فوج اور ملک چند افراد کے قبضے میں ہے ۔۔اظہر سید

سات گھنٹے طویل کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور نے کہا تھا آرمی چیف فوج سے بالا نہیں اور فوج ملک سے بالا نہیں ۔اکتوبر 2017 کی اس کور کمانڈر کانفرنس کے بعد ساڑھے تین سال کے عرصہ میں اس ملک کے ساتھ جو کچھ ہوا اسکی جھلکیاں ہر شہر ،قصبے اور گاؤں میں چوری ،ڈکیتی کی وارداتوں میں ہوش ربا اضافہ اور لاقانونیت کے بڑھتے ہوئے واقعات میں نظر آتی ہیں۔گوادر میں تین روز قبل ہزاروں افراد کے مظاہرے میں جو نعرے لگائے گئے خوف آتا ہے چھوٹے سے شہر میں نفرت اس مقام پر پہنچ گئی ہے اگر کہیں لیڈرلیس مظاہرے شروع ہو گئے طاقتور فوج عوامی ردعمل کا کیسے سامنا کرے گی ۔

سات گھنٹے طویل کور کمانڈر کانفرنس کے شرکا ریٹائر ہو چکے ہیں سوائے آرمی چیف اور جنرل آصف غفور کے ۔ان تمام فارمیشن کمانڈرز کو ڈی ایچ میں پلاٹ مل چکے ہیں ، زرعی اراضی منتقل ہو چکی ہے ۔بیشتر فارمیشن کمانڈر ریٹائرمنٹ کے بعد سول اداروں میں بھی خدمات سر انجام دے رہے ہیں یا دے چکے ہیں ۔
پناما کیس کی سماعت کرنے والے عدلیہ کے مشہور زمانہ پانچ کے ٹولہ کے تین ہیرے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں ۔
پناما کیس کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو قانون کی چکی میں پیسنے والے مشہور عالم چمی سربراہ جاوید اقبال بھی آئینی مدت کی تکمیل تک پہنچ گئے ہیں ۔
سپریم کورٹ سے فیض آباد دھرنے میں سزا وار قرار پانے والے جنرل فیض بھی ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے کی مدت مکمل کر چکے ہیں ۔
جن کرداروں نے ریاست کو اس مقام تک پہنچایا کہ سی پیک پر کام ہی تعطل کا شکار نہیں ہوا عوامی جمہوریہ چین سے تعلقات بھی ماضی ایسے نہیں رہے ۔
پاکستان پر مختلف نوع کی پابندیاں عائد ہو گئیں ۔امریکی سینٹ میں طالبعلموں کی مدد پر پابندیوں کا بل پیش ہو رہا ہے ۔

ریاست ٹیکنکلی دیوالیہ ہو چکی ہے اور ادائیگیوں کے توازن کیلئے عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط ماننا پڑے رہی ہیں اور سول وار کی طرف سفر تیزی سے جاری ہے ۔
مریم نواز نے جنرل فیض حمید کے متعلق جو تیز و تند زبان استعمال کی وہ ایک المیہ کہانی ہے کہ ایک فرد کی ریاست کے ایک شاندار ادارے پر اس قدر گرفت تھی کہ انتقامی کاروائی کے خوف سے ایک مقبول سیاسی راہنما نے اس وقت اسے لتاڑا جب ادارے میں اسکی جگہ دوسرا جنرل آگیا یعنی ریاست کا ادارہ ریاست کی بجائے ایک شخص کیلئے استعمال ہو رہا تھا ۔
جب اداروں کو ریاست کی بجائے افراد اپنی کھال بچانے کیلئے استعمال کرنے لگیں تو اسوقت ابصار عالم اگر جنرل کے ٹیلی فون کا زکر کر دے تو اسے گولی ماری دی جاتی ہے ۔
فوج کا ایک ریٹائرڈ افسر عدلیہ کو آرمی ایکٹ کی کاپی دے دے اسے گرفتار کر کے بھارتی   ایجنٹ بنا دیا جاتا ہے ۔
جج ارشد ملک پراسرار انداز میں کرونا کا شکار ہو جاتا ہے ۔
مولوی خادم حسین دھمکی دے دے کہ” بتا دوں گا مجھے فیض آباد کس نے بٹھایا”ایک ہفتے کے اندر کرونا کا شکار ہو جاتا ہے ۔

پاکستان کو اگر بچانا ہے اور اگر فوج کی عزت اور احترام بحال کرنا ہے تو اداروں کو افراد کے ذاتی فیصلوں سے بچانا ہو گا ۔آرمی چیف ہو یا ڈی جی آئی ایس آئی سب کو آئین اور قانون کے تابع کرنا ہو گا ۔
حالات جس طرف جا رہے ہیں جنرل فیض کو پشاور کا کور کمانڈر بنا کر بچت نہیں ہو گی ۔یہ ملک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں نہ فوج کا ادارہ کسی کی ذاتی جاگیر ہے ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد صرف اپیل کی بنیاد پر جنرل فیض حمید کو بے گناہ سمجھنا اور لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دینا فوج کے ادارے پر ہمیشہ سوالیہ نشان رہے گا ۔

کور کمانڈر کانفرنس سے ایک روز قبل سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو کور کمانڈر پشاور بنانے کی خبریں چلنا ایک بہتر عمل نہیں تھا ۔اگر عام حالات میں کور کمانڈر کانفرنس سات گھنٹے جاری رہ کر فیصلہ کر سکتی ہے کہ آرمی چیف فوج سے بالا نہیں تو اب غیر معمولی حالات ہیں ۔ اب بھی فارمیشن کمانڈر کو سات گھنٹے طویل اجلاس میں فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ ہمسایہ میں طالبعلموں کی معاونت کی حکمت عملی تبدیل کرنا چاہئے اور کابل میں چائے پینے والے جنرل کو پشاور کا کور کمانڈر بنانا چاہیے یا نہیں ۔

چند افراد باقی بچے ہیں ۔حالات اسقدر تیزی سے خراب ہو رہے ہیں یہ چند افراد بہت جلد تنہا ہو جائیں گے ۔جو تبدیلی لائے تھے وہ چاہے یدلیہ میں ہوں یا اداروں میں وہ کم ہی بچے ہیں ۔جن لوگوں کا ساڑھے تین سال کے دوران اس معاشی تباہی میں کوئی ہاتھ براہ راست نہیں تھا وہ کبھی بھی جنرل فیض حمید کی طرح اب کسی جج کو احکامات نہیں دیں گے ۔
کوئی ریٹائرڈ بریگیڈئر اب کسی جے آئی ٹی میں کسی مریم نواز پر سوالات کی بوچھاڑ نہیں کرے گا ۔

julia rana solicitors london

تبدیلی کے نتائج آگئے ہیں اب اس کا ملبہ وہی اٹھائیں گے جنہوں نے معیشت کی شاندار عمارت گرائی تھی ۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply