پرواز۔۔۔ ساجدہ سلطانہ

 

آج وہ پھر روزانہ کی طرح اس کے در پہ جا پہنچا۔ وہ اسی طرح اداس سی، سر نہوڑاے کھڑکی میں بیٹھی تھی۔ اسے اس طرح قیدِ تنہائی میں سسکتا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے؟ نہ کوئی ساتھی نہ غمخوار، نہ بات نہ چیت، نہ گھومنا نہ پھرنا۔ وہ خود تو ایسا ہی تھا۔ دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا، ہلہ گلہ کرنا، شوخی اس میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی تھی۔ اور سیٹی بجانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ دوست تو اس سے باقاعدہ سیٹی کی فرمائش کیا کرتے تھے۔

ایسے ہی ایک دن گلی سے گزرتے ہوئےاس کی اس پر نگاہ پڑی اور وہ پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو گیا۔ پہلے پہلے اس نے دور سے اپنی مشہور سیٹی کا سہارا لیا، اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔ وہ ویسے ہی گم، سر جھکائے بیٹھی رہی۔ پھر ایک دن اس نے اس کی کھڑکی کے قریب جا کے سیٹی بجائی۔ وہ چونکی اور پھر خاموش نگاہوں سے اس کو تکنے لگی۔ اس کے بعد تو اس نے اپنا معمول ہی بنا لیا۔ دن میں تین چار بار اس کی کھڑکی کے پاس سے گزرنا اور سیٹی بجانا۔ چند دنوں میں ہی اس کو محسوس ہوا کہ اس کی پثرمردگی کچھ کم ہونے لگی اور اب انتظار اپنی چھب دکھلانے لگا تھا۔ وہ اس کی منتظر رہنے لگی۔ اس کی سیٹی سنتے ہی وہ سیدھی ہو بیٹھتی اور اشتیاق بھری نظروں سے اس کو دیکھتی۔ محبت اپنا جادو جگانے لگی۔ آخر کار وہ ایک دن موقع پا کر اس کی کھڑکی کے پاس پہنچ گیا، تاکہ کچھ بات کر سکے۔

سنو! کیا نام ہے تمہارا؟

اس نے شرم سے سر جھکا لیا۔ بتاؤ نا بھئی، اس نے زور دے کر کہا۔

میرا کوئی نام نہیں ہے، میرے مالک مجھے “چاندنی” کہتے ہیں۔ وہ ساد ہ لہجے سے بولی۔

واہ، کتنا خوبصورت نام ہے “چاندنی”، مجھے یہ نام بہت پسند آیا۔ مگر یہ کیا کہا تم نے، کیا کسی نے تم کو اپنا غلام بنا رکھا ہے؟ وہ لہجے میں تشویش لیے پوچھنے لگا۔

کچھ ایسا ہی سمجھو، یہ لوگ مجھے کھانے، پینے کو تو دیتے ہیں۔ مگر مجھے یہاں سے نکلنے نہیں دیتے۔ میں اس کھڑکی سے محدود دنیا اور آسمان کو تو دیکھ سکتی ہوں۔ لیکن کہیں جا نہیں سکتی۔ جبکہ میرا دل کرتا ہے کہ میں باہر جاؤں، گھوموں پھروں دنیا دیکھوں۔ مگر کیا کروں، مجبور ہوں۔۔۔۔ مگر یہ تو غلط ہے۔ اور ایسی بھی کیا مجبوری؟ غم و غصہ سے اس کا جسم لرزنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ پھر کچھ توقف سے بولا، تم میرے ساتھ چلو میں تمہارے خواب پورے کروں گا، میں تمہیں دنیا دکھاؤں گا۔ مری کی پہاڑیاں، سوات و کاغان کا حسن، سوئیزرلینڈ و برمنگھم سب کچھ دکھاؤں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔نہیں نہیں میں کہیں نہیں جا سکتی تمہارے ساتھ۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ باہر زندگی کو بہت سے خطرات ہوتے ہیں۔ مجھے ابھی نہیں مرنا۔ میں جینا چاہتی ہوں مجھے زندگی سے پیار ہے۔ارے میری چاندنی میں ہوں نا تمہارے ساتھ،  تمھاری حفاظت میں کروں گا۔ تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔

وہ تو ٹھیک ہے مگر۔۔۔ وہ ہچکچانے لگی

اگر، مگر چھوڑ دو چاندنی

اچھا تم مجھے یہاں سے نکالو گے کیسے؟

میں یہ کھڑکی توڑ ڈالوں گا، اور تم کو لے جاؤں گا۔

اچھا ۔۔۔ تو پھر چلو

اس نے کھڑکی کی ایک ایک اینٹ ہلا دی، جنگلا ٹوٹ گیا۔ چاندنی نکل آئی، دونوں نے ایک دوسرے کو مسکرا کے دیکھا اور چل دیئے۔

ارے امی ابو دیکھیں چاندنی کہاں گئیَ؟ چھ سالا گڈو طوطے کے پنجرے کے پاس کھڑا چلا رہا تھا۔ امی ابو نکل کے آئے تو دیکھا پنجرہ خالی ہے۔ پانی کی کٹوری کی جگہ سے جالی ٹوٹی ہوئی ہے اور فضا میں ایک بڑا خوبصورت طوطوں کا جوڑا محوِ پرواز ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *