نیک روح

”تم نے مجھ پر مقدمے چلوائے،عدالتوں میں گھسیٹا،بیہودہ تصویریں بنوائیں ۔۔
سرِ بازار رسوا کیا۔۔۔اور تمہیں یاد ہے ناں ۔۔میں نے کہا تھا کہ میری روح تم سے انتقام لے گی،
ایک وقت آئے گا کہ میری روح تمہاری بیٹی کے جسم میں حلول کر جائے گی۔۔
اور آج تم نے دیکھ ہی لیا کہ م یں نے جو کہا تھا وہ کر دکھایا۔۔“

” واقعی میں نے ظلم کیا تھا۔۔۔۔میں شرمندہ ہوں ،اور معافی مانگتا ہوں اپنے کیے کی،
اے نیک روح ۔۔۔۔ میں نے تم کو،تمہارے انداز سے پہچان لیا تھا،
اوروں نے بھی کہا کہ آج۔۔مریم کے روپ میں تم ہی تھیں لیکن۔۔
تم نے انتقام تو نہیں لیا۔۔۔ بلکہ یہ کہا ،کہ بیٹی باپ کی کمزوری نہیں طاقت ہے۔“

چند لمحوں بعدغم و اندوہ میں ڈوبی آواز گونجی
”بیٹی ہونا انتقام کی خواہش پر غالب آگیا۔۔
میں بھی تو اپنے باپ کی طاقت تھی۔“

فاروق احمد
فاروق احمد
کالم نگار ، پبلشر ، صنعتکار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *