• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • بیوپاری کی گفتار میں عبدالستار ایدھی کی کردار کشی۔۔۔طاہر یاسین طاہر

بیوپاری کی گفتار میں عبدالستار ایدھی کی کردار کشی۔۔۔طاہر یاسین طاہر

حساس انسانوں کو دقیق مسائل کا ہر لمحہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بات بڑی تکلیف دہ ہے کہ ہم محسن کش لوگ ہیں۔ خود ترحمی مگر مذہب کا کاروبار کرنے والوں سے بڑھ کر کسی میں نہیں پائی جاتی۔ان کی خواہش نفس کو،ان کی توقع کے مطابق پذیرائی نہ ملے تو ان کے ہاتھ فتویٰ کی تلوار بہر حال موجود ہوتی ہے جسے وہ کام میں لاتے ہیں۔ میرا مشاہدہ ہے کہ بعض مولوی (یعنی مذہب کا کاروبار کرنے والے)سخت ہیجانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک انسانیت، ان کی ذات سے شروع ہو کر ان پہ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ہاں مگر سارے مولوی یا جنھیں ہم دین دار طبقہ کہتے ہیں، ایسے نہیں۔ کئی مولوی بہت خدا ترس ہوتے ہیں،ہم مگر سخت گیر رویے اور دین کی غلط تعبیرات کرنے والے مولویوں کی دریدہ دہنی پہ بات کر رہے ہیں۔فتویٰ کا فائدہ سماج کے بجائے براہ راست فتویٰ گر کو ہی ہوتا ہے۔ یہی تاریخ ہے۔

سماج کو تو فتاویٰ نے تقسیم در تقسیم کےے عمل سے گذارا۔اس سچ سے کوئی بھی ذی فہم و ذی ہوش انکار نہیں کر سکتا کہ ردعمل میں دیا گیا فتویٰ کسی بھی طرح علمی ، فقہی اور دقیق جدید و قدیم اسلامی مسائل سے میل نہیں کھاتا، وہ بس بغض ہوتا ہے اور کچھ بھی نہیں۔ ایک سخت گیر دریدہ دہن مولوی سے بڑھ کر خادم رضوی کی علمی حلقوں میں کیا پہچان ہے؟ممتاز قادری،عبدالستار ایدھی اور داتا سرکار کا تقابل کیا معنی؟ اس تقابل سے وہ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟اس سے قبل بھی وہ عبد الستار ایدھی کی خدمات کو اپنی ہذیانی کیفیت کا شکار کر چکے ہیں۔
واضح رہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ کے قائد خادم رضوی کا ایک بیان سامنے آیا ہے اور وہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پہ وائرل بھی ہے جس میں انہوں نے عبدالستار ایدھی کے جنازے میں اعلیٰ سول و عسکری شخصیات کی شرکت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ عبدالستار ایدھی بھیک مانگ کر ناجائز بچے پالتا رہا ، مال روڈ پر ان بچوں کیلئے اس نے پنگھوڑے رکھے ، یہ رونے والی بات ہے کہ وہ پاکستانی معاشرےکو کیا دے کر گیا ہے اور اس کو کس بات کا سلیوٹ مارا گیا ہے۔ خادم رضوی نے مزید کہا کہ میں پوری دنیا سے ایک سوال پوچھتا ہوںاور اس کے ساتھ میرا یہ سوال ان لوگوں سے بھی ہے جو اس کے جنازے کی رونقیں بڑھانے گئے تھے(اس موقع پر خادم رضوی کی زبان سے ان افراد کیلئے گالی بھی دی گئی)اوراخبارات نے اس کیلئے خصوصی ایڈیشن کا اہتمام کیا ، میرا یہ سوال ان سب لوگوں سے ہے کہ عبدالستار ایدھی نے ساری زندگی جھولی اٹھا کر ناجائز بچے پالنے کیلئے بھیک مانگی جبکہ ایک ہزار سال سے بھاٹی چوک میں بابا جی(داتا صاحب)بیٹھ کر کتنی دنیا پال رہے ہیں، جس وقت کوئی بھی جائے وہاں پر اور وہ اندر سے صاف نیت ہو تو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے جس چیز کی بھی نیت کرے اس کی مراد پوری ہو جاتی ہے۔
مولوی خادم رضوی کا یہ بھی کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی نے تو کسی کو ساری زندگی اپنی جیب سے کچھ بھی نہیں کھلایا اور ایک طرف ایک ہزار سال پہلے غزنی سے لاہور آکر مقیم ہونے والے داتا صاحب جن کے دربار پر آج بھی دنیا پل رہی ہے اسے تو کبھی عبدالستار ایدھی کو سلیوٹ مارنے والوں نے سلیوٹ نہیں کیا۔ خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ عبدالستار ایدھی کو صرف اس لئے اتنی کوریج دی گئ تاکہ ممتاز قادری لوگوں کو بھول جائے۔ اخبارات میں ایدھی سے متعلق مضمون لکھوائے گئے اور ان مضامین کا عنوان ’’محسن انسانیت، مسیحا‘‘رکھا گیا۔
یہ عجب رویہ ہے خادم رضوی کا،انھوں نے اپنی تقریر میں عبد الستار ایدھی کا تقابل ممتاز قادری اور حضرت داتا سرکارؒ سے بھی کیا اور عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی سے بھی۔یہ سوال بڑا اہم ہے کہ اگر عبدالستار ایدھی جھولیاں پھیلا کر مانگتا تھا تو خود خادم رضوی صاحب، اپنے مدارس اور جلسوں کے لیے رقم کہاں سے لاتے ہیں؟ ظاہر ہے چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے۔ ایدھی نے سادہ زندگی بسر کی اور دریدہ دہنی نہیں کی۔ہم ممتاز قادری کے عمل پہ کوئی فتویٰ نہیں دے رہے۔ہاں اتنا البتہ ضرور کہتے ہیں کہ کسی کی حیثیت یا جنت دوزخ کے فیصلے چھوٹے بڑے جنازے سے نہیں ہوتے۔کیا رسول اللہ ﷺ کے جنازے میں سینکڑوں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم موجود تھے؟ جناب زہرہ سلام اللہ علیھا کے جنازہ میں کتنے افراد تھے؟مولانا صاحب آپ کا کاروبار خسارے میں ہے۔آپ اپنی من پسند جنس کی کا من پسند منافع حاصل کرنے کے لیے ملاوٹ کر رہے ہیں۔آپ کا بنیادی نقطہ ہی غلط ہے۔ممتاز قادری سرکاری ڈیوٹی پہ تھا،ایدھی ایک سماج کارکن تھا اور حضرت داتا ہجویری ؒ ولی اللہ ہیں۔آپ کیا؟ اور کیسا تقابل کر رہے ہیں؟اگر سولہ ہزار ناجائز بچے ایدھی کے جھولےمیں آئے اور ایدھی فائونڈیشن نے ان کی پرورش کی تو اس میں برا ہی کیا ہے؟کیا یہ سب بچے نا جائز ہی تھے یا لاواث بھی تھے ان میں سے؟ کیا ان سب بچوں کو قتل کر دیا جاتا؟حضرت سمت درست نہ ہو تو منزل کھو جایا کرتی ہے۔آپ کے بنیادی نکات ہی آپ کی دلیل کو سپورٹ نہیں کرتے۔بے شک عبد الستار ایدھی پاکستان اور انسانیت کا وقار ہیں جبکہ آپ کو تو اپنے ہی حلقہ ارادت میں بھی مکمل سپورٹ حاصل نہیں۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بیوپاری کی گفتار میں عبدالستار ایدھی کی کردار کشی۔۔۔طاہر یاسین طاہر

  1. شدت جذبات میں یہ داغ نما مولوی صاحب یہ بھول گئے ہیں کہ داتا دربار میں بھی چندا جمع ہوتا ہے اور اس ٹائیپ کے حضرات اندر مدفون بابا جی پہ تو خشوع و خضوع سے چادر چڑھاتے ہیں اور باہر آکر اتنی ہی اکڑ سے باہر بیٹھے فقیر کو بھی روند کے بھی جاتے ہیں جس کو مدفون بابا جی سے زیادہ اس چادر کی ضرورت ہوتی ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *