• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • بنجمن نیتن یاہو کی اختتام پذیر ہوتی سیاسی زندگی۔۔۔۔۔محمد مرادی

بنجمن نیتن یاہو کی اختتام پذیر ہوتی سیاسی زندگی۔۔۔۔۔محمد مرادی

موجودہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی تحلیل یا بقا کے بارے میں کئی ماہ کی بحث اور جدل کے بعد آخرکار اس کی تحلیل کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے اسرائیلی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں بینجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں موجودہ کابینہ کو جاری رکھنے پر اتفاق رائے حاصل نہ ہو سکا اور اس طرح مقبوضہ فلسطین میں مقررہ مدت سے پہلے ہی انتخابات منعقد کروانے کا فیصلہ ہوا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں موجودہ اسرائیلی پارلیمنٹ اور کابینہ ختم کر دی جائے گی اور اپریل 2019ء میں مقررہ وقت سے پہلے ہی نئے انتخابات منعقد ہوں گے۔ معمول کے مطابق اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات نومبر 2019ء میں منعقد ہونا تھے۔ لیکن پارلیمنٹ اور کابینہ کی تحلیل کی اصل وجہ کیا ہے؟

گذشتہ چند ماہ کے دوران اسرائیل کو اندرونی اور علاقائی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان چیلنجز کے باعث موجودہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کئی بار ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہوئی ہے۔ اندرونی سطح پر اسرائیلی کابینہ کے ٹوٹنے کی بڑی وجہ پارلیمنٹ میں “یہود ریاست” نامی نسل پرستانہ قانون کی منظوری ہے۔ اس قانون کے بارے میں کابینہ میں اختلافات پائے جاتے تھے اور اسرائیلی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں اس قانون کی منظوری سے پہلے کہا تھا کہ اگر میری کابینہ ایک قانونی بل کی منظوری پر متفق نہیں ہو سکتی تو اس سے بہتر یہ ہے کہ کابینہ ٹوٹ جائے اور مقررہ مدت سے پہلے الیکشن منعقد کروا دیے جائیں۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کینیسٹ نے چند ماہ پہلے “یہود ریاست” نامی بل منظور کیا جس کا مقصد مقبوضہ فسلطین پر غاصب صہیونی رژیم کے ناجائز قبضے کو مزید مستحکم بنانا ہے۔ اس قانون میں پورے مقبوضہ فلسطین کو ایک یہودی ریاست کا مقام دیا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ اور کابینہ کی ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ نیتن یاہو اور ان کی بیگم پر قومی خزانے سے غیر قانونی طور پر رقوم نکلوانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کو درپیش سب سے بڑا بحران علاقائی سطح کا ہے۔ اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے 12 نومبر 2018ء کے دن اسرائیلی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 470 راکٹ فائر کئے اور اس طرح ایک بار پھر غاصب صہیونی رژیم کو سیاسی اور سکیورٹی میدان میں گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صرف دو دن بعد ہی حماس سے جنگ بندی کی درخواست کر دی۔ یہ اقدام اسرائیلی وزیراعظم کو بہت مہنگا پڑا کیونکہ اس کے اعتراض میں اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین مستعفی ہو گئے اور نیتن یاہو کی حکومت شدید سیاسی بحران کا شکار ہو گئی۔ لیبرمین کی جانب سے حکومتی اتحاد ترک کرنے کے بعد موجودہ اسرائیلی حکومت کے پاس پارلیمنٹ کی کل 120 سیٹوں میں سے 61 سیٹیں موجود تھیں لیکن اسرائیلی وزیر تعلیم نفتالی بنٹ نے بھی بنجمن نیتن یاہو کو بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ حماس سے شکست کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ دو ماہ میں کابینہ کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن آخر میں انہیں بھی ہتھیار پھینکنے پر مجبور ہونا پڑا اور مقررہ مدت سے پہلے الیکشن منعقد کروانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

موجودہ اسرائیلی حکومت کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ شام سے امریکہ کا فوجی انخلاء ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ شام میں موجود تمام امریکی فوجی وطن واپس آ جائیں جن کی تعداد دو ہزار کے قریب ہے۔ امریکی صدر کے اس فیصلے پر اسرائیلی میڈیا نے شدید اعتراض کیا ہے۔ اسرائیل ٹی وی کے چینل 10 نے امریکی صدر کے اس فیصلے کو “شام سے فرار” کا عنوان دیتے ہوئے اعلان کیا: “ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلیوں کو شام اور حزب اللہ کو اسلحہ فراہم کرنے والے روسی ٹرکوں کے آگے پھینک دیا ہے۔ درحقیقت امریکی تھنک ٹینکس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کو اسلامی مزاحمتی بلاک کے مقابلے میں اسرائیل کو اکیلا چھوڑ دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے امریکی صدر کے اس فیصلے کو کم اہمیت ظاہر کرنے کی بہت کوشش کی ہے لیکن اسرائیلی پارلیمنٹ کی تحلیل نے ثابت کر دیا ہے کہ تل ابیب ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام سے صدمے کا شکار ہوا ہے۔” اسرائیل گذشتہ آٹھ عشروں کے دوران پہلی بار شدید ترین بحرانی صورتحال کا شکار ہو چکا ہے۔ اس وقت علاقائی دباو اور اندرونی سیاسی بحران کی وجہ سے اسرائیل سے یہودیوں کی نقل مکانی کی شدت میں بھی اضافہ ہو چکا ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کی سیاسی زندگی اپنے اختتام کی جانب گامزن ہے۔

بشکریہ https://www.islamtimes.org

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *