• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • امجد صابری کے قاتلوں کی گرفتاری اور کراچی کے کشیدہ حالات

امجد صابری کے قاتلوں کی گرفتاری اور کراچی کے کشیدہ حالات

طاہر یاسین طاہر
کراچی ستم پیشہ افراد کے ہاتھوں کرچی کرچی ہے ۔کئی دھائیوں سے وہاں لسانی،قومی،صوبائی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل و غارت گری معمول ہے۔سرِ راہ ڈکیتیاں،سٹریٹ کرائمز،ٹریفک کے ہجوم میں سے مسافروں کو لوٹ لینا،بینک ڈکیتیاں اور اغوا برائے تاوان کراچی کی روز مرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بنا۔قربانی کی کھالوںپہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا حقِ ملکیت اس کے سوا ہے۔ کالعدم تنظیمیں اپنے زندہ ہونے کے ثبوتوں کے ساتھ کراچی میں موجود ہیں۔بوری بند لاشیں کیا ہوتی ہیں؟ یہ بھی اہل وطن کو کراچی ہی نے سمجھایا۔کبھی اس شہر کو غریب کی ماں کہا جاتا تھا۔پھر ایک منظم طریقے سے مختلف طبقات نے اپنے اپنے مفادات کی خاطر ستم پیشہ افراد کی ظالمانہ خدمات حاصل کیں اور کراچی لہو رنگ ہوتا چلا گیا۔

یہاں اس امر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ کراچی و بلوچستان سمیت ملک کے حالات خراب کرنے میں بھارت،اسرائیل اور افغان ایجنسیوں نے بھی اپنا منفی کردار ضرور ادا کیا ہے مگر ہم کلی طور پہ انھیں قصور وار نہیں سمجھ سکتے۔کیونکہ دشمن ملک کا کام ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے دشمن ملک میں امن کی صورتحال بہتر نہ ہونے دے، معاشی ترقی کا پہیہ روکے رکھے۔یہاں خرابی کی وجہ مگر اندرونی حالات ،سماجی عدم تحفظ کا احساس اور مکالمہ و دلیل کے بجائے فتویٰ کی زبان میں بات کرنا بھی ہے۔یہ عناصر مل کر فرقہ وارانہ و لسانی اور سیاسی عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور خرابی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ اس میں حکومتیں ہی قصور وار ہیں۔ریاستی ادارے اگر اپنا کام درست طریقے اور سیاسی دبائو کے بغیر کرتے تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

یہ امر درست ہے کہ کراچی کے خراب ترین حالات کو رینجرز آپریشن نے بہت حد تک درست کر دیا تھا مگر اچانک پھر سے ٹارگٹ کلنک یوں شروع ہو گئی کہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اس کھیل میں کوئی وقفہ تھا جو ختم ہوا اور کھیل وہیں سے دوبارہ شروع ہو گیا جہاں رکا تھا۔ یہ بہت خطرناک بات ہے۔اس کا تدارک ضروری ہے۔ٹارگٹ کلر کا قاتلانہ فن یہ ہے کہ وہ مشہور مذہبی،سیاسی و کاروباری اور سماجی شخصیات کو اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں۔معصوم شہریوں کی ایک طویل فہرست ہے جو نا معلوم قاتلوں کا نشانہ بنے ،انہی میں سے معروف قوال امجد صابری بھی ہیں جو گذشتہ رمضان المبارک کو ایک ٹی وی پروگرام کی ریکارڈنگ کے لیے جب گھر سے نکلے تو قاتلوں نے انھیں آن لیا۔حسب روایت سیاسی قیادت کی جانب سے بیانات آتے رہے کہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے،میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ ان کے قتل میں کراچی کی ایک لسانی سیاسی جماعت ملوث ہے،یہ بھی خبر شائع ہوئی کہ امجد صابری سے بھتہ مانگا گیا تھا جس کے انکار پر انھیں قتل کر دیا گیا۔جبکہ امجد صابری کے قتل کو فرقہ وارانہ تارگٹ کلنک کے پس منظر میں بھی دیکھا گیا کیونکہ امجد صابری مجالس عزا میں سوز و سلام پڑھنے بھی جایا کرتے تھے۔وجہ کچھ بھی ہو سکتی ہے۔مگر ایک ہمدرد،ایک فنکار ایک محبت کرنے والا انسان ہم میں نہ رہا۔ریاست کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرے۔جب یوں کوئی مشہور شخصیت سر راہ قتل کر دی جاتی ہے تو عام شہریوں میں خوف سرایت کر جاتا ہے کہ ملک کا اتنا ممتاز شخص اگر قاتلوں سے نہ بچ پایا تو عام آدمی کی حیثیت ہی کیا ہے؟

یوں معاشرےمیں ایک ہیجان جنم لیتا ہے ۔ خوف زدہ معاشرہ نہ تو علمی ترقی کر سکتا ہے نہ ہی معاشی،البتہ ایسے معاشروں میں فتویٰ گروں کی چاندی ہو جایا کرتی ہے۔کنفیوژن ایک بیماری ہے۔ریاست گاہے اس ہتھیا کو اپنے ہی شہریوں کے خلاف بھی استعمال کرتی ہے۔اس کی ایک مثال امجد صابری کے قاتلوں کی گرفتاری کا تازہ اعلان ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے دو افراد کو گرفتار کیا ہے جوامجد صابری کے قتل سمیت دیگر ہائی پروفائل کیسز میں ملوث ہیں۔کراچی پولیس کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ایس ایس پی راجاعمرخطاب کی سربراہی میں سی ٹی ڈی نے کراچی کے علاقے لیاقت آباد سے دو ملزمان اسحاق عرف بوبی اور عاصم عرف کیپری کو گرفتار کر کے ان سے اسلحہ برآمد کیا ہے جبکہ باقاعدہ تفتیش کے بعد ان ملزمان کے 28 واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ دونوں ملزمان کے حوالے سے واضح ثبوت ہیں کہ یہ 9 بڑے واقعات میں ملوث ہیں۔ جن میں سے
29 اکتوبر کو ناظم آباد میں مجلس عزاپر حملہ،17 اکتوبر کو لیاقت آباد میں مجلس عزا پر حملہ، 26 جولائی کوصدر میں دو فوجی اہلکاروں کا قتل، 22 جون کو امجد صابری کا قتل،21مئی کو عائشہ منزل پر دو ٹریفک اہلکاروں کا قتل،

20 اپریل کو پولیس اہلکاروں پر حملہ، دسمبر 2015 میں تبت سینٹر کے قریب ملٹری پولیس اہلکاروں کا قتل، 20 نومبر2015 کو اتحاد ٹاؤن میں رینجرز اہلکاروں پر حملہ، 29 اگست 2015 کو سپریم کورٹ کے وکیل سید حامد حیدر کا حسن اسکوائر پر قتل۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملزمان کا تعلق لشکر جھنگوی نعیم بخاری گروپ سے ہے اوران کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک کالعدم تنظیم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’امجد صابری کو 22 جون 2016 کو قتل کیا گیا تھا اور ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کئی خبریں آئی تھیں لیکن مصدقہ اطلاعات اور ثبوت کے مطابق یہی دو افراد امجد صابری کے قتل میں ملوث ہیں۔انھوں نے کہا کہ عاصم عرف کیپری، امجد صابری کے پڑوسی تھے اور اب تک قتل کے حوالے سے وجوہات واضح نہیں ہوئی ہیں تاہم یہ فرقہ وارانہ واردات لگتی ہے کیونکہ امجد صابری مجالس میں جایا کرتے تھے۔

یہ بات قابل ستائش ہے کہ کراچی پولیس نے ایسے قاتلوں کو گرفتار کیا ہے جو ہائی پروفائل کیسز میں ملوث ہیں۔ہمارا سوال مگر یہ ہے کہ اگر امجد صابری کے قاتل اب گرفتار ہوئے ہیں تو اس سے پہلے جنھیں گرفتار کر کے اقبال جرم کروایا گیا وہ کون تھے؟اور اگر پہلے کسی نے اقبالِ جرم نہیں کیا تھا تو یہ خبر ’’ لیک‘‘ کیوں کی گئی کہ امجد صابری کے قاتلوں کو گرفتارر کر لیا گیا ہے؟اب جبکہ امجد صابری کے قاتل ایک بار پھر گرفتار ہو گئے ہیں تو انھیں کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے مگر اس بات کا کھوج بھی ضرور لگایا جائے کہ اچانک سے شروع ہونے والی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنک کے اسباب کیا ہیں؟ اور کیا کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے سارے ذمہ داران و متحرک کارکنان پر اداروں کی نظر تھی یا نہیں؟

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *