خواہشوں کی ڈاک۔۔۔ راحیل اسلم

چھٹی ہونے کا وقت جوں جوں قریب آ رہا تھا کام میں تیزی آتی جا رہی تھی۔اس ٹائم پہ سپروائزر سر پر کھڑا ہو کر کام کرواتا تھا تا کہ دن ختم ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ پراگریس شو کروا سکے۔یاسر بھی باقی مزدوروں کی طرح کام میں کم اور گھڑی پہ زیادہ دھیان لگاۓ ہوئے تھا کہ کب چھ بجیں گے اور چھٹی ہو گی تو روم میں جا کر سکون کا سانس لیں گے۔ اسی دوران اس کے فون کی گھنٹی بجی ،اس نے موبائل نکال کے دیکھا تو ملک سے بیوی کی کال تھی ۔چونکہ سپروائزر سر پر ہی کھڑا تھا تو اس نے کال اٹھانے سے گریز ہی کیا کہ پھر کون سپروائزر سے ماں بہن کی گالیاں سنے گا۔کال کاٹ کے فون دوبارہ جیب میں رکھا ہی تھا کہ کام سے چھٹی ہو گئی اور تمام مزدور بس کی طرف بھاگے۔گاڑی کی طرف بھاگنے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بس میں سیٹیں پچاس ہیں اور بیٹھنے والے ستر. تو جسے جگہ ملے وہ بیٹھ جاۓ وگرنہ دو گھنٹے کا سفر کھڑا ہو کر ہی کرنا پڑتا ہے۔

خیر اس نے سوچا کہ گاڑی کے لئے لائن میں لگنے سے پہلے گھر فون کر کے پوچھ لے کہ سب اچھا ہے اور اسی بہانے بچوں سے بھی بات ہو جاۓ گی۔ اس نے فون ملایا تو بیوی نے پہلی بیل پر ہی اٹھا لیا.ابھی اس نے پوچھا ہی تھا کہ سب خیریت ہے کہ اس کی بیوی نے حسب معمول اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی کہنی شروع کر دی کہ خیریت کیا خاک ہونی ہے.میں پچھلے دو مہینوں سے کہہ رہی ہوں کہ حاشر کا عقیقہ کب کرنا ہے اور تم سنتے ہی نہیں۔پرسوں تمہارے بھائی نے اپنی بیٹی کی سالگرہ کی تھی سب کو بلایا تھا. وہ بھی تو تمہاری طرح باہر ہی کام کرتا ہے۔ایک ہم ہی ہیں کہ خوشی نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ہماری زندگی میں ،میں بتا رہی ہوں کہ ہو نہ ہو مجھے اگلے مہینے ہر صورت حاشر کا عقیقہ کرنا ہے، بس .نان اسٹاپ بول کر اس نے حسب معمول جواب کا تکلف کیے بغیر فون کاٹ دیا. اور یاسر جس نے سوچا تھا کہ چلو بچوں سے بات ہو جاۓ گی تو دن بھر کی تھکاوٹ اتر جاۓ گی اب بوجھل قدموں سے بس کی جانب بڑھ رہا تھا ،جہاں پر بھی اسے اب زندگی کی طرح سہاروں کی مدد سے سفر کاٹنا تھا کہ، بہر حال سفر کرنا تو شرط ٹھہرا۔۔سارا راستہ وہ یہی سوچتا رہا کہ کروں تو کیا کروں؟؟ جانے کب  منزل آئی اور تمام لوگ بس سے اتر کر اپنے کمروں کی جانب لپکے۔مزدوروں کے رہنے کے کمرے بھی کیسی عجیب جگہ ہوتی ہے۔ایک کمرے میں دس دس لوگ ، پسینے کی بدبو، پریشانیوں اور جھنجھلاہٹوں کا حبس ، براۓ نام روشنی میں پھیلی ہوئی تاریکی کہ جو دن ہو یا رات بس گہری ہوتی رہتی ہے۔یہاں انسان اپنا غم اپنا دکھ درد کسی سے بانٹے بھی تو کیا کہ ہر شخص ہی اپنی پریشانیوں کی گٹھڑی اٹھائے ہانپتا پھرتا ہے اور کچھ دیر سستانے کے لئے سوچتا ہے کہ اپنا غم کہنے کو ہی سہی، کسی دوجے سے بانٹ کے چند لمحوں کے لئے یہ بوجھ اتارے کہ سانسیں بحال ہوں۔
یاسر نے بھی اپنا تنفس بحال کرنے کو اپنے دوست مجید سے بات کرنے کا سوچا تو مجید نے اسے مشورہ دیا کہ سپروائزر سے بات کر کے اگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس لے لو اور ساتھ میں اپنا اوور ٹائم بڑھا دو اچھے پیسے بن جائیں گے.اس کا مشورہ یاسر کو پسند آیا اور اس نے کل سے ہی اس پر عمل کرنے کا سوچ لیا۔رات کا کھانا کھا کر تمام لوگ اپنے بستر نما پر لیٹ گئے اور کچھ تو لیٹتے ہی باقاعدہ خراٹے لینے لگے اور وہ سوچنے لگا کہ نیند بھی کتنی بڑی نعمت ہے کہ چلو اسی بہانے ہی سہی انسان کو کچھ سکون تو ملتا ہے۔اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دن بھر کی طرح رات میں بھی اپنی حالتوں پر کڑھتے ، خوشحالی کے سپنے دیکھتے ، قرضوں کا حساب کرتے سوچنے لگے کہ بس یہ قرضہ اتر جاۓ تو ایک دن بھی اس عذاب میں نہیں رکنا اور وہ دن کبھی آتا ہی نہیں۔ہاں لیکن گھروں سے خواہشوں کے تار مسلسل آتے رہتے ہیں.اور خواہشوں کی ڈاک سے آنے والے یہ خط اتنے طویل ہوتے ہیں کہ ان کے جواب دیتے دیتے عمر رواں کب بیت جاتی ہے کچھ خبر نہیں ہو پاتی۔
یاسر بھی اپنی سوچوں کی بھول بھلیوں میں گم تھا وہ اکثر اپنے آپ کو دیکھ کر سوچتا کہ وہ کتنا بےبس ہے کہ اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ان کے خواب بھی پورے نہیں کر پاتا انھیں ایک بہتر مستقبل نہیں دے سکتا. جن کے لئے پردیس جھیلا جب واپس جاۓ گا تو انہی کے درمیان اجنبی بن کر رہ جاۓ گا. اسے رہ رہ کر کچھ دن پہلے کسی بس میں دیکھا یہ شعر یاد آ رہا تھا
یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئینے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

ابھی اس کی آنکھ لگنے کو ہی تھی کہ دوبارہ سے سائٹ پر جانے کا شور مچ گیا،تو کیا نیا دن چڑھ چکا تھا،شائد ہاں یا شائد نہیں،سائٹ پر پہنچ کر سب سے پہلا کام سپروائزر کو ڈھونڈنا تھا وہ اسے لے کر ایک سائیڈ پر گیا اور قریبا ًآدھے گھنٹے کی منّت سماجت کے بعد اسے رام کر کے دوبارہ سے کام کا آغاز کیا۔اس نے سوچا کہ آج سے ہی اوور ٹائم شروع کر دے گا تا کہ جلد پیسوں کا انتظام ہو سکے.آج وہ انتظار ہی کرتا رہا کہ شاید بیوی کا فون آ جاۓ تو وہ اسے بتا دے کہ وہ پیسوں کے لئے کوشش کر رہا ہے اور امید ہے کہ جلد ہی انتظام کر کے اسے بھجوا دے.لیکن فون نہیں آیا.شاید ابھی وہ پیسے چل رہے ہوں گے جو اس نے بھیجے۔اوور ٹائم لگاتے ہوئے اسے آج تقریباً ہفتہ ہو چلا تھا ۔شام ڈھلنے کو ہی تھی اور کام میں حسب معمول کہنے کو تیزی تھی. یاسر اک ڈھیر سے طابوق اٹھائے مستری کی جانب جا رہا تھا کہ جانے کن خیالوں میں اسے اک ٹھوکر لگی اور طابوق اس کے پیرپر آن گرا۔ایک لمحے کو اسے یوں لگا جیسے کسی نے جھٹکے سے اس کا پیر ہی کاٹ ڈالا ہو.انتہائی کرب کے عالم میں بھی اس کے منہ سے اک مدھم سی چیخ نکلی. اس کے پیر سے نکلتا خون صحرائی مٹی کو لال کرتا چلا گیا. ایمبولینس بلائی گئی اور اسے ہسپتال پہنچایا گیا جہاں اس کے پیر پر آٹھ ٹانکے لگے۔

آج کمرے میں بیٹھے اسے تیسرا روز تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو اوور ٹائم تو درکنار پوری تنخواہ بھی نہیں ملنی اور ایڈوانس تو کبھی بھی نہیں۔اگلے دن وہ خود ہی اٹھا اور سائٹ پر جا پہنچا.ابھی کچھ دیر ہی کام کیا ہو گیا کہ زخم رسنے لگا.اسے لگا کہ یہ زخم بھی ناسور بن جاۓ گا.وہاں ہی اک دوست سے کپڑا لے کر پیر پہ کس کے باندھا اور دوبارہ کام میں لگ گیا. اب ایک وزن تو سر پہ خواہشوں کا اٹھایا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ میں ضرورتوں کا. خیر جیسے تیسے کٹے پیر سے ادھڑا جسم گھسیٹتے مہینہ پورا ہوا تو سپروائزر کو یاد دہانی کروا کے تنخواہ کے ساتھ ایڈوانس کی رقم لی اور سارے پیسے ملا کے گھر بھیجے۔
گھر بیوی کو فون کر کے بتایا تو بہت خوش ہوئی اتنی خوش کہ اس دن بچوں سے بھی بات کروائی۔انکی آواز میں چہکتی خوشی نے پورا ہفتہ اسے تکلیف کا احساس نہیں ہونے دیا. ہفتہ بعد دوبارہ گھر فون کیا کہ آج کا دن عقیقہ کے لئے طے تھا اس نے سوچا بچوں سے بات کرتا ہوں اور پیسوں کا بھی پوچھ لیتا ہوں کہ پورے ہو گئے تھے. کال کی تو کافی دیر بعد بیوی نے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی کہا کہ ابھی بہت سے مہمان آئے ہوئے ہیں بہت مصروف ہوں ابھی بچے بھی باہر ہیں۔بعد میں فون کرنا پھر بات کرتے ہیں اور حسب معمول جواب کا تکلف کیے بغیر فون بند کر دیا.یاسر فون کان کو لگاۓ اس ٹون کو سن رہا تھا جو دل کے مریض کو لگائی مشین سے اس وقت آتی ہے جب دھڑکنیں رک جاتی ہیں۔اس نے سوچا شاید پیسے مل ہی گئے ہوں گے اور پورے بھی۔تب ہی تو بچے باہر کھیل رہے ہیں۔

Avatar
راحیل اسلم
گزشتہ کئی سالوں سے یو اے ای میں مقیم ہوں.ہیومن ریسورس کی فیلڈ سے وابستہ ہوں.ادب کا اک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور الله کی خاص رحمت سے نثر اور شعر میں طبع آزمائی کرتا رہتا ہوں..

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *