کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 11

زبانوں میں اشتمال اور اخراج کا چلن!

حیدرآباد میں قیام کے دوران ایک اور خزینہ ہاتھ لگا۔ یہ تھا ولی ؔدکنی کا وہ کلام جو جامعہ میں بسیار محنت اور جانفشانی سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس پر اپنا تحقیقی حق تو محترم ڈاکٹر محی الدین قادری زوؔر سمیت کئی دیگر اساتذہ کا تھا، لیکن مجھے اس سے واسطہ نہیں تھا، میں صرف ایک حوالے سے اس کو باریکی سے پڑھنا چاہتا تھا، اور حوالہ تھا، کسی بھی زبان کے ارتقا میں Inclusion & Exclusion اشتمال یا اخراج کا چلن۔

میرے سامنے جو دو مثالیں تھیں وہ انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کی تھی۔ فرانسیسی زبان خود کفیل ہونے کا دم بھرتی تھی اور یورپ کی زبانوں میں کلچر، آرٹ، ادب، آرائش، ملبوس، مشروب، طعام۔۔۔ان سب حوالوں سے افضل ترین تسلیم کی جاتی تھی۔ایک چھوٹی سی مثال کے ساتھ یہ امرذہن میں لایا جا سکتا ہے۔ فرانس ایک ایسا ملک ہے جس میں دو چیزوں کی سینکڑوں اقسام تیار کی جاتی ہیں  اور کمپنیوں نے ان کے نام کاپی رائٹ کروا رکھے ہیں۔یہ ہیں۔۔۔ شراب اور پنیر۔۔

پنیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک سو چالیس اقسام کے نام فرانسیسی زبان کی ڈکشنری میں موجود ہیں۔ اسی طرح ریڈ وائن یعنی سرخ شراب کی اکہتر اقسام ہیں جن کے نام اگر پینے والے نہیں تو ہر ہوٹل کی “بار” میں “بار مین” جانتے ہیں۔ انگلینڈ میں بھی اگر کسی کو باورچی ہونے کا ڈپلوما حاصل کرنا ہو تا ہے، اس کے لیے جب وہ ایک کورس میں داخل ہونا چاہتا  ہے، تو وہ ان سب اقسام کے نام سیکھتا ہے، جو انگریزی میں بھی وہی ہیں جو فرانسیسی میں ہیں۔ گویا انگریزی نے انہیں خود میں جذب کر لیا ہے۔

گذشتہ وقتوں میں انگریزی دان اشرافیہ فرانسیسی زبان بطور خاص اس لیے سیکھتے تھے کہ یورپ کے اونچے طبقوں میں جگہ پا سکیں۔ خود فرانسیسی علما اور ادبا، یونان اور روم کی تہذیب سے فیضیاب ہونے کے بعدگویا اس حد تک خود کفیل ہو گئے تھے، کہ انہیں انگریزی سیکھنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی، جسے کمتر درجے کی زبان سمجھا جاتا تھا۔ یورپ میں فرانسیسی زبان میں بات چیت کر سکنا تعلیم یافتہ ہونے کا ایک پیمانہ تھا۔ لیکن اس کے منفی اثرات فرانسیسی زبان پر یہ مرتب ہوئے کہ اس نے دیگر (انگریزی، جرمن، اطالوی، ہسپانوی یا نارڈک) ملکوں کی زبانوں سے اشتمال کے سماجی اور تجارتی طریق ِ کار کا انحراف کرتے ہوئے الفاظ کو خود میں سمونے کے عمل کو روک لیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دس برس پہلے کی فرانسیسی ڈکشنری اور دس برس بعد کی لغت میں الفاظ کی تعداد میں بے حد معمولی سا اضافہ ہوا۔

دوسری طرف انگریزی میں اس سے بالکل اُلٹ  رویہ جاری رہا۔ انگریزی نے نہ صرف فرانسیسی یا دیگر یورپی زبانوں سے، بلکہ ایشیا اور افریقہ میں اپنی نو آبادیات کی زبانوں سے وہ الفاظ جن کا نعم البدل انگریزی میں نہیں تھا، اس سرعت سے قبول کیے کہ ہر دس برسوں کے بعد انگریزی ڈکشنری میں الفاظ کی تعداد میں دو سے چار فیصد تک کا اضافہ ہونے لگا۔ اس کا نتیجہ آج یعنی سن 2013ء میں ہمارے سامنے ہے۔ انگریزی بین الاقوامی زبان بن چکی ہے، جب کہ فرانسیسی زبان اپنی خوبصورتی کے باوجود وہیں ساکت ہے، جہاں ایک صدی پہلے تھی۔

ان دو مثالوں کو سامنے رکھ کرجب میں نے ولی دکنی سے لے کر 1964ء تک (یعنی جس برس میں حیدرآباد میں مقیم تھا) اردو لفظیات کی صورت ِ حال کو دیکھا تو جو انکشاف مجھ پر ہوا، وہ میری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھا!
کچھ اشعار ولی دکنی کے یاد ہیں جن میں نہ صرف جملہ سازی ہندوی تھی بلکہ ترتیب باہمی میں فارسی اور ہندوی الفاظ خوبصورتی سے ہم آغوش تھے۔ کسر کی اضافتوں میں بھی یہی چلن تھا، یعنی اگر ایک لفظ فارسی کا ہے اور دوسرا ہندی کا، تو انہیں بہم دگر لب پیوستہ رہنے دیا گیا تھا۔
سُرمے کا منہ سیاہ کیا اُن نے جگ منے
جس کی نین میں پیُو کی خاک ِ چرن گئی

ولیؔ کو کہے تُو اگر یک بچن
رقیباں کے دل میں کٹاری لگے

زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی انی نے
یہ زخم ترا خنجر و بھالاں سوں کہوں گا

ولی ہے اس قدر صافی صنم کے صاف چہرے پر
کہ اس کے وصف لکھنے میں قلم کا پگ پھسل جاوے

حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی ہوا کہ جس چلن کی بنیاد ولیؔ دکنی اور امیر خسرو نے صدیوں پہلے رکھی تھی اور جو صریحاً اردو میں ہندوستانی زبانوں کے اشتمال کا تھا، وہ لکھنؤ  سکول اور دہلی  سکول کے آتے آتے ایک منفی قدر میں، یعنی اخراج میں بدل گیا۔Inclusionکے بجائے Exclusion کا ایک ایسا دور شروع ہوا جو اردو کو امیر کرنے کی جگہ پر کنگال کر گیا۔ کسی عالم نے بھی یہ سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ فارسی الفاظ کے دخول اور ہندوی الفاظ کے اخراج سے کب تک اس زبان کو عوام کے لیے قابل ِ قبول بنایا جا سکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ انتظامیہ اور عدلیہ کی زبان اردو ہونے کے وجہ سے ایک خاص طبقے نے، بشمولیت غیر مسلم آبادی کے، اس میں مہارت حاصل کی، لیکن جونہی اردو پر پہلی ضرب ہندوستان میں پڑی اور اس کے بعد پاکستان زبان کی بنیاد پر ہی دو حصوں میں بٹ گیا اور اب وہاں دیگر صوبائی زبانیں اردو پر حق تلفی کا الزام عائد کر رہی ہیں، یہ ممکن ہی نہیں تھا، کوئی سوچ سکتا کہ اس مسئلے کا جواب inclusion میں ہے۔

ناسخؔ کے بارے میں منشی تلوک چند محروم کے ارشادات مجھے یاد تھے، اس لیے حیدرآباد میں قیام کے دوران میں نے جامعہ کے کتب خانے میں موجود درجنوں کتابوں سے اکتساب ِ فیض کیا اور اور اس موضوع پر ایک طویل مقالہ لکھا، جو بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے ریسرچ بُلیٹن میں شائع ہوا۔ اس کا عنوان تھا،
The A Study of the process of mutual inclusion and exclusion in Urdu and Hindi phraseology  with particular reference to Urdu poetry in the Eighteenth and Nineteenth centuries.

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *