انفجارعظیم ،بگ بینگ یا عظیم دھماکہ۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی

20ویں صدی سائنس میں منفرد مقام رکھتی ہے کیونکہ اِس صدی میں جتنی ترقی انسان نے کی اِتنی حاصل شدہ تاریخ میں کبھی نہیں کی گئی ۔  ترقی کے اِس سفر کے دوران کائنات کے ہر گوشے کے متعلق ایسے ایسے راز عیاں ہوئے جنہوں نے سائنسدانوں کو اب تک ورطہ حیرت میں ڈُبوئے رکھا ہے ۔چونکہ کائنات کے پھیلنے اور ساکن ہونے کا نظریہ پہلے سےسائنسدانوں میں موجود تھا اسی خاطر 1927ء میں جارجس لیماترے نے ایک مفروضہ پیش کیا کہ “اگر” ہماری کائنات میں موجود کہکشائیں مسلسل ایک دوسرے سے دُورہورہی ہیں تو اسی خاطر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایک وقت  میں یہ سب یکجا  تھیں ،اِس مفروضے کو بعد میں بیگ بینگ  یا انفجارِ عظیم کا نام دیا گیا۔
اس کے مقابلے میں ایک اور نظریہ پیش کیا گیا جس کو Steady State Theoryکہا جاتا ہے ،اس نظریے کے مطابق کائنات میں ہر لمحہ نیا مادہ جنم لیتا ہے جس کے باعث کائنات وسیع ہوتی جارہی ہے ۔ ان دونظریوں نے کافی عرصہ تک سائنسدانوں کو دو گروہوں میں تقسیم کر رکھا  ان دوگروہوں کے علاوہ ایک اور گروہ بھی موجودتھا جو یہ کہتا تھا کہ کائنات نہ تو پھیل رہی ہے اورنہ ہی سُکڑ رہی ہے بلکہ یہ ہمیشہ ایسی تھی، ایسی ہے اور ایسی ہی رہے گی 1931ء تک آئن سٹائن بھی انہی سائنسدانوں کے گروہ کا حصہ تھے جو کائنات کے ساکن ہونے پر یقین رکھتے تھے۔1929ء میں ایڈون ہبل نے ریڈ شفٹ  پرتحقیق کرنے کے بعد کنفرم کیا کہ کائنات ساکن نہیں بلکہ مسلسل پھیل رہی ہے ، بعدازاں 1964ء میں کاسمکس مائیکرو ویوز بیک گراؤنڈ ریڈیشن (Cosmic Microwave Background Radiation)دریافت ہوئیں جن کی پیشنگوئی بیگ بینگ تھیوری پہلےکرچکی تھی(جب آپ کیمرے سے اپنی تصویر کھینچتے ہیں تو کیمرے کی فلیش لائٹ جب  آنکھوں پر پڑتی ہے تو آنکھیں تھوڑی دیر کے لئے چندھیا سی جاتی ہیں) ان ریڈیشن کو بالکل اسی طرح بیگ بینگ  کی باقیات/ فلیش لائٹ قرار دیا گیا جوکہ پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں۔
بیگ بینگ کی یہ کہانی  بہت سے نشیب و فراز پر مبنی ہے ، جہاں اس میں 14 ارب سال جیسا انتھک سفر ہے وہیں اس میں پلانک ٹائم جیسی انتہائی مختصر سیر بھی ہے ۔ کہانی کی شروعات 13 ارب 80 کروڑسال پہلے ہوتی ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے زمان و مکاں سب کچھ ایک نقطے میں بند تھا، بلکہ نقطہ بھی ہمیں سمجھانے کےلئے کہا جاتا ہے دراصل یہ “نقطہ” اتنا چھوٹا تھا کہ ہائیڈروجن کے ایٹم سے بھی  (لامتناہی حد تک) چھوٹا تھا۔ اس ایک نقطے میں توانائی اپنا طوفان برپا کیے ہوئی تھی جس کے باعث یہ “نقطہ”  لامتناہی حد تک کثیف (dense) اور  گرم تھا ۔ یہی نقطہ آغازِ داستاں ہے اور اسی سے زمان و مکاں کا پھیلاؤ ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ بیگ بینگ کے انتہائی شروع کی داستان کو ہم پلانک ٹائم میں تبدیل کرتے ہیں۔ پلانک ٹائم دراصل وقت کا ایک انتہائی مختصر پیمانہ ہے جس کی نشاندہی کرنا ناممکن ہے، اس کے اختصار پن کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہےکہ ایک نارمل سیکنڈ میں تقریباً 19 کروڑ کھرب کھرب کھرب  پلانک سیکنڈز ہوتے ہیں (یعنی 2 کے آگے 43 صفر لگا دیں) لہٰذا آگے کہانی میں “پلانک سیکنڈز “اور “نارمل سیکنڈ “کے درمیان فرق ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔بیگ بینگ کے ایک ارب “پلانک  سیکنڈز “کے بعد ہماری کائنات ہائیڈروجن ایٹم کے سائز جتنی ہوگئی، اسی دوران سب سے پہلی جس قوت نے جنم لیا وہ کشش ثقل تھی، کشش ثقل کی پیدائش  کے ساتھ ہی کائنات کو ایک شدید جھٹکا لگا جسے ہم Shock waveکہتے ہیں اس جھٹکے کے نتیجے میں کائنات  اچانک سے ناقابلِ تصور رفتار سے پھیلی،جس کا  اندازہ ہم آگےلگاتے ہیں۔ ہائیڈروجن ایٹم جتناسائز کے ہونے کے چند ہزار “پلانک سیکنڈز ” بعد ہماری کائنات انسان کی ہتھیلی کے سائز کی ہوگئی، اس کے  بعد مزید چند کروڑ”پلانک سیکنڈز” میں ہماری کائنات کا سائز فٹ بال جتنا ہوگیا۔
یاد رہے ابھی بیگ بینگ ہوئے آدھا “نارمل سیکنڈ “بھی نہیں گزرا ۔فٹ بال کا سائز ہونے کے چند کروڑ “پلانک سیکنڈز “کے بعد ہماری کائنات کا سائز  زمین تک پھیل گیا،اس کے بعد مزید 1 کروڑکھرب “پلانک سیکنڈز “کے بعد ہماری کائنات کا سائز نظامِ شمسی جتنا بڑھ گیا، اسی دوران اس سے الیکٹران، پروٹان، نیوٹران، پازیٹران اور دیگر سب ایٹامِک پارٹیکلز وجود میں آئے اور Electromagnetic force سمیت دیگر قوتیں وجود میں آئیں۔ بیگ بینگ کے ایک “نارمل سیکنڈ “بعد اِس کائنات کا سائز ہماری کہکشاں ملکی وے جتنا ہوگیا تھا(چونکہ یہ تمام مراحل ایک سیکنڈ جیسی قلیل مدت میں وقوع پذیر ہوئے اسی خاطر سائنسدانوں نے اسے سمجھنے کے لئے پلانک ٹائم نامی ایک پیمانہ تخلیق کیا)۔ اس کے بعد سے اب تک ہماری کائنات وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے۔ یادرہے کہ کائنات کے پھیلاؤ کے متعلق مختلف مفروضے موجود ہیں ،اوپر ذکرکیا گیا کائنات کا پھیلاؤبھی ان میں سے ایک مفروضہ ہے جس کا موجودہ معلومات کی بنا پر حقیقت سے قریب تر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔بیگ بینگ کے پہلے سیکنڈ کے دوران بہت کچھ ہوا۔ کشش ثقل اور الیکٹرو میگنیٹک فورس وجود میں آئی مگر اس کے ساتھ مادہ اور زدِ مادہ وجود میں آئے ، چونکہ ہم سب مادہ سے بنے ہیں اور زدِمادہ  دراصل مادہ کا دشمن ہوتا ہے اور مادہ، زدِمادہ “لڑ” کر فنا ہوجاتے ہیں، اسی خاطر ان کے درمیان جنگ چل پڑی ، چونکہ مادہ مقدار میں زدِمادہ سے زیادہ تھا لہٰذا “جنگ” کے اختتام پر مادہ کے ذرات رہ گئے، ہم اور یہ کائنات انہی باقیات میں سے ایک ہیں۔ کائنات بننے کے پہلے 2 منٹوں تک درجہ حرارت ناقابلِ تصور حد تک گرم تھا، اتنا زیادہ گرم کہ اس میں ایٹم نہیں بن سکتا تھا، لیکن 2منٹ بعد کائنات کے پھیلاؤ کی وجہ سے درجہ حرارت تھوڑا سا کم ہوا اور سب ایٹامِک پارٹیکلز ایک دوسرے کے قریب آنے لگے اور ایٹم کی تشکیل ہونے لگی، سب سے پہلے جو ایٹم وجود میں آیا وہ ہائیڈروجن اور اس کے دیگر آئی –سو–ٹوپس تھے ، اس کے کچھ منٹوں بعد ہیلئم اور لیتھیم کے ایٹمز وجود میں آئے۔ اس موقع پر آکر طوفانی کیفیت تھوڑی سی تھم گئی اور ایٹمز کے بننے کا سلسلہ شروع ہوگیا، البتہ کائنات کا پھیلاؤ جاری رہا۔3لاکھ80 ہزار سال کے بعد کائنات شفاف ہونا شروع ہوگئی اس سے پہلے تک صرف دودھیا رنگ کے بادلوں میں آوارہ الیکٹرون “سیر سپاٹے” کرنے میں مصروف تھے، لیکن پھر الیکٹرانز کی رفتار دھیمی پڑنا شروع ہوئی اور روشنی کی پہلی کرن وجود میں آئی، اس اندھیری کائنات میں امید کی کرن کی طرح چار سُو پھیلی، انہی کرنوں کو ہم آج Cosmic microwave background radiation کے نام سے جانتے ہیں۔
انہی ریڈیشن کو دیکھنے کے لئے  ناسا  نے تین مشن لانچ کیے جنہوں نے بیگ بینگ کو سمجھنے میں مدد دی۔ جب ٹی وی خراب ہو یا ریڈیو میں آپ کوئی اسٹیشن سننا چاہ رہے ہوں تو اس دوران جو شور آپ سنتے ہیں وہ یہی ریڈیشن ہیں ، دراصل آپ کو “بیگ بینگ کی گونج” سنائی دے رہی ہوتی ہے۔تقریباً 20 کروڑ سال تک کائنات میں انہی بادلوں اور روشنیوں کا راج رہا، اِس طویل انتظار کے بعد کہیں پر مادہ اکٹھا ہونا شروع ہوا اور پہلا ستارہ چمکا جس نے ایک نئے عہد کے آغاز کی نوید سنائی۔
بگ بینگ کے ایک ارب سال بعد پہلی کہکشاں نے جنم لیا ۔آگے اربوں سالوں تک مختلف کہکشائیں، کلسٹر، سپر کلسٹرز وجود میں آئے۔ بیگ بینگ کے 8 ارب سال بعد کسی کہکشاں کے کنارے میں گیسی بادلوں کے مجموعے سے ایک ستارہ وجود میں آیاجسے ہم آج “سورج” کہتے ہیں،  مزیدایک ارب سال بعد اس ستارے میں جاری طوفانی کیفیت کچھ کم ہوئی اور ہماری زمین وجود میں آئی اور مزید 4 ارب سال کا عرصہ گزرنے کے بعد آج ہم یہاں اس پتھر کے ٹکڑے پر موجود ہیں ۔ہماری کائنات کی پرسراریت اس کے وسیع ہونے کی ہی وجہ سے ہے،آج ایک اندازے کے مطابق ہماری کائنات 93 ارب نوری سال وسیع ہے جبکہ 14 ارب سال سے یہ کائناتی تماشہ جاری و ساری ہے ، زندگی کے اِس اُلجھنوں میں پھنسے ہم انسانوں کی  حیثیت اس تماشے میں کیا ہے اس کا اندازہ لگانا بھی مُحال ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”انفجارعظیم ،بگ بینگ یا عظیم دھماکہ۔۔۔ محمد شاہ زیب صدیقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *