ایم ایم اے کی اثر پذیری ۔ طاہر علی خان

کیا ایم ایم اے یعنی متحدہ مجلس عمل بحال ہوجائے گی؟ کیا ایم ایم اے کی بحالی سے مذہبی سیاسی پارٹیوں کو کوئی خاص کامیابی مل سکے گی؟

ایم ایم اے کی بحالی کے حامی کہتے ہیں پاکستانی راۓ دہندگان بنیادی طور پر اسلام پسند ہیں اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے نوٹ اور ووٹ دینے کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ جس روز مذہبی پارٹیاں ایک جھنڈے اور ایک نشان تلے ان سے ووٹ مانگنے آئیں گی، سیکولر پارٹیوں کی لوٹ مار سے بیزار لوگ ایم ایم اے کو بھاری اکثریت سے نوازیں گے۔

یہ  لوگ دلیل دیتے ہیں کہ مثلاً  خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں 2013کے انتخابات میں جماعت اسلامی اور جمعیت العلماء اسلام کےارکان کی تعداد١١ اور ١٨ تھی مگر بیس سے زیادہ حلقوں میں ان دونوں کےمجموعی ووٹ تحریک انصاف کے  جیتنے والے امیدواروں کے ووٹوں  سے زیادہ تھے۔

یہ لوگ دلیل دیتے ہیں مذہبی پارٹیوں کے ارکان یاقائدین صاف کردار کے مالک ہیں جن پر کرپشن کا الزام نہیں۔ یہ نچلے یا درمیانی طبقے سے تعلق رکھتے اور یوں ان کے مسائل سے باخبر ہیں۔

تاہم اس کے برعکس ان کے مخالفین کے مطابق مذہبی پارٹیاں بھی ہر اعتبار سے روایتی سیاست والی پارٹیاں ہیں جو ہر وہ جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتی ہیں جس سےیہ اقتدار میں پہنچ جائیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں سابقہ ایم ایم اے حکومت کے بعد اب ایک مالدار مذہبی اشرافیہ وجودمیں آچکا ہے جو ماضی میں سائیکل تو نہ رکھتے تھے لیکن اب پرتعیش زندگی کے سارے وسائل سے مالامال ہیں۔

ایم ایم اے کا اثر؟

ایم ایم اے میں شامل پارٹیوں میں سےجمعیت علماء پاکستان اورجماعت اسلامی کبھی کراچی میں کچھ انتخابی طاقت کی حامل تھیں لیکن اب وہ صورتحال نہیں رہی۔

جماعت اسلامی پنجاب کے شہری علاقوں میں بھی کبھی قابل لحاظ طاقت رکھتی تھی مگر اب وہاں اس کو 500 تک ووٹ پڑنے لگے ہیں۔ بلوچستان میں یہ پہلے سے ہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پشاور کے این اے چار اورلاہور کے این اے ١٢٠میں جماعت کو بہت کم ووٹ پڑے۔ نوبت اب یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جماعت اسلامی اب خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن تک محدود ہوگئی ہے لیکن وہاں بھی پچھلے انتخابات میں اس کی کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔

سوات میں تحریک انصاف نے اس سے نشستیں چھین لیں، بونیر میں بھی اے این پی اور پی ٹی آئی نے اور دیر میں بھی اس کی بالاستی پی ٹی آئی کی جانب سےشدید خطرے سے دوچار ہے۔ عمران خان نے پچھلے دنوں دیر میں عوامی طاقت کا  جیسا بھرپورمظاہرہ کیا، اس کے بعد وہاں کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ جماعت کا باقی رہ جانے والا یہ واحد گڑھ بھی شاید اس کے ہاتھ سے نکل جاۓ۔

عمران خان کے اس دورے نے ان تمام لوگوں کو بالآ  خر ایک قابل بھروسہ متبادل سیاسی قوت فراہم کر دی ہے جوبہ امرمجبوری اب تک جماعت سے اس لیے وابستہ رہے ہیں کہ دیر میں جماعت کو شکست دینے کی طاقت رکھنے والی کوئی یقینی متبادل قوت تا حال دستیاب نہیں تھی۔ جماعت اسلامی عمران خان کے اس اقدام سے  یقیناً خوش نہیں ہوئی۔ عمران خان کے شدید مخالف  اور زیرک سیاستدان مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا اور سراج الحق کے ذریعے ایم ایم اے کی بحالی کا ڈول ڈالا۔

البتہ جمعیت علماءاسلام (ف) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اب بھی ایک بڑی انتخابی قوت ہے۔  ان حالات میں ایم ایم اے بحال ہو بھی گئی جواگرچہ ابھی تک یقینی نہیں، تو بھی اس کا زیادہ اثر صرف خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہی ہو گا۔ جبکہ ممکنہ طور پراس کا زیادہ تر فائدہ ماضی کی طرح مولانا فضل الرحمٰن ہی لے اڑیں گے۔ دوسری پارٹیوں کے ساتھ بہترین ورکنگ ریلیشن شپ اور جوڑتوڑ کی صلاحیت  کی وجہ سے وہ اپنے سیاسی امکانات میں اضافہ کرنے میں  کیونکہ وہ ماہر ہیں۔

 جماعت اسلامی کو البتہ ایم ایم اے کی بحالی یا مولانا فضل الرحمٰن کی جعیت العلماء اسلام کے ساتھ اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ سے ایک فائدہ یہ ملے گا کہ منبرو محراب سے اُس کے بانی مولانا مودودی یا اِس کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈہ بند ہو جاۓ گا۔

ایم ایم اے نے 2002 کے انتخابات میں بوجوہ زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ یوں تواس اتحاد میں شامل سب پارٹیوں کو فائدہ ہوا تھا لیکن بطورخاص جماعتِ اسلامی کو اس سے پہلی بار مختلف صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں اپنے سیاسی وزن سے بھی زیادہ نمائندگی مل گئی تھی۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ فوائد اس اتحاد کے مولانا فضل الرحمن کی جمعیت العلماء اسلام کے حصے میں آۓ۔ اس کے طفیل جےیو آئی (ف) کے اکرم خان درانی تب صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بن گئے، بلوچستان میں بھی جے یو آئی کی اتحادی حکومت بن گئی جبکہ مولانا قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد بن گئے تھے۔

یہ بات ابھی واضح نہیں کہ کیا ایم ایم اے کی بحالی کے لیے دوڑدھوپ کرنے والے واقعی اسے بحال کرنا چاہتے ہیں  یا وہ دیگر بڑی پارٹیوں کے ساتھ کسی ممکنہ انتخابی اتحاد یا ایڈجسٹمنٹ کے لیے اپنی بارگیننگ پوزیشن  کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امیرِجماعت اسلامی سراج الحق سے ایم ایم اے کی بحالی کا مژدہ سنوا کر خود اسی روزوہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ملنے چلے گئے تھے۔۔

مولانا فضل الرحمٰن ایک شاطر سیاسی کھلاڑی ہیں۔  مذہبی قائدین کے ساتھ اِس بیٹھک اور ایم ایم اے کی مجوزہ بحالی کا اعلان کرواکر انہوں نے کئی فوائد  پہلے ہی سمیٹ لیے ہیں۔

وہ مثلاً فاٹا کےصوبہ خیبر پختونخوا سے ادغام کے معاملے اور اپنی اتحادی مسلم لیگ (ن) حکومت کی جانب سے قانونِ ختمِ نبوت میں ترمیم کی کوشش پر تنہائی کا شکار ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس اقدام سے نہ صرف اپنی  سیاسی تنہائی کو ختم کردیااور اپنی سودےبازی کے امکانات کو وسیع کردیا۔

علاوہ ازیں اپنے سخت ترین حریف عمران خان کےایک حکومتی حلیف امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے ذریعے ایم ایم اے کی بحالی یعنی اپنے اتحاد کا اعلان خود اُن سے کرواکر اس امکان کا  اپنے تئیں سد باب بھی کر دیا کہ جماعت اسلامی مستقبل قریب میں تحریک انصاف کی اتحادی بن سکے گی اور  یوں دوبارہ کے پی کے میں حکومت بناسکے گی۔

مولانا عمران خان صاحب کی صوبائی حکومت اور فاٹا کے صوبے سے ادغام کو یہودی سازش اور ایجنڈا قرار دے رہے ہیں  جبکہ جماعت اسلامی اس حکومت کی اتحادی اور ادغام کی حامی ہے لیکن مولانا کے حوصلے اور سیاسی مہارت کو داد دیں کہ ان کےبقول اس ”یہودی سازش“ میں شریک سراج الحق صاحب کو اپنا ساتھی بھی بنالیا اورنہ اپنے خیالات سے رجوع کیا نہ سراج الحق سے ان بیانات پرمعافی مانگی۔

جماعت اسلامی اور تحریک انصاف صوبائی حکومت میں اتحادی ہیں۔  دونوں صاف و شفاف جمہوریت اور احتساب کے علمبردار ہیں، طالبان اور دہشت گردی پر ان کے موقف تقریباً یکساں ہیں، امریکہ، افغانستان اور ہندوستان وغیرہ پر بھی ان کی آراء میں کوئی فرق نہیں، اس لیے دونوں فطری اتحادی بنتے ہیں۔ باخبر ذرائع کہتے ہیں دونوں کے درمیان اتحاد یا ایڈ جسٹمنٹ خارج از امکان نہیں۔ یہ دونوں کے مفاد میں بھی ہے۔

طاہرعلی خان
طاہرعلی خان
طاہرعلی خان ایک ماہرتعلیم اورکالم نگار ہیں جو رواداری، احترام انسانیت، اعتدال اورامن کو عزیز رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *