اصلی نقلی ہیرے۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

کوئلے کو ہیرا بننے کے لیے کروڑوں برس تک ہزاروں ڈگری درجۂ حرارت سہنا پڑتا ہے۔ لاکھوں ٹن وزنی چٹانوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔لگاتار تپش،بوجھ اور تاریک تنہائی اسکی پیدائشی سیاہی کو آہستہ آہستہ شفاف،چمکدار،خیرہ کن بیش قیمت ہیرے میں تبدیل کردیتے ہیں  اور وہ بھٹی میں جلنے کی بجائے انسانوں کی توجہ اور محبت کا حقدار بن جاتا ہے۔کوہ نور بن جاتا ہے،تاج برطانیہ میں سج جاتا ہے۔

اصلی ہیرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی تیز دھار نوک سےشیشے کو بھی موم کی طرح کاٹ دیتا ہے۔اسکے شفاف وجود کے آر پار دیکھا جاسکتا ہے۔وہ اسقدر خیرہ کن ہوتا ہے کہ نظر چندھیا جاتی ہے،وہ کمیاب اور مکمل حسن ہوتا ہے۔مقدر کو بدل دینے والا ہوتا ہے۔

کچھ انسان بھی اصلی ہیروں جیسے ہوتے ہیں۔۔کمیاب،حسین،مقدر بدل دینے والے  لیکن تنہائی کے غاروں میں چھپے رہنے والے۔ان تک پہنچنا ،انکو کھوجنا اور پالینا بہت مشکل اور صبر آزما ہوتا ہے اور یہی مشقت انکے حصول کی قیمت ہوتی ہے،جو یہ قیمت ادا کر دیتاہ ے اسکا مقدر چمک اٹھتا ہے ۔زندگی بدل جاتی ہے،اسکا وجود سج جاتا ہے ۔

کچھ ہیرے لیبارٹری میں کوئلے کو شدید دباؤ اور حرارت سے گزار کر بنائے جاتے ہیں۔ہیرے تو وہ بھی ہوتے ہیں،لیکن مصنوعی،نقلی اور کم قیمت،محض دل کو خوش کرنے کے لئیے،وہ کوہ نور کبھی نہیں بن سکتے۔

کچھ انسان بھی نقلی ہیروں جیسے ہوتے ہیں جنکے سینوں میں کوئلے کا دل ہوتا ہے،سیاہ،تاریک ،گناہ آلود اور مطلبی۔بظاہر ہیرا بننے اور نظر آنے والے یہ انسان اندر سےکالے اور اندھے اَن بجھے کوئلے ہی ہوتے ہیں،کوئلے ہی رہتے ہیں۔

زندگی کے بازار میں یہ نقلی ہیرے اصلی ہیرے بننے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں،اپنی منہ مانگی قیمت خود بتاتے ہیں۔اپنی نیلامی خود کرتے ہیں، اپنی بولی خود لگواتے ہیں۔ہر وقت بکنے کے لئیے تیار رہتے ہیں۔

کبھی کبھی انکا داؤ چل جاتا ہے اور کوئی سادہ لوح انکے نقلی پن کو پہچان نہیں پاتا،انھیں اپنے کھرے خلوص کی پوری قیمت دے کر خرید لے جاتا ہے،دل سے لگا کر رکھتا ہے،لیکن،ایکدن خود پرستی اور خود غرضی کے سورج کی تیز تپش کے نیچے ان نقلی ہیروں کے کوئلے کے دل چٹخنے اور سلگنے لگتے ہیں،دھواں دینے لگتے ہیں۔

خریدنے والے کے دامن اور زندگی میں آگ لگا دیتے ہیں،ور خود بھی ایک دن جل کر بھسم ہوجاتے ہیں۔

نقلی ہیروں کے مقدر میں ایک دن جل کر کوئلہ اور پھر راکھ ہو جانا ہوتا ہے،وہ اپنی اصل کی طرف ضرور لوٹتے ہیں۔

نقلی انسان بھی لاکھ ہیرا بنے،ایک دن اپنے لالچ،خود غرضی، خود پرستی اور خوش فہمی کی آگ میں جل کر خاک اور راکھ ہو جاتا ہے،اپنے اصل کی طرف لوٹ جاتا ہےبہت تلخ حقیقت است۔۔

نقلی ہیروں کی نیلامی میں کبھی بولی نہ لگائیں

julia rana solicitors london

سوائے پچھتاووں کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply