ماڈل ٹاؤن کی ایک اداس کوٹھی۔۔ عینی علی

SHOPPING

یہ کہانی نہیں ہے، یہ کوئی دیوار گریہ سے لگ کر کرنے والا نوحہ بھی نہیں ہے۔  یہ کسی عبرت آموز واقعے کا تذکرہ بھی نہیں ہے، یہ تو ایک اداس کوٹھی کا مجھ سے کیا گیا وہ مکالمہ ہے جو ماڈل ٹاون ایسی تہذیب و روایات کی پاسدار آبادیوں  میں کئی دہایوں سے  ایستادہ ایسی کئی اداس کوٹھیاں  سینوں میں دبائے بیٹھی ہیں۔بہت سی تو گزرے وقتوں کے قصے سینوں میں دبا ئے ٹوٹ پھوٹ کر ملبے کے ٹرکوں میں بھری خاک ہو چکی ہیں۔ اور کچھ ابھی بھی  اپنی ویرانیوں کے  زندانوں میں اپنی قسمتوں کے فیصلوں کی منتظر اپنے بیتے لمحات کی قبروں کی صلیبوں کا بوجھ اٹھائے کھڑی ہیں۔

تو ہماری اداس کوٹھی بھی ایسی بیسیوں کوٹھیوں کی طرح موجود ہے جن کی کہانیاں کم و بیش ایک ہی جیسی ہیں اور پہلی سے تیسری نسل تک آتے آتے وہی موڑ لے لیتی ہے جو ابن خلدون کے مقدمے میں ریاست لے لیتی ہے۔ لیکن جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ کہانی نہیں ہے۔ یہ تو ایک لمحہ ہے جو  اس مکان اور میری یادوں کے مداروں میں کچھ وقت کے لئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے  آ گیا ہے۔

تو اس دن سی بلاک کی جامنوں والی سڑک پہ سرما کی پہلی  موسلا دھار بارش کی بوندوں کا جلترنگ ایک مانوس سی دھن بجا رہا تھا۔ کم و بیش سبھی مکانوں سے سرما کی  آمد کے ساتھ مخصوص پکوانوں کی مہک اٹھتی چلی جا رہی تھی۔ سبھی گھروں کے سامنے والی کھڑکیوں کے پردے سرکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔   یہ وہ دور نہیں تھا جب موسم بدلنے کا پتہ بڑی بڑی ہوڑڈنگز پر دعوت نظارہ دیتی حسینیاؤں  کے ہیجان خیز اندازوں سے چلتا تھا  یا گھروں کے باہر کھانوں بھرے ڈبوں سے لدی موٹر سایئکلوں کی آمدرورفت بڑھنے سے۔ اس وقت تو موسم بھی مکانوں کے مکینوں کی زندگیوں میں مہمان بن کر آتے تھے موبائلوں کی سکرینوں پر وال پیپر بن کر نہیں۔تو اس دن  ٹھنڈی ہوا کے جھکڑوں کے ساتھ کئی دنوں سے سڑکوں پر آوارہ پھرتے سوکھے پتے ننھے بچوں کی سی اٹکھیلیاں کرتے نظر  آتے تھے۔ ارد گرد کے مکانوں سے ملی جلی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ کسی کو بچوں کے بارش میں بھیگنے کا ڈر تھا تو کسی کو نازک پودوں کو ڈھکنے کی فکر۔ کہیں “ارے ڈرین پائپ سے پتے نکال دو” جیسی التجائیں  تھیں تو کہیں  سے”گیزر تیز کر دو” کے احکامات سنائی دیتے تھے۔ سو میرے حصے میں اوپر کی چھت پہ موجود ڈرین پائپ سے پتے نکالنے کا کام آیا تا کہ اس پرانی کوٹھی کی مٹی کی لپا ئی اور لکڑی کے گارڈر    والی چھت پر پانی جمع ہو کر کہیں نیچے سے کسی بھی سوراخ سے نہ  بہ نکلے۔ میں چھاتہ  لے کر اوپر چڑھ گئی اور ہاتھوں میں لفافہ پر چڑھا کر دبا دب پتے نکالنے لگی کہ اتنے میں ” چنے ےےےےے واالاا ا ا ا ااےےےے۔۔۔۔۔” کی مانوس آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔  ارے اس بارش میں بھی چنے والے کو چین نہیں۔۔۔

اتنی پیاری پتوں پر  گرنے والی بارش کی آواز اور یہ بے ڈھنگی تان۔ خلاف معمول آواز بھی بہت قریب سے آتی محسوس ہو رہی تھی۔ نیچے جا کر دیکھا تو پتا چلا ابو چنے والے کو اس کے کاروبار سمیت ہمارے گیراج میں لے آئے ہیں تا کہ وہ اس کی پرانی سایئکل اور  اس پر رکھی چنوں کی دکان کسی بھی ممکنہ نقصا ن سے محفوظ رہے۔  خیر ہم اور ہمارے گھر کے بچوں کے لیے ہماری  اس چھوٹی سی دنیا کے ورلڈ فیمس چنے والے کو اتنے قریب سے دیکھنا بھی ایک اعزاز تھا کیونکہ ماڈل ٹاون گول چکر میں  90 کی دہائی میں رہنے والے یہ خوب جانتے ہوں گے کہ چنے والا کی یہ آواز اتنی کراری تھی کہ، آپ کو یاد کیا ہوا سبق بھلا دیتی تھی۔ دروازوں میں  کھڑی باتیں کرتی آنٹیاں اسے سن کر اپنی میٹنگز مختصر کر دیتی تھیں اور گھنٹوں کی محنت سے ماؤں کے سلائے بچے ایسے اٹھ کر روتے تھے جیسے بجٹ تقریر سن کر پاکستانی عوام روتی ہے۔  تو اس سردی والی  بارش والے دن چنے والے انکل ہمارے مہمان تھے، اور آج ہم سب ان سے ان کا انٹرویو لینے کے موڈ میں تھے۔

انکل یہ کیا ہے؟ انکل آپ چنے کیوں بیچتے ہیں؟ انکل آپ چنے کہاں سے لیتے ہیں؟ کھٹا کیسے بناتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔ اس دن میں نے چنے والے انکل کو غور سے دیکھا۔ ان کی شخصیت میں ان کی گہری کراری اور بے تحاشا اونچی آواز کے علاوہ باقی سب عامیانہ تھا۔ گھسی ہوئی پرانی اور جگہ جگہ سے پھٹ کر سلی ہوئی شلوار قمیض، پرانے تلوے اکھڑے  بوٹ ،ہاتھ میں سستی سی گھڑی اور گلے میں  پڑا بڑا سا کالا تعویز۔ ہاں ایک بات اور چنے والے انکل بچوں سے انگریزی بہت اچھی بولتے تھے، جو سمجھ تو نہیں آتی تھی پر ان کی آواز اور انداز میں سننے میں بہت اچھی لگتی تھی۔ یس کمانٹی فور؟ ڈوڈل ڈی ڈوڈل ڈم، سویٹ چنا سوور چنا۔ فاؤ روپیا ز ٹین روپیاز۔ یس کمانٹی فور  پلیز! ایسے میں امی نے ہمیں بلا کر انکل کو کرسی میز دینے کا کہا اور کہا کہ بھائی کڑھی بنی ہے کھا کر جائیے گا۔

انکل بیٹھ گئے اور کھانے لگے اور میرا کزن معصومیت سے پوچھنے لگا انکل ہماری بھابی ( میری امی جگت بھابھی کہلاتی تھیں) نے آپ کو فری کڑھی دی ہے آپ ہمیں فری چنے دیں گے نا؟ تو انکل ہنسے اور کہنے لگے یس کمانٹی فور۔۔۔

اتنے میں بارش رک گئی اور   کھانا لگ گیا ہے ‘کا شور مچا ہم سب  اندر بھاگے تو میں نے  دیکھا ہمیشہ کی طرح نظر بچا کے ابو نےگیٹ سے باہر جاتے چنے والے انکل کی جیب میں کچھ ڈالا جسے انہوں نے کچھ پس و پیش سے رکھ لیا۔ ابو کی آنکھیں میری آنکھوں سے چار ہوئیں اور جیسے کہنے لگیں کسی سے کچھ نہ  کہنا اور میں کوٹھی کے سامنے کی دیوار کو یوں دیکھنے لگی جیسے میں نے کچھ دیکھا  ہی نہیں۔

اس دن کے بعد وقت ایسے ہی گزرا جیسے گزرتا ہے چنے والے انکل روز اپنے وقت پر گلی میں آتے اور ہم سب ایسے ہی کانوں میں انگلیاں ڈالتے رہے۔ کوئی اپنا گھر بنا کر کوئی شادی کر کے تو کوئی پڑھائی کے لۓ  گھر سے نکلتا گیا، بزرگ اپنی عمریں پوری کر کے اپنی روایات سمیت منوں مٹی تلے جا سوئے ۔ امی ابو بھائی کے بہتر مستقبل کے لیے مستقل باہر چلے  گئے۔  جب یہ سب ہوا تو میں اپنے شوہر کے ساتھ جدہ میں مقیم تھی، میں نے فون پر امی سے پوچھا امی آپ اداس تو نہیں؟  تو امی نے کہا میں تو اتنی اداس نہیں جتنا میرا گھر اداس ہے۔ اس گھر میں مَیں نے اپنی زندگی کے بہترین 35 سال گزارے ہیں، اسے سجایا سنوارا یہاں سے بچیوں کی شادیاں کی، رشتے داریاں اور محلے داریاں نبھائی۔ بہت دکھ سکھ بانٹا ہے ان در و دیوار نے۔ اور اب ہم اپنے اچھے مستقبل ڈھونڈنے کو نکلنے پر یہاں اداسی چھوڑے چلے جا رہے ہیں- میں چاہ کر بھی امی کو تسلی نہ  دے سکی کہ غریب الوطنی اور پیچھے چھوڑ جانے والی یادوں کی کوئی تسلی نہیں ہوتی۔

کئی مہینوں بعد میرا پاکستان آنا ہوا تو سوچا کہ اپنے بچپن کی یادیں تازہ کروں اور بچوں کو نانی کا سابقہ گھر دکھایا جائے۔  گاڑی سی بلاک کی جامنوں والی سڑک کی جا نب موڑی تو سب کچھ بدلا بدلا دکھائی دیا۔ بہت سی نئی پرانی کوٹھیاں نئی نیم پلیٹوں کے ساتھ کھڑی تھیں-وہ گیٹ جو ہمیشہ کھلے دیکھے وہاں بڑی بڑی مونچھوں والے گارڈ کھڑے تھے۔ میں اپنے بچوں کو بتانے لگی کہ کیسے ہم گرمیوں کی دوپہروں میں ان گھروں کے باغیچوں میں لگے پیڑوں سے کیریاں اور جامن چن چن کر کھاتے تھے اور انہیں درختوں پر ڈلی بڑی بڑی پینگیں گھنٹوں جھولتے تھے- اوریہاں  اسی سب میں کھڑی ملی اپنی تنہا اداس کوٹھی۔۔۔ نیم پلیٹ پر لکھا سب کچھ مٹ چکا تھا کہ گویا بتا رہا ہو کہ اب یہاں کوئی نہیں رہتا۔ گیٹ پر بڑا سا تالہ پڑا تھا، اور ارد گرد کی بڑھی ہوئی گھاس اور آگے کو جھکی ہوئی درختوں کی بے ہنگم شاخوں نے کافی کچھ ڈھانپ لیا تھا۔

امی کے لگائے ہوئے ایریکوریا  کے پودے کا سرا  امتداد زمانہ کی شکار   برسوں کی بیمار بڑھیا  کی طرح گیٹ کے اوپر سے جھانکتا دکھائی دیا-کوئی اداسی سی اداسی تھی مجھ سے برداشت نہ  ہوا میں اپنی گاڑی میں بیٹھنے کو واپس مڑی تو آنکھیں آنسوؤں  سے دھندلی پڑ رہی تھیں۔ گاڑی میں بیٹھ کر عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے ایک مانوس سی آواز کانوں میں پڑ ی، بیٹا میں مانگنے والا نہیں! میں ٹھٹھک سی گئی ہاتھ میں ایک سستی سی گھڑی، گلے میں پڑا بڑا ساکالا  تعویز ،چند ہسپتال کے ٹیسٹوں کے  نسخے ، دوایئوں کی پرچیاں اور وہی کراری آوازوالا ایک بزرگ شیشے پر جھکا مجھ سے کہ رہا تھا ۔ میں نے اداس کوٹھی کے پہلو میں بھی جنبش سی محسوس کی۔ میں تڑپ کر گاڑی سے نکلی  اور بولی ۔۔۔

SHOPPING

جی چنے والے انکل ،میں جانتی ہوں آپ مانگنے والے نہیں ہیں۔ یہ سن کر ان کی اداس آنکھوں میں  ایک لمحے کو ایک چمک سی لہرائی پر فوراً  ہی معدوم ہو گئی۔ انہوں نے مجھے پہچان کر میری شکل بھی دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔ بیٹا میرا آپریشن ہے۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے کیا کہا میں نے نہیں سنا ۔ میرا ذہن تو خود بہت سارے سوال بن رہا تھا۔  میں نے پرس کھولا اور جو ہاتھ آیا چنے والے انکل کی جیب میں ڈال دیا اور اپنی نظریں اداس کوٹھی کی سامنے والی اس  دیوار  پر جما لیں جو    مجھے یہ کہ رہی تھی کہ فکر نہ  کرو میں نے دیکھ کر بھی کچھ  نہیں دیکھا-

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *