غیرت۔ ۔۔سبط حسن گیلانی

یہ ایک نہایت ہی معمولی سی کہانی ہے۔ نہ انوکھی نہ ہی بے مثال۔ اس جیسی کہانیاں ہماری بستیوں کے ہر قبرستان میں بکھری پڑی ہیں۔کچھ ایسی ہیں جن کا نہ عنوان ہے اور نہ ہی کبھی ان کو پڑھا اور سنا گیا۔ بس دو چار سرگوشیاں اور پھر گہری چُپ۔کچھ ایسی ہیں جن کا کوئی خاص عنوان تو نہیں ہوتا بس دو چار ورق ادھر اُدھر بکھر جاتے ہیں، لیکن نہ کوئی سرا نہ پیر، مگر ہوتی وہ دل پر اثر چھوڑنے والی ہیں۔ان سب میں سے بہت کم وہ ہوتی ہیں جنہیں کوئی عنوان نصیب ہو پاتا ہے اور تھوڑا سا سر پیر بھی۔ یہ کہانی بھی اسی طرح کی کہانی ہے جو محبت سے شروع ہو کر غیرت پر ختم ہوئی۔جاننے والے جانتے ہیں کہ محبت اور غیرت میں فاصلہ بہت کم ہوتا ہے ،خاص کر جب معاملہ عورت کا ہوتو اکثر اوقات یہ فاصلہ چند لمحات یا چند گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے۔

چلیں چھوڑیں اس بحث کو آوکہانی چھیڑیں ۔ جیرو مصلن ہمارے گائوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی بستی میں رہتی تھی۔اس پندرہ بیس گھروں کی آبادی کو مصلیوں کی ڈھوک کہاجاتا تھا۔ پہلے یہ لوگ پکھی واس تھے۔بعد میں اپنی سہولت کے لیے گائوں کے چوہدریوں نے شاملات کا ایک ٹکڑا رہنے کے لیے دے دیا۔ یہاں پر انہوں نے تین تین چار چار مرلوں میں اپنی کھولیاں بسا لی تھیں ۔ شرط مگر یہ تھی کہ نہ زمین ان کے نام ہو گی اور نہ ہی وہ کسی دوسرے کو بیچنے کے حق دار ہوں گے۔ مرد چھج کھاریاں اور جانوروں کے لیے گانیاں ٹلیاں بناتے اور عورتیں مٹی کے کھلونے۔ مگر باہر دوسری بستیوں میں جاکر بیچنے اور گھر کا سودا سلف لانے کی ذمہ داری عورتوں کی تھی۔ جو پیسے بچ جاتے اس میں سے چند ٹکے وہ لُکا چھپا کر باقی کے پیسے مردوں کو دے دیتیں۔مرد ان پیسوں سے اپنا حقہ تمباکو اور بھنگ چرس خرید لیتے۔

اس بات کی قسم تو کوئی نہیں دے سکتا مگر ان کی عورتیں بدکردار نہیں تھیں،کبھی اس طرح کی کوئی بات دیکھی سُنی نہیں گئی، ماسواے افواہوں کے جوعموماً دیہاتی معاشرے کا حصہ ہوتی ہیں اور اس سے کوئی بھی بچ نہیں پاتا۔ نہ کوئی چوہدری نہ کوئی کمی۔اس طرح کی افوائیں عموماً وہلے واند اور ٹھرکی قسم کے دیہاتی چھوڑتے ، لوگ سن کر مسکرا دیتے اور ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے۔ جیرو کالے رنگ کی مگر تیکھے نین نقش والی عورت تھی۔پہلے پہل وہ بھی کھلونے اور چھج چھاریاں بیچنے جاتی رہی مگر شادی کے دو تین سال بعد اس نے باہر جا کر بیچنا چھوڑ دیا ، کہتی تھی میرا مرد شکی مزاج کا ہے آئے روز کھٹ وٹ چلتی رہتی تھی تنگ آ کراس نے باہر جانا چھوڑ دیا، اور ہمارے محلے کے تین چار گھروں کا کام سنبھال لیا۔ یہاں سے اسے آٹا دانہ اور کپڑا لتا بھی مل جاتا اور ہر ماہ کچھ پیسے بھی۔ہمارے گھر آتی تو کبھی کبھی اپنی بیٹی کو بھی ساتھ لاتی۔ جب میں نے اسے دیکھا وہ چار پانچ سال کی ہو گی۔رشیدہ نام تھا ماں اسے شیدو شیدو کہہ کر بلاتی ۔ شیدو بڑی صاف ستھری بچی تھی۔ماں کی طرح کالی نہیں سانولی رنگت والی خوبصورت بچی تھی۔ جسے دیکھ کر اکثر گھر میں بیٹھی عورتیں آپس میں سر جوڑتیں اور دبے دبے لفظوں میں اپنے مردوں میں سے کسی کا نام بھی لے لیتیں۔ ایک دن میں نے بھی سنا ہمارے رشتے کی ایک پھوپھی جنہیں اس طرح کی بے بنیاد قیافہ شناسی کا ٹھرک تھا۔ اُن کا خاوند بھری جوانی میں چھوڑ کر دوسری شادی رچا کر گائوں چھوڑ کر شہر بس چکا تھا۔اور وہ اس کا انتقام گائوں کے ہر فرد سے لیتیں۔

کوئی عورت مرد آپس میں ہنس کر بات کرتے پائے جاتے اور پھوپھی کی سی سی ٹی کیمرے جیسی نگاہوں میں آجاتے تو اسی دن لوگوں کو ایک نیا سکینڈل سننے کو ملتا۔ وہ بات اتنے وثوق سے کرتیں کہ جو انہیں نہ جانتا ہوتا فوراً یقین کر لیتا۔ وہ شیدو کو دیکھ کر اکثر اپنے جیٹھ کا نام لیتیں کہ اس کا نک اور متھا ہائو بہو بڑے چوہدری والا ہے ، لیکن سننے والے جانتے تھے کہ وہ اپنے جیٹھ سے ہر برائی اس لئے منسوب کرتی ہیں کہ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کی دوسری شادی کی حمایت کی تھی۔ میں ان دنوں میٹرک میں تھا ،جلد ہی میٹرک پاس کر کے مزید تعلیم کے لیے ابا نے مجھے کراچی چاچے کے پاس بھیج دیا ، کیونکہ پڑھائی میں ماٹھا تھا اور ابا کو بڑے ماسٹر جی نے مشورہ دیا کہ چوہدری صاحب نکے چوہدری کا پڑھائی میں ہاتھ خاصا تنگ ہے ، پنجاب کا کوئی کالج پہلے تو انہیں داخلہ نہیں دے گا اگر آپ نے اپنے اثرو رسوخ سے داخل کروا بھی لیا تو نکے چوہدری صاحب ایف اے کی سیڑھی بھی پھلانگ نہیں سکیں گے۔اس طرح مجھے کراچی بھیجا گیا۔ وہاں سے پورے چار سال بعد لوٹا کہ ابا کی شرط تھی کہ بی اے پاس کیے بنا گائوں کا رخ نہ کرنا۔ یہ بی۔ اے میں نے کس طرح کیا تھا یہ ایک الگ کہانی ہے۔ گائوں آکر دیکھا سب ویسے کا ویسا ہی تھا ، ماسی جیرو بھی ویسے ہی تھی بس اس کے سر میں چاندی جھلکنے لگی تھی ۔میرے گائوں واپس آنے کی خوشی میں یا بی ۔اے پاس کرنے کی خوشی میں جو میرا خیال ہے اپنی برادری میں غالباً پہلا بندہ تھا جس نے اتنی اعلیٰ تعلیم کا درجہ پایا تھا۔بے بے نے نکے گوشت کی چار اور بڑا دیگچہ چکوالی حلوے کا پکوا کر پوری برادری بلوائی۔ شیدو بھی کام میں ہاتھ بٹانے ماسی جیرو کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔مجھے بے بے نہ بتاتی تو میں پہچان ہی نہ پاتا۔ اب وہ بارہ تیرہ سال کی ایک خوبصورت دوشیزہ تھی۔چلتی تو کالی سیاہ ناگن جیسی گُت اس کی پنڈلیوں کو چھوتی۔چہرے پر نمک ماں سے بھی زیادہ۔میں نے ماں کو ٹھنڈا ساہ بھر کر کہتے سنا کاش یہ کُڑی میری انگ ساک ہوتی۔کچھ دنوں بعد میں واپس کراچی لوٹ آیا یہاں سے اوور سیز کا کورس کر کے مجھے ابوظہبی جانا تھا۔جہاں چچا کے ایک دوست بڑے افسر تھے اور انہوں نے میری نوکری کے لیے چچا سے وعدہ کر رکھا تھا۔ میں نے یہ کورس جوں توں کر کے مکمل کیا اور ٹرین پر دو تین دنوں کے لیے پنجاب گھر والوں سے ملنے آیا۔مجھے ماسی جیرو تو ملی مگر شیدو سے ملاقات نہ ہو پائی۔ بے بے نے بتایا وہ پنڈی ماسی کے پاس گئی ہے چونکہ مڈل پاس ہے وہاں سے ہیلتھ وزیٹر کا کورس کر کے گائوں میں نرس لگ جائے گی۔

میں یو اے ای چلا آیا اور دو سال بعد گھر چھٹی آیا تو شیدو کورس کر کے گائوں واپس آ چکی تھی۔اب وہ معزز ہیلتھ وزیٹرتھی گائوں کی ان پڑھ عورتیں اسے ڈاکٹرنی بھی کہہ کر بلاتیں۔ دوسرے دن وہ میری بڑی بھاوج کو انجکشن لگانے آئی تو میں نے اسے دیکھا اور جھوٹ نہ بولوں تو دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ اس وقت شرما گئی جب میں نے اسے کہا شیدو تم تو ہائو بہو بالی وڈ والی ریکھا لگتی ہو۔ یقین نہ آ ئے تو اس کی کوئی فلم دیکھنا۔ ایک ماہ کی چھٹی گزار کر میں واپس یو اے ای چلا آیا کوئی چھ ماہ بعد گائوں کے کا ایک مزدور جو یو اے ای میں مزدوری کرتا تھا برج خلیفہ چھٹی والے دن ملا تو ہم کھانا کھانے ہوٹل چلے گئے کہ اس طرح گپ شپ ہوتی رہے گی،جب پردیس میں دو گرائیں ملیں تو گپ شپ کا ایک ہی موضوع ہوتا ہے اپنا گائوں۔بے شک بندہ کتنا ہی لکھ پڑھ کر دانشور ہی کیوں نہ بن جائے مگر اس موضوع کی دلچسپی سے دامن بچا نہیں پاتا۔جب میں نے اسے کہا کوئی گائوں کی نئی تازی تو اس نے بڑی دلچسپی سے بتایا کہ جیرو مصلن کی بیٹی شیدو کا تمہاری برادری کے چوہدری شمشیر کے بڑے بیٹے سرفراز سے چکر چل رہا ہے۔ سرفراز آج کل اکثر اس کے گھر دیکھا جاتا ہے۔جیرو کا خاوند بیمار تھا تو چوہدری سرفراز ہی اسے پنڈی علاج کے لیے لے کر گیا۔ اب جیرو کام بھی صرف چوہدری شمشیر والوں کا ہی کرتی ہے۔ سرفراز نے شیدو کو اپنی بیٹھک کے باہر والے کمرے میں کلینک بھی کھول کر دیا ہے جہاں سے وہ دوسرے گائوں سے آنے والی عورتوں کا علاج کرتی ہے۔سرفراز اچھا سلجھا ہوا لڑکا تھا۔ میٹرک کرنے کے بعد اس نے پنڈی کے کسی کالج سے ایف۔ اے پاس کیا اورکھیتی باڑی کا کام سنبھال لیا تھا۔ ڈیری اور پولٹری فارمنگ سے اس نے خاصی ترقی کر لی تھی ، اب تو ایک سوزوکی آلٹو کار بھی خرید لی تھی ، ملاقات ہوئی تو مجھے بھی قائل کرنے کی کوشش کی کہ چوہدری واپس لوٹ آئو جدید طریقے سے اپنے باپ دادا کا کام سنبھالو تو باہر کو بھول جائو گے۔اور سچ ہے میں نے ان خطوط پر سوچنا بھی شروع کر دیا تھا چار ماہ بعد گائوں سے یہ دل دکھانے والی خبر ملی کہ شیدو قتل ہو گئی ہے۔ یہ سن کر مجھے بے حد دکھ ہوا۔ اس نے کس غربت سے اٹھ کر مقدور بھر تعلیم حاصل کی اور اچھے عزت والے روزگار سے عزت کی روٹی کما رہی تھی۔ بے بے بتا رہی تھی نگھار کُٹھی کی ماں اس کا رشتہ تلاش کر رہی تھی مگر برادری میں اس کے جوڑ کا کوئی لڑکا نہیں تھا۔پنڈ دادن خان کسی نے بتایا تھا کہ اس کی برادری کا ایک لڑکا دس جماعتیں پاس کر کے فوج میں سپاہی بھرتی ہوا ہے تو اس کی ماں وہاں جا کر رشتے کی بات چلانا چاہ رہی تھی کہ تقدیر نے اسے یہ دن دکھایا۔ اس کی لاش قتل والی رات کی صبح گائوں کے قریب نالے کے کنارے کوندل میں پڑی ملی تھی۔

میرے سامنے ناگن جیسی گت اور کالی شاہ آنکھوں والی ریکھا آ کھڑی ہوئی۔ گلا گھونٹ کر اسے قتل گیا گیا تھا۔ پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ ہفتے بعد خبر ملی پولیس نے چوہدری شمشیر کے بیٹے سرفراز کو گرفتار کر لیا ہے۔اور سرفراز نے قتل قبول کر لیا ہے۔ تقریباً چھ ماہ تک مقدمہ چلا ابھی کچی تاریخیں ہی پڑ رہی تھیں کہ خبر ملی راضی نامہ ہو گیا ہے اور سرفراز باہر آ گیا ہے۔چوہدری شمشیر کا حلقے کے ایم پی اے سے ملنا ملانا تھا ، وہ گائوں میں اس کے حامی دھڑے کا سربراہ بھی تھا۔معلوم ہوا یک لاکھ روپے نقد اور ایک بھینس دے کر شیدو کے والد سے چوہدری نے ایم پی اے کے ڈیرے پر راضی نامے والے پکے کاغذ پر انگوٹھا لگوا لیا۔ایم پی اے کے ایک چمچے نے اسے یہ دھمکی دی ، اگر تم راضی نامے پر نہ مانے تو ہم تمہیں ایک ٹکہ بھی نہیں دیں گے الٹا پولیس سے تم پر کیس بنوا دیں گے کہ تمہاری بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور تم نے اسے خود قتل کیا ہے اور ہمارے مخالفوں کے کہنے سے ہم پر الزام دھر رہے ہو۔ بے چارا ماڑا مصلی اتنا کہاں سے سہار پاتا۔مان گیا۔جیرو بہت روئی پیٹی مگر غریب کے رونے پیٹنے سے کیا ہوتا ہے ۔ خون خاک نشیناں تھا رزق خاک ہوا۔

میں اگلے سال چھٹی گیا تو سرفراز کے ڈیرے کے قریب سے گزرا۔ میرا اس سے ملنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر اس نے دیکھ کر اپنا ایک ملازم مجھے بلانے کو دوڑایا۔ گراں گوئی اوبرادری شریکے کا رشتہ تھا اس لیے چلا گیا۔ سرفراز مجھے روایتی طریقے سے جپھی ڈال کر ملا اور ملازم کو آواز دی او خالدیااچھی سیء دودھ پتی بنائو اور ساتھ چار چھے انڈے بھی ابال لائو۔ میں نے چائے کی پہلی سُرکی بھری اور پیالی سامنے والے میز پر رکھ کر اس سے پوچھا سرفراز سچ سچ بتائو ہوا کیا تھا؟۔ اب تو بھراوا سچ کھل ہی گیا ہے تو اسے کوئی چھپائے بھی کیسے۔ شیدو سے میری دوستی ہو گئی تھی۔ ہم ہفتے ہٹھوارے کہیں نہ کہیں مل لیا کرتے تھے۔ کبھی شہر میں کبھی گائوں میں۔ ان تنہائی کی ملاقاتوں کا کوئی تو نتیجہ نکلنا تھا جو نکل کر رہا۔ ایک دن اس نے مجھے بتایا چوہدری میں پیٹ سے ہوں ۔ یہ سن کر زمین میرے پائوں کے نیچے سے  زمین کھسکنے لگی ماتھا پسینے سے تر ہو گیا۔ اپنی بدنامی کے ڈر سے میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔پر میں نے خود کو سنبھال کر کہا ایویں مخول نہ کر ، کہنے لگی چوہدری میں مخول وخول نہیں کر رہی بس بے دھیانی میں یہ ہو گیا۔ اب کجھ سوچ۔ میں نے اسے دوسرے دن شام کو گائوں کے ساتھ والے نالے پر بلایا۔ وہ آئی آتے ہی کہنے لگی کیا سوچا ہے چوہدری تم نے ؟۔ میں نے کہا میں نے کیا سوچنا ہے نرسیں ڈاکٹر تیرے واقف ہیں جتنے پیسے لگتے ہیں میں دوں گا اس عذاب سے جان چھڑا۔ یہ سن کر وہ غصے میں آ گئی ، یہ عذاب نہیں ایک زندگی ہے، چوہدری کان کھول کر سن ایک زندگی۔میں ایک عورت ہوں ایک ماں ، ایک ماں اپنے بچے کو کیسے قتل کر سکتی ہے۔ میں نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ اچھا کچھ سوچتا ہوں اور پرسوں اسی جگہ ملتے ہیں۔ گھر واپس آیا تو بے بے مجھے کان سے پکڑ کر اندر کوٹھڑی میں لے گئی ۔ میں نے پہلی بار اسے اتنے غصے میں دیکھا۔ کہنے لگی جیرو میرے پاس روتی پیٹتی آئی تھی۔تم نے ہمیں کہیں منھ دکھانے قابل نہیں چھوڑا۔ رات کو ابے نے چاچے کو بلایا جو تم جانتے ہو ڈھوک پر ہی رہتا ہے۔ سمجھ دار بندہ ہے کتابیں شتابیں بھی پڑھتا رہتا ہے۔

دوسرے دن چاچے خان بیگ نے مجھے اپنے ہاں بلا کر سمجھایا۔ سرفرازیا ،تم نے اچھا نہیں کیا۔ تمہارے ابے سے میں نے کہا ہے کہ دو بول پڑھوا لیتے ہیں۔ یہ سن کر وہ ہتھے سے اکھڑ گیا، ایک مصلن کو اپنی نوں بنا لوں۔ کوئی برابری کی ذات ہوتی تو میں سوچتا بھی۔ اب تمہارے دس جماعتیں پاس مگر چٹے جاہل ابے کو میں کیسے سمجھائوں سب آدم کی اولاد ہیں۔ نسلیں حیوانوں کی ہوتیں ہیں انسانوں کی نہیں ۔ انسانوں میں بس حیثیت کی اونچ نیچ ہوتی ہے ۔ تم ایسے کرو اسے لے کر لاہور چلے جائو وہاں میرے بڑے چنگے سنگی ساتھی ہیں ، تم ان کے پاس ٹھہرنا ۔ وہ تمہارا ویاہ بھی کروا دیں گے اور کچھ عرصہ اپنے پاس ٹھہرا بھی لیں گے ، پیچھے میں سنبھال لوں گا۔ مگر واپس آیا تو ابے نے مجھ پر ہاتھ تو نہیں اٹھایا مگر ٖبہت غصے میں تھا کہنے لگا تم کل ہی کراچی نکل جائو پیچھے ہم سنبھال لیں گے۔ اور واپس آتے ہی تمہارا نکاح ہو گا۔

دوسرے دن میں کسی بہانے ساتھ والے گائوں چلا گیا شام کو نالے کے کنارے آ کر بیٹھ گیا۔ ابھی دوسرا سگریٹ ہی سلگایا تھا کہ شیدو آتی نظر آ ئی ، وہ آتے ہی میرے پائوں پڑ گئی ۔ رو رو کر کہنے لگی چوہدری مجھ سے نکاح کر لو میں مصلن سہی مگر مسلمان ہوں ، ماں کی طرح تمہارے گھر کا کام کاج کر دیا کروں گی ، تم سے کچھ نہیں مانگوں گی ایک کونے میں پڑی رہوں گی۔ تم بے شک دوسری شادی کر لینا ۔ مگر میرے بچے کو جیتے جی نہ ما ر چوہدری۔ مجھے غصہ آ گیا میں نے کہہ دیا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہ میرا ہی ہے۔ یہ سننا تھا کہ وہ چیتے کی طرح لپک کر آئی اور میرا گریبان پکڑ لیا۔ روتی جاتی تھی اور اوپر آسمان کی طرف انگلی اٹھا کرکہتی جاتی تھی ، وہ سوہنڑا رب دیکھ رہا ہے۔ میں نے تمہارے علاوہ کسی دوسرے کا منہ دیکھا ہو تو وہ مجھے دوزخ میں ڈالے۔ تمہیں یاد ہے تم پنڈی کالج سے لوٹے تھے ۔ مکئی کی فصل پکی ہوئی تھی،میں بھنی ہوئی چھلی کھاتے تمہارے گھر آ رہی تھی تم حویلی کے پھاٹک میں مل گئے تھے۔ تم نے مجھ سے چھلی مانگی تھی، میں نے کہا تھا چوہدری یہ میری جوٹھی ہے ٹھہرو میں دوسری لا دیتی ہوں ، تم نے کہا تھا کوئی بات نہیں اور میرے ہاتھ سے لے کر تم میری جوٹھی چھلی کھا گئے تھے۔ ہم مصلیوں کا جوٹھا کون کھاتا ہے۔ مگر تم کھا گئے تھے، بس وہ لمحہ تھا جب چپکے سے تم میرے دل میں آ بیٹھے تھے۔اب شہر سے پڑھ کر لوٹے تو میں نے سمجھا اور لکھ پڑھ کر تم بہتر انسان بن گئے ہو گے۔ مگر رہے وہی کے وہی جانور۔ یہ کہہ کر وہ نیچے بیٹھ گئی ۔ کہنے لگی چوہدری میں گائوں چھوڑ دوں گی ، اس گائوں میں ہمارا ہے ہی کیا؟۔ مگر میں اسے پیدا ضرور کروں گی۔ اور ولدیت میں تمہارا ہی نام لکھواوں گی۔ مگر یاد رکھو اگر یہ بیٹی ہوئی تو اس سے کوئی مصلی مراثی ہی بیاہ رچانے آئے گا۔ بس یہ سننا تھا کہ غیرت سے میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔

Avatar
سبطِ حسن گیلانی
سبط حسن برطانیہ میں مقیم ہیں مگر دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ آپ روزنامہ جنگ لندن سے بطور کالم نگار وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *