• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • صوفی خواتین کا تذکرہ : ایک تعارف ۔ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی/قسط1

صوفی خواتین کا تذکرہ : ایک تعارف ۔ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی/قسط1

(یعنی ابو عبد الرحمن السلمیؒ کی کتاب ذکر النسوۃ المتعبدات الصوفیات پر ایک نظر)
ایک مشہور صوفی کا قول ہے کہ ـــ’’پہلے تصوف ایک بے نام حقیقت تھا، مگر آج حقیقت سے خالی محض ایک نام ہے۔‘‘ یہ درست ہے کہ لفظ تصوف یا صوف قرآن و سنت میں وارد نہیں ہوا بلکہ قرآن میں لفظ تزکیہ اور حدیث میں لفظ احسان استعمال ہوا ہے۔ صوفیہ کرام اسی تزکیہ و احسان کے حصول کے لیے جو طریقے اختیار کرتے ہیں،صوفیہ کے نزدیک دراصل اسی کا نام تصوف ہے چونکہ تزکیہ و احسان ہمیشہ مطلوب رہا ہے، اس لیے قرون مشہود لہا بالخیر یعنی اسلام کی ابتدائی صدیوں میں یہ ایک بے نام حقیقت تھی۔ البتہ اس کو تصوف یا سلوک کے نام سے نہیں جانا جاتا تھا۔ بعد کے زمانے میں خاص طور پرجب تصوف با ضابطہ مدون و مروج ہو گیااورتصوف کاباضابطہ چلن شروع ہوگیا اور معاشرے میں صوفیہ کا خصوصی احترام کیا جا نے لگا تو ایسے بہت سے لوگ بھی پیدا ہوگئے، جو ظاہر میں صوفی تھے، لیکن ان کا باطن دنیوی آلائش و غفلت سے پاک نہیں تھا۔ شاید ان کو دیکھ کر ہی کسی نے مذکورہ جملہ کہا ہوگا۔
تزکیہ و احسان یا تصوف و سلوک کی جتنی ضرورت مردوں کو ہے اتنی ہی عورتوں کو بھی ہے اور اسلام نے روحانی ترقی کا جو موقع مردوں کو دیا ہے، وہی عورتوں کو دیا ہے۔ چنانچہ قرآن مجیدمیں ایک جگہ آیا ہے:
فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی بَعْضُکُم مِّن بَعْضٍ(آل عمران۔ 195)
’’ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرمائی کہ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کرنے والا ہوں۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے سے ہو ۔
ایک اور آیت میں فرمایا گیا: لِّلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْن(النساء۔32)
’’مردوں کے لییان کی اپنی کمائی کا حصہ ہے اور عورتوں کے لیے ان کی اپنی کمائی کا حصہ ہے۔
یہاں اس کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں ہے، ورنہ قرآن مجید میں متعدد جگہ اس کا تذکرہ آیا ہے کہ مرد اور عورت خدا کے سامنے بالکل برابر ہیں جو بھی نیک کام کرے گا، عمل صالح کرے گا، اچھائی کا حکم دے گا، صدقہ و خیرات کرے گا، اس کو پورا پورا اجر دیا جائے گا۔ صنفی  تفریق کی بنیادپراس کے اجرمیں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ احادیث مبارکہ میں بھی یہی بات مبرہن کی گئی ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے: ’’انما النساء شقائق الرجال‘‘
“بے شک عورتیں مردوں کے برابر ہیں”
عہد رسالت اور عہد صحابہ میں ہمیں اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ عرب کا بدوی معاشرہ کس طرح تبدیل ہو کر ایک متمدن معاشرہ بن گیا اور کس طرح عورت اور مرد دونوں نے یکساں طور پر اپنی آخرت کی منزل کو آسان کرنے کی اور اپنے روحانی ارتقا کی کوشش کی۔ ایسی خواتین جنہوں نے اس میدان میں امتیاز پیداکیاان کی ایک بڑی تعداد کا تذکرہ، حدیث اور طبقات کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ ابن سعدنے الطبقات میں اور ابن حجرنے تہذیب التہذیب میں صرف عورتوں کے تذکرے لیے ایک ایک جلد مخصوص کی ہے۔ ان میں عبادات، اوراد و اذکار، خیرات و زکوۃ، غلام آزاد کرنے اور درس و تدریس جیسے امور میں خواتین کی خدمات کا بھی مفصل تذکرہ ہے۔
جیسا کہ شروع میں کہا گیا تصوف اس وقت ایک بے نام حقیقت تھا۔ لفظ تصوف کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ اس لیے کسی صحابی کو صوفی نہیں کہا جاتا اور اسی لیے اس عہد کی وہ خواتین جو عبادت و اطاعت اور زہد و تقویٰ میں سبقت لے گئیں ان کو بھی خواتین صوفیہ یا الصوفیات نہیں کہا جاتا۔ یہ فرق صوفیہ کرام نے خود  روا رکھا ہے۔ صوفیہ کے سب سے بڑے تذکرہ نگار ابو عبدالرحمن السلمیؒ نے صحابہ و تابعین کے عہد کے لوگوں کے لیے لفظ ’نساک‘ استعمال کیا ہے اور فضیل بن عیاضؒ کے بعد سے نساک کا ذکر لفظ صوفی سے کیا ہے۔ تصوف و سلوک کی اس روایت میں حضرت حسن بصری کو پیشوائی حاصل ہے۔ اگرچہ وہ بھی صوف(اون) نہیں پہنتے تھے اور انھوں نے بعض اوقات اون پہننے کو ناپسند بھی کیا ہے، لیکن ان کے بعض تلامذہ اون پہنتے تھے۔ حالانکہ وہ خود معروف معنوں میں صوفی نہیں تھے، لیکن صوفیہ ان کو ہی اپنا سرخیل اور امام تسلیم کرتے ہیں۔ تصوف کی تاریخ اور صوفیہ کے احوال پر شروع سے ہی متعدد کتابیں لکھی گئیں۔ان میں سب سے اہم السلمی کی طبقات الصوفیہ ہے۔اس کتاب میں صرف مرد صوفیہ کے احوال ہیں۔السلمی نے ہی ایک دوسری کتاب خواتین صوفیہ کے حالات پر بھی لکھی انہوں نے اس کتاب میں چوتھی صدی ہجری یعنی دسویں صدی عیسوی تک کی معروف صوفی خواتین کاتذکرہ لکھاہے،
زیرِ نظرسطورمیں اس کتاب کاتعارف کرایا گیاہے اور د کھایاگیاہے کہ خواتین نے اس دورمیں تصوف کے آغاز اوراس کے ارتقاء میں کیاکرداراداکیا۔زیر نظرکتاب کا اصل عربی متن سب سے پہلے 1993ء میں محمود محمد الطناحی اس پر بہترین حواشی لکھے اور مشکل مقامات کی تشریح کرکے شائع کیا۔اس کے بعد مصطفی عبد القادر عطا نے اس کوطبقات الصوفیہ کے ضمیمہ کے بطور شائع کیا۔ تصوف کی روایت میں جس طرح حضرت حسن بصریؒ کا نام اساطین میں لیا جاتا ہے، اسی طرح خواتین صوفیہ میں حضرت رابعہ بصریہؒ کا نام لیا جاتا ہے۔ حضرت رابعہ اپنے وقت کی اور ہر زمانے کی سب سے مشہور صوفی خاتون ہیں۔ السلمی نے اپنی کتاب میں لکھاہے کہ ان کے عہد کے بہت سے علماو صلحاان سے استفادہ کرتے تھے ۔سلمی نے لکھا ہے کہ امام سفیان ثوریؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے اور ان کو اپنی مؤدبہ کہتے تھے۔ سلمیؒ نے یہ بھی لکھا ہے کہ رابعہؒ کے علوم و حکمت کو سفیان ثوریؒ اور شعبہؒ نے روایت کیا ہے۔حضرت رابعہ کے علاوہ اور بھی بہت سی صوفی خواتین تھیں  جن کا تذکرہ السلمی نے کیا ہے مثلا حضرت شعوانہ کے بارے میںلکھا ہے کہ زاہد، عابد اور ارباب قلوب ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور ان کے علوم سے استفادہ کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتی تھیں۔
ابراھیم بن شیبانؒ نے عائشہ الدینوریہؒ سے تربیت حاصل کی اوروہ ان کے وصایا کو روایت کیا کرتے تھے۔ اس طرح بہت سی صوفی خواتین کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ مرد صوفیہ سے اخذ و استفادہ کرتی تھیں۔ جیسے بحریہؒ شقیق بلخی ؒکی مرید تھیں۔ امۃ الحمید بن القاسمؒ ابوسعید الخرازؒ کی شاگرد اور خادمہ تھیں۔فاطمہ بنت احمد ؒ ابو عثمان کی شاگرد اور مرید تھیں۔ السلمی نے بعض مرد صوفیہ کے بارے میں لکھاہے کہ انہوں نے بہت سی صوفی خواتین کی عظمت اور ان کے مقام کا اعتراف کیا ہے۔مثلاابو سلیمان دارانی ؒنے ام ہارون الدمشقیہؒ کی بڑی تعریف کی ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے شام میں ان سے بہتر کوئی نام نہیں معلوم اسی طرح فاطمہ نیشاپوری ؒکی ابو یزیدؒ نے بہت تعریف کی ہے۔ السلمی نے بعض ایسی خواتین کا بھی ذکر کیاہے جن کا تعلق علمی یا سیاسی اعتبار سے بڑے گھرانوں سے تھاجیسے اسماعیل بن عیاشؒ ایک عظیم محدث اور امام تھے۔ ان کی والدہ بڑی متقی پرہیزگار اور صوفی خاتون تھیں(ان کا تذکرہ آگے آ رہا ہے)۔ مہلب بن ابی صفرہؒ جو عہد بنی امیہ کے بڑے سرداروں میں تھے، ان کی بیٹی ہند بنت مہلبؒ بھی بڑی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں۔ ان کی شادی حجاج بن یوسف الثقفی سے ہوئی تھی۔ان کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی وجہ سے خود ان کے والد مہلب بھی ان کا بڑا اکرام کرتے تھے۔(اعلام النساء 5؍204-256)
انھوں نے فرمایا کہ: جب اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت ملے تو اس کو شکرکے ساتھ آگے بڑھ کر قبول کرو قبل اس کے کہ اس نعمت پر زوال آجائے۔
السلمی نے صوفی مردوں کے پہلو بہ پہلو ان میں سے بعض کے گھرانے کی خواتین کا بھی تذکرہ کیا ہے جوبڑی عبادت گذاراورمتقی گزری ہیں۔ ابو عثمان الحیریؒ کی بیٹی عائشہؒ بہت مشہور صوفی تھیں۔ امام محمد بن سیر ینؒ کی بہن حفصہؒ بھی بہت مشہور صوفی خاتون تھیں۔بشر حافی ؒکی دو بہنیں زبدہؒ اور مضغہؒ بھی بڑی مشہور صوفی خواتین تھیں اور ابو سلیمان دارانیؒ کی دو بہنیں عبدہ ؒاور آمنہؒ بھی بڑی پائے کی صوفیہ تھیں۔ ان کا تذکرہ السلمی کے علاوہ بعض  دوسرے تذکروں میں بھی موجود ہے۔ احمد بن ابی الحواریؒ کی اہلیہ رابعہ بنت اسماعیلؒ بہت مشہور صوفی خاتون تھیں۔ اسی طرح فاطمہ ام الیمنؒ ابو علی الروذباریؒ کی اہلیہ بھی بڑی عابدہ و زاہدہ اور اعلیٰ پائے کی صوفی خاتون تھیں۔
جاری ہے!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”صوفی خواتین کا تذکرہ : ایک تعارف ۔ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *