نوسال میں بریگیڈئیر سے صدر مملکت۔۔اسد مفتی

جیسا کہ آپ جانتے ہیں سابق صدر و آرمی چیف جنرل ر پرویزمشرف نے 13نومبر کو پاکستان کے آئین اور آرٹیکل کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے ملک میں ایک وکھری قسم کا مارشل لاء لگایا دیا تھا،جس کے نتیجے میں عدالت نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنا دی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بات شروع کرنے سے پہلے میں آپ کو ماضی بعید کی ایک خبرسے روشناس کروانا ضروری سمجھتا ہوں،جس میں بتایا گیا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،جس کے لیے اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹیریٹ میں درخواست جمع کرادی گئی ہے،علاوہ ازیں صدر کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6کے تحت لاہور ہائی کورٹ میں دائر رٹ درخواست پر حکومت سے جواب طلب کرلیا گیا ہے،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدامات کو عدلیہ کی جانب سے غیر آئینی قرار دیا جاچکا ہے،اس لیے ان کے خلاف تین نومبر کے حوالے سے غداری کا مقدمہ قائم کیا جائے،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کارروائی کرتے ہوئے حکومت سے آئینی وضاحت طلب کرلی ہے۔

جنرل پرویز مشرف دراصل ایک ٹکراؤ اور ہنگامے کی پیداوار ہے۔”حقیقی جمہوریت “کا بانی یہ فوجی نو سال میں بریگیڈئیر سے صدر مملکت تک جاپہنچا،جبکہ عام حالات میں صرف جرنیلی تک پہنچنے کے لیے تیس سال پیشہ ورانہ مدت  درکار ہوتی ہے،تختِ اسلام آباد سے اس کا اترنا دراصل ہماری بدنصیبیوں میں سے ایک کی کمی ہوئی تھی،6اکتوبر 2001کو آرمی چیف کی حیثیت سے اسکی مدت ملازمت ختم ہوگئی تھی،ایک  سرکاری ملازم کی حیثیت سے بھی جنرل کا دس اگست2003کو ساٹھ سال کی عمر تک پہنچنے پر دیانت داری سے ریٹائرڈ ہوجانابنتا تھا۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ پاکستان کی مختصرسی  تاریخ میں تمام آرمی چیفس تین سال تک فوج کی سربراہی کے بعد ریٹائرڈ ہوگئے،سوائے جنرل ایوب خان،جنرل ضیاالحق،اور جنرل پرویز مشرف کے،جنہوں نے ملک پر ہی قبضہ کرلیا۔

علاوہ ازیں جنرل اشفاق پرویز کیانی بھی اپنی دوسری باری لے کر گئے ہیں سپریم کورٹ نے جو طویل،تاریخی اور لاثانی فیصلہ سنایا تھا،اسے پاکستان کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت حاصل رہے گی،عدالت عظمیٰ نے تین نومبر 2007کو جنرل پرویز مشرف کی نافذ کردی ایمرجنسی کو غیر آئینی،غیر قانوی اور غیر اخلاقی قرار دیتے ہوئے ہنگامی حالات کا اعلان کرنے کے بعد سابق صدر نے چیف جسٹس کی حیثیت سے عبدالحمید ڈوگر سمیت جتنے بھی ججوں کی تقرری کی وہ ساری تقرریاں غیر آئینی اور غیر قانونی تھیں،یہی نہیں،بلکہ اسلام آباد میں راتوں رات جوہائی کورٹ قائم کردی تھی،وہ بھی غیر قانونی قرار پائی،اس تاریخی فیصلے سے تین ماہ قبل “میں تو کسی سے نہیں ڈرتا”کہنے والا جنرل برطانیہ چلا گیاتھا۔جس پر اگلے ہی روز برطانیہ کے اخبار گارڈین نے ایک رپورٹ شائع کی،جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعداس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف پاکستان کے بارے میں بھول کر برطانیہ میں جلا وطنی کی زندگی گزاریں گے،اسی دوران انسدادِ دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت کے جج رانا نثار احمد کے حکم پر پرویز مشرف کو اشتہاری ملزم قرار دے کراخبارات میں اشتہارات شائر کرائے گئے،عدالت نے پرویز مشرف جسے بے نظیر بھٹو قتل کیس میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا کے تمام اثاثے اور جائیداد کو منجمد کرنے کی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

عدالت نے سابق صدر کی منقولہ اور غی منقولہ جائیداد سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلیں،اور پرویزمشرف کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے،جنرل اس وقت لندن میں قیام پذیر تھااور اس نے عدالت کے تمام نوسٹ اوراحکامات کو نظر انداز کردیا،انہی دنوں اس نے بین الاقوامی میڈیاکو انٹرویو دیے جو آج تک جاری و ساری ہیں،لندن میں اسلحہ کے تاجر اپنے دوست سے ایک مہنگااپارٹمنٹ خریدا،اپنے پہلے انٹرویو میں “میں کسی سے نہیں ڈرتا’ کی گردان کرنے والاآمر اشتہاری اورکمانڈو نے کہا “بیرون ملک مصروفیات بہت زیادہ ہوگئی ہیں،اس لیے بار بار پاکستان آنے جانے کی بجائے باہر ہی رہنا چاہتا ہوں،ان دنوں میں جمہوریت پر لیکچر دے کر محظوظ ہورہا ہوں “۔ریٹائرڈ جنرل کو وردی اتارنے “جسے وہ اپنی کھال کہتا تھا”کے تیس لاکھ اور پنشن کی مد میں ہر ماہ پچاس ہزار روپے اداکیے جارہے ہیں،ریٹائرڈ ہونے پر جنرل کی جائیداد(پاکستان)میں کا تخمینہ لگ بھگ دو ارب تک لگایا گیا ہے،اس پر حقیقی جمہوریت کا بانی اور”دیسی اتاترک”جرنیل کا جمہوریت پر لیکچر بازی اور انٹریوگردی سے اوپر کی آمدنی کا تخمینہ لگانا اہلِ حساب کتاب کاکام ہے۔

جنرل پرویز مشرف یوں تو اپنے خلاف مقدموں میں خود کفیل ہیں تاہم سپریم کورٹ نے فوری طور پر ان پانچ درخواستوں کی سماعت شروع کردی ہے،جن میں 2007میں
آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایمرجنسی کا نفاذ شامل ہے،ان تمام خلاف ورزیوں پر مشرف کیخلاف بگاوت کے مقدمات چلانے کی درخواست کی گئی ہے،میرے حساب سے اگر پرویز مشرف بغاوت کے ان مقدمات میں سزا سے بچ بھی جاتے تو اکبر بگٹی کا قتل،لال مسجد کا سانحہ اور کارگل آپریشن منہ کھولے کھڑے تھے،یہی وجہ تھی کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ یہ فوجی آمر ان حالات میں پاکستان آنے کا فیصلہ نہیں کرے گا،لیکن یہ شخس کس کے کہنے پر اور کس کی حمایت سے پاکستان میں داخل ہواہے،اس کا راز ایک راز ہی رہے گا۔

اب ایسا لگتا ہے کہ عہد آمریت کے ان تمام نقوش کو مٹادیا جائے گا،جن کی وجہ سے مملکت خداداد کو پوری دنیا میں ذلت ورسوائی اٹھانا پڑی ہے،دیکھنے والی نظریں دیکھ رہی ہیں کہ پاکستان ان تعلقات کی تلافی کے لیے کمربستہ ہے،جو عدلیہ کی معطلی کے بعد قانون و انصاف کو یرغمال بنائے جانے کی وجہ سے ہوئے،انہی نقصانات میں ایک آمر کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات بھی شامل ہیں،جن پر عدالت عالیہ بالخصوص چیف جسٹس سپریم کورت کھوسہ گلزار کی گرفت نہ ہو یہ ممکن نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مبصرین(جن میں،مَیں بھی شامل رہا ہوں)کا کہنا ہے،کہ پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچا ہے،میری جنتری میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ 11 اگست1943میں دہلی میں پیدا ہونے والا اور جمنا کا پانی پینے والا یہ جنرل پرویزمشرف پہلا پاکستانی جنرل ہوگا،جس کا “دھڑن تختہ”ہوگا۔۔وہ چاہے کارگل ایشو ہو،یا آئین سے بغاوت کرنے، دبئی یا لندن کے جوتشی اور پنڈت تو یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ پرویز مشرف کو اقتدار ہر قابض ہونے سے پہلے فوج لومڑی کی ” نظریہ ضرورت” کے تحت حکومت پر قبضہ کرلیتی تھی،لیکن پرویز مشرف جسے پاکستانی عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے،نے ایک ہاتھی کی ملک،اقتدار،سیاست اور جمہوریت کو روند ڈالا۔انھوں،منشیات کے عادی افراد اور تحریک انصاف کے علاوہ سب جان چکے ہیں کہ پاکستان کو بچانا تو فوج کو سیاست سے بہت دور رکھنا ہوگا۔پرویز مشرف ہو یا اشفاق کیانی یا کوئی بھی جنرل ہو،فوجیوں سے جمہوریت کی توقع رکھنا سورج سے پانی کشید کرنے کے مترادف ہے۔
آدھی صدی گزر گئی بالغ نہ ہوسکا
اے کشورِ حسیں تیری قسمت خراب ہے!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *