رحم کی اپیل

ایک لمحے کے لیے سوچ لیجیے کہ عمران خان وزیراعظم ہے۔

اب یہ سوچیے کہ عمران خان کی نسبت نواز شریف کے لیے اپوزیشن جماعتوں سے مل کی کوئی تحریک چلانا کتنا مشکل یا کتنا آسان ہوگا؟ یہ بھی یاد رہے کہ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام کے کارکنان اتنے نازک مزاج نہیں جتنے خان صاحب کے کارکنان ہیں۔

ایسی صورت میں مسلم لیگ یا متحدہ اپوزیشن آج کے تحریک انصاف جتنے لوگ لے کہ اسلام آباد شٹ ڈاؤن کرنے آجاتی ہے تو خان صاحب کے پاس کیا جواز ہوگا ان کے ہاتھوں بلیک میل نہ ہونے کا؟ کتنے امکانات ہوں گے فوج کے آنے کے؟ کیا ملک چل پائے گا یا ہم ایک بات پھر سو جوتوں سے جان چھڑا کے سو پیاز کی جانب گامزن ہو چلیں گے؟

خان صاحب، ہوسکتا ہے آپ کا استعمال کیا جا رہا ہو یا ہوسکتا ہے آپ فی الوقت طویل المیعاد سوچ رکھنے سے قاصر ہوں۔ ہم مانتے ہیں کہ آپ کو وزارت بہت زور کی آرہی ہے مگر حضور، یقین مانیے آپ اپنے پیٹ کا درد پورے قوم کے سر میں منتقل کرنے کی کوشش کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اوّل تو یہ ضروری نہیں کہ غیر جمہوری طریقے سے ملنے والا اقتدار کوئی ایک جانب رکھ کہ آپ کو اوپر آنے دے۔ فرض کیجیے ایسا کوئی معجزہ ہو بھی جاتا ہے تو صاحب آپ کو ملنے والا اقتدار متحدہ حزب اختلاف یوں ہضم نہیں کرنے والی۔ کم از کم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ تو کسی غیر فطری، غیر جمہوری طریقے سے پیدا ہونے والی ناجائز حکومت کے خلاف کھڑی ہوں گی۔

اگر آپ واقعتاً قوم کے ساتھ مخلص ہیں تو بائیو میٹرک انتخابات کے لیے دھرنا دیں، بجٹ کا بڑا حصہ سٹریٹیجیک اسیٹس پہ لگانے کے بجائے تعلیم و صحت پہ لگانے کے لیے دھرنا دیں۔ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ بصورت دیگر آپ اسی مسلم لیگ و ہمنواؤں کو سیاسی شہید بنانے کے درپے ہیں اور اب کی بار اگر ان کی موت ہوئی تو آئندہ یہ بھٹو کی طرح ہمارے ساتھ رہیں گے۔ ایک جانب ہندوستان ہمیں عالمی سطح پہ اکیلا کرنے میں مصروف ہے، دوسری جانب افغانستان ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں لگا ہے۔ امپائر پہلے ہی چار پانچ میچ بذات خود کھیل رہا ہے، اس پہ رحم کریں۔ اس قوم کی یادداشت خوب مثالی ہے، یقین کریں شوکت خانم یا نمل بھولنا ان کے لیے تین چار بڑے جلسوں کی مار ہیں۔ یہ بات آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔

مہربانی کریں، سسٹم کو چلنے دیں۔ یہ جیسا بھی ہے ٹوٹا پھوٹا ہے یا کمزور، اسی میں ہماری بقا اور مستقبل پنہاں ہے۔ فوجی آمر آگیا تو اسے بھگانے کے لیے ایک دن اسی نواز شریف کے ترلے کرنے پڑیں گے۔ شکریہ۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *