• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • نواز شریف کا پارٹی صدر بننا اور اس میں پیغام۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

نواز شریف کا پارٹی صدر بننا اور اس میں پیغام۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

پاکستان مسلم لیگ نواز پانامہ لیکس کے بعد کئی تکلیف دہ مراحل سے گذر رہی ہے۔اس امر میں کوئی کلام نہیں کہ اگر دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک کے وزیر اعظم اور اس کے خاندان کا نام اس طرح کرپشن کیسز میں آتا تو وہاں از خود وزیر اعظم استعفیٰ دے دیتا۔ یہاں مگر ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔چند خاندان اپنی خاندانی حکمرانی اور وجاہت و سیاست کو ہی جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔بہت سادہ سی بات ہے کہ وہ پارٹی کیسے ایک جمہوری پارٹی ، جمہوریت پسند اور فروغ جمہوریت و بقائے جمہوریت کی دعویدار ہو سکتی ہے جس پارٹی کا نام ہی ایک شخص کے نام سے جڑا ہوا ہو؟سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت کے دوران میں جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی تو اس کمیٹی کی تفتیش میں کئی نئی باتیں بھی سامنے آئیں۔سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف صاحب کو نا اہل قرار دے دیا اور یوں میاں صاحب وزارت عظمیٰ شاہد خاقان عباسی کے حوالے کر کے براستہ جی ٹی روڈ لاہور کے لیے روانہ ہو گئے۔
اسلام آباد سے لاہور تک، میاں صاحب نے فوج اور عدلیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ تاثر دیتے رہے کہ انھیں سی پیک منصوبہ بنانے کی سزا دی جا رہی ہے۔توانائی بحران کے خاتمے کا ذکر بھی وہ کرتے رہے اور میٹرو اور سڑکوں کا بھی، مگر ان کی تان یہاں آ کر ٹوٹتی ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی مسلم لیگ کو نوٹس کیا کہ مقررہ مدت کے اندر مسلم لیگ نواز اپنا صدر منتخب کرے،پارٹی مقررہ مدت میں یہ کام نہ کر سکی اور یوں الیکشن کمیشن نے کہا کہ نون لیگ کو شیر کا نشان الاٹ نہیں کیا جائے گا۔اس صورتحال میں لندن کی آسودہ فضا میں” ملکی ترقی اور جمہوریت بچانے “کے مشورے ہوتے رہے اور آخر کار مسلم لیگ کی “اجتماعی دانش” اس نتیجے پہ پہنچی کہ جمہوریت اور ملک کی بقا اسی میں ہے کہ نواز شریف ہی پارٹی صدر بنیں۔
اس حوالے سے حکمران جماعت نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا اور پارلیمان سے قانون منظور کروا لیا۔اب ایک سزا یافتہ شخص جو ایم این اے بننے کا تا حال اہل نہیں ہے، وہ مسلم لیگ نون کا سربراہ بن گیا اور وہ بھی یوں کہ بلا مقابلہ۔یاد رہے کہ کنونشن سنٹر اسلام آبادمیں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے پارٹی الیکشن میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف بلا مقابلہ پارٹی کے صدر منتخب ہو ئےہیں۔نواز شریف نے یہ عہدہ سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل کیے جانے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ تاہم پارلیمان میں منظور کیے جانے والے انتخابی اصلاحات کے بل کی وجہ سے ان کے پارٹی صدر بننے کی راہ میں حائل رکاوٹ دور ہو گئی تھی۔
پیر کو نواز شریف جب کنونشن سنٹر پہنچے تو مسلم لیگ ن کے اراکین اور سینیئر رہنماؤں سمیت کھچا کھچ بھرے کنونشن سنٹر میں نواز شریف کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔نواز لیگ کے الیکشن کمشنر چودھری جعفر اقبال نے باضابطہ طور پر ان کی جیت کا اعلان کیا۔اس موقع پر نواز شریف کا اپنی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب میں کہنا تھا ’آج کے دن ہم وہ قانون آمر مشرف کو لوٹا رہے ہیں جس نے نواز شریف کا راستہ بند کیا۔
انھوں نے کارکنوں کو بھر پور قوت کے ساتھ انہیں واپس لانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے مقبول جماعت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے نااہل کرنے کی کیا وجہ ہے۔آپ نے دیکھا کہ جو ملک کو ایٹمی قوت بناتے ہیں ان کا کیا حال کیا جاتا ہے۔ اور پانامہ پہ نہیں بلکہ اقامہ پہ وزیرِ اعظم کو نکال دیا جاتا ہے۔

بے شک مسلم لیگ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے لیے کسی رہنما کا انتخاب کرے،اور اس کی قیادت میں سیاست کرے۔ لیکن یہ بات حیرت افروز ہے کہ پوری مسلم لیگ میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں جو جمہوری عمل کا حقیقی حصہ بنے اور نواز شریف کے مقابل پارٹی صدارت کے لیے کاغذات جمع کرائے۔ ایسا صرف نون لیگ میں ہی نہیں ہوتا بلکہ پیپلز پارٹی اوردیگر جماعتوں میں بھی شخصی حکمرانیاں قائم ہیں۔ البتہ جماعت اسلامی کو استثنٰی ہے۔
میاں نواز شریف نے پارٹی کا صدر منتخب ہونے کے بعد کہا کہ آپ ہمیں نکالیں گے تو عوام اپنی قوت سے ہمیں بحال کرا دیں گے۔احتساب عدالتوں میں بھی میاں صاحب کے خلاف کیسز چل رہے ہیں۔یہ جو جمہوریت کا رونا رویا جا رہا ہے یہ اصل میں جمہوریت نہیں بلکہ کرسی کھو جانے کا دکھ ہے۔مسلم لیگ کی جانب سے نواز شریف کو پارٹی کی صدارت دینے کے لیے آئین میں انتخابی اصلاحات لانا، نون لیگ کی طرف سےادارہ جاتی برتری کے اظہار کا بھی ایک ذریعہ ہے۔ لیکن سوال وہی ہے کہ کیا نواز شریف ہی صرف جمہوریت پرست اور جمہوری عمل کے بہترین ڈرائیور ہیں؟ نہیں ایسا نہیں۔ابھی تک نواز شریف،اور ان کی پارٹی کے چند لوگ عدلیہ اور اسٹیبلشمنت کے حوالے سے جس طرح کی زبان بول رہے ہیں یہ اداروں میں تصادم کا پیغام بھی ہے اور خطرناک بھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نون لیگ نواز شریف اوران کے خاندان کا دفاع کرنے کی بجائے جمہوریت اور عوام کے مفادات کے لیے کام کرے۔ یہ کیسی جمہوریت ہے کہ ایک شخص کے نا اہل ہونے سے اسے خطرات دوچار ہو گئے۔اور وہ نا اہل شخص پھر سے پارٹی کا سربراہ بن کے عدالتوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *