اور بتایا گیا کہ تم سے زیادہ زبردست قوموں کو ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر چکے ہیں۔ گناہ نعمت کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ آج دیکھ لو ان کی جگہ اور لوگ دنیا میں بستے ہیں اور ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں۔ فرمایا گیا کہ جھٹلانا کفار کا وطیرہ ہے۔ آپ سے پہلے بھی انبیاء کا مذاق اڑایا پھر دیکھیں کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کتنا برا ہوا۔انبیاء اور ان کے ساتھیوں نے صبر کیا تو اللہ تعالی کی مدد آگئی۔ یہ دلائل کی کثرت سے بھی نہیں مانیں گے۔ آپ کچھ بھی نشانی لے آئیں یہ انکار ہی کریں گے۔ لہذا ان کے مطالبات پر مت جائیں۔
اصل کامیابی یہ ہے کہ قیامت کے دن رحمت کے حقدار بنیں۔ تکلیف اور خیر دونوں اللہ ہی پہنچاتا ہے، وہ اپنے بندوں پر ہر طرح کا غلبہ رکھتا ہے۔
نبی کریم کو حکم دیا گیا کہ انہیں بتا دیں کہ ہمارے درمیان اللہ گواہ ہے۔ یہ قرآن خبردار کرنے کے لئے نازل کیا گیا میں تمہارے شرک سے بری الذمہ ہوں۔
بتایا گیا کہ اہل کتاب نبی کریم کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے ہیں۔ انکار کا سبب لاعلمی نہیں بلکہ ہٹ دھرمی ہے۔
پھر مشرکین کو قیامت کے دن سے ڈرایا گیا، نبی کریم کو ان کی حرکتوں سے خبردار کیا گیا۔ فرمایا قیامت کے دن ان کی حسرت دیکھنے والی ہوگی، جب یہ آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اس دن یہ اپنی سب کوتاہیاں اورغلطیاں مان لیں گے اور اپنے اعمال پر حسرت کریں گے۔
اللہ تعالی کہتا ہے کہ یہ دنیا جس کی خاطر تم آخرت کا انکار کرتے ہو یہ تو بس چند روز کا کھیل تماشہ ہے۔ آخرت کا گھر تو متقین کے لیے ہی ہے۔
ساتھ ہی ساتھ نبی کریم کو تسلی دی کہ ہم جانتے ہیں کہ ان کی باتیں آپ کو دکھ دیتی ہیں لیکن یہ دراصل آپ کو نہیں اللہ تعالی کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔
بات تو اصل میں وہی سنتا ہے جو دل کے کانوں سے سنتا ہے۔ یہ تو سب گونگے بہرے اور اندھے ہیں۔
پھر بتایا گیا کہ گناہ کے بعد دنیا فراخ ہو جائے تو یہ بھی آزمائش ہے۔ دنیا کی تنگی اور وسعت دونوں آزمائش ہیں نافرمانی کے باوجود دنیا کا ملنا اللہ تعالی کی طرف سے مہلت ہے۔
پھر یہ کہہ کر ان کو ڈرایا گیا کہ اللہ تم سے تمہاری سماعت یا بصارت لے لے یا وہ تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو کس سے واپس لو گے؟ اگر وہ اچانک یا علانیہ عذاب بھیج دے تو کس سے عافیت مانگو گے۔
پھر کہا گیا کہ یہ رسول تو صرف خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔ نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کو کہا جا رہا ہے کہ آپ انہیں بتا دیں کہ میرے پاس غیب کا علم نہیں ہے میں تو بس وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ اور آپ کو حکم دیا کہ جو لوگ ہر وقت اپنے رب کو یاد کرتے ہیں انہیں اپنی مجلس سے دور نہ کریں ان کے لیے دعا کریں۔ رب کی رحمت کی خوشخبری سنائی گئی کہ جو غلطی کے بعد توبہ کرلے اس کے لیے مغفرت ہے۔
پھر کہا کہ ان کو بتا دیں کہ میں اس کی عبادت سے باز آیا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔ حکم صرف اللہ کا ہے عذاب میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور لوح محفوظ میں ہر چیز کا ریکارڈ ہے۔
اللہ نے اپنی قدرت کی نشانیاں ذکر کی اور اپنے انعامات کے گنوائے اور فرمایا وہ حفاظت کے فرشتے بھیجتا ہے اور جب وقت آتا ہے تو وہی انسان کی روح بھی قبض کرلیتے ہیں۔ پوچھا گیا بحروبر کے خطرات میں تم کس کو پکارتے ہو؟ اللہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کسی بھی طرف سے عذاب نازل کر دے۔
حکم ہوا ان پر واضح کردیں کہ میں کوئی داروغہ نہیں کہ تمہیں ہدایت پر لا کر چھوڑوں۔ہر چیز اور خبر کا وقت مقرر ہے۔ یہ ہدایت بھی کی گئی کہ جب اللہ کی آیات میں نکتہ چینی کی جارہی ہو تو اس مجلس سے گریز کرو۔ اگر بھول ہوجائے تو یاد آتے ہیں وہاں سے اٹھ جاؤ۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ان کے بھٹکنے کی ذمہ داری ایمان والوں پر نہیں ان کا کام صرف تنبیہ اور نصیحت کرنا ہے۔ ہر کوئی اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ قیامت کے دن کوئی ان کا مددگار نہیں ہوگا اس دن ان کے لئے کھولتا ہوا پانی اور درد ناک عذاب ہوگا۔
پھر ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا کہ کس طرح انہوں نے فلکیات کے ذریعہ اللہ اور حق کی معرفت حاصل کی، شرک سے برات کا اعلان کیا۔ اللہ تعالی نے فرمایا امن و سلامتی ان کے لیے ہے جو اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کرتے۔ ابراہیم تو اپنا کام کر گئے انعام کے طور پر ان کی اولاد میں نسل در نسل انبیائے آئے۔ جب وہ آزمائش پر پورے اترے تو نیک اولاد کی شکل میں انعام ملا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ نیک اولاد اللہ کا خاص انعام ہوتی ہے۔ واضح کردیا کہ اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کے بھی اعمال ضائع ہو جاتے۔ چنانچہ ان کا طریقہ ہی اتباع کرنے کے قابل ہے۔
ان اہل مکہ نے اللہ کو حق کے مطابق نہیں پہچانا، اللہ کی معرفت کا انکار ہی دراصل اس کی ناقدری ہے۔ پھر بتایا گیا کہ قرآن بہت خیر و برکت والا ہے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ایمان والے اس پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
پھر جھٹلانے والوں کو آخرت اور سکرات موت سے ڈرایا گیا۔ اس دن بادشاہی صرف اسی کی ہوگی۔ اور یہ واضح کیا گیا کہ جس طرح اکیلے اس دنیا میں آئے تھے، اسی طرح اکیلے ہی موت کے بعد جاؤ گے۔ سب کچھ پیچھے رہ جائے گا۔ وہ سب شریک تو جن کو تم اللہ کے ساتھ شامل عبادت کرتے تھے وہ سب تم سے الگ ہو جائیں گے۔
پھر اللہ تعالی نے زندگی موت اور تخلیق کائنات سے متعلق اپنی نشانیاں بیان کی اور انمیں غور و فکر کی دعوت دی۔ اپنی پاکیزگی بیان کی اس بات سے کہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ وہ تو ہر چیز کا خالق ہے، عبادت کے لائق ہے، نگاہیں اسے نہیں پاسکتی جب کہ وہ نگاہوں کو پالیتا ہے۔ یہ بصیرت افروز دلائل آنے کے بعد جو مانے گا وہ اپنا فائدہ کرے گا اور جو روگردانی کرے گا نقصان بھی اس کا اپنا ہوگا۔
یہ ہدایت کی گئی کہ ان کے بتوں کو گالی مت دو، یہ جہالت میں اللہ تعالی کو برا بھلا کہیں گے۔
آخر میں ان کے اوپر فیصلہ کردیا گیا کہ ان کے دل اور آنکھیں اللہ تعالی نے اس قرآن سے پھیر دیے ہیں، یہ یوں ہی بھٹکتے رہیں گے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اس چیز سے محفوظ رکھے
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں