یہاں تو معرکہ ہوگا،مقابلہ کیسا۔محمد ہاشم خان

بابری مسجد رام جنم بھومی تنازع کے حوالے سے گزشتہ کئی دنوں سےمسلسل اس قسم کے گمراہ کن بیانات سننے کا اتفاق ہوا کہ نہ صرف طبیعت مکدر ہوگئی بلکہ یہ گمان بھی یقین میں تبدیل ہوتا نظرآیا کہ کچھ تو اس پردہ ژنگاری میں روپوش ہے۔ یوں ہی دھواں نہیں اٹھ رہا ہے، نیچے کہیں نہ کہیں ایک چنگاری شررخیز ہے جو راکھ کو زندہ کرکے فضا میں اچھال دیتی ہے۔اب یقیناً یہ آرآیس ایس اور اس کی سیاسی و فکری حلیف جماعتیں ہیں جنہوں نے ہمیشہ اپنی برہمنی و میکیاؤلی چال سے brinkmanship (سانپ مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے) کی سیاست سے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو من حیث القوم کمزور کرنے کی کوششیں کیں اور اپنے ان مذموم عزائم کی تکمیل میں ایک بڑی حد تک کامیاب بھی رہیں کہ ہماری اپنی صفوں میں میر جعفر اور میرقاسم جیسے لوگوں کی کسی بھی زمانے میں کوئی کمی نہیں رہی ہے۔اس بار بھی آرایس ایس ٹولے نے کچھ ایسے لوگوں کو آلۂ کار بنایا جو سماج میں کوئی اثرورسوخ تو نہیں رکھتے لیکن ایک خاموش و پرسکون تالاب میں پتھر پھینک کر مدوجزر پیدا کرنے کے وسائل ضروررکھتے ہیں ۔ انہوں نے روشن خیالی، جذبۂ خیر سگالی، قومی یکجہتی، بےلوث ایثار و رواداری اور تہذیبی اخوت و محبت کے نام پربابری مسجد کی اراضی کو ہندؤں کو دان کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی۔ تاریخ کے دیمک زدہ اوراق کو پلٹنے کی فی الحال کوئی ضرورت نہیں بس وسیم رضوی،شری شری روی شنکر اور ڈاکٹر کلب صادق وغیرہم کے بیانات پڑھ لیں آپ کو خوداندازہ ہوجائے گا کہ یہ رہروان عصر اور صلح کل قسم کے لوگ مسلمانوں سےکیا کچھ تیاگ کرنے کی بات کررہے تھے۔محترم المقام وسیم رضوی صاحب آرایس ایس کی آغوش سے باہر نکلے اور اپنی ذہنی دانشورانہ بدہضمی سے فضا کو متعفن کرنا شروع کردیا۔بابری مسجد تنازع واپس اخبارات کی سرخیوں کی زینت بننے لگا ۔ قبل اس کے کہ اس تعفن زدہ حبس سے باہر نکلتے شری شری روی شنکر اپنے ’حجرۂ روحانیت‘ سے باہر نکلے اور کہنے لگے کہ مسلم ائمہ و لیڈران سے ان کی بات چیت جاری ہے اور یہ کہ ماورائے عدالت تصفیےکے لئے یہ سب سے سازگار وقت ہے۔ ابھی ہم اس پوری صورت حال کے پیچھے روپوش موجِ خرام ِ یارکے بارے میں سوچ رہے تھے کہ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر ڈاکٹر کلب صادق صاحب منصہ شہود پر جلوہ فگن ہوتے ہیں اور ان کا ایک بیان اچھل کر شرمندہ ساحل سے بے کراں ہوتا ہوا ہم تک پہنچتا ہے اور موئے قلم کو چومنے لگتا ہے۔موصوف برطانوی سامراج کے دور کا ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی جیت پراسلام کی سرخروئی کو ترجیح دیں اور یوں انہوں نے بین السطور بابری مسجد کو ہندوبرادران وطن کے حوالے کرنے کی صلاح دی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہماری جیت اسلام کی جیت نہیں ہے؟نعوذباللہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھرگزشتہ ستر سال سے کیوں نقد جان سےگزر رہے ہیں؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا بابری مسجد مسلمانوں کی شناخت سے جڑا ہوا ہے یا دین ومذہب سے؟اگرماورائے عدالت ہی معاملے کو طے کرنا تھا یا طے ہوسکتا تھا تو ابھی تک کیوں نہیں ہوا اور اب اگر ماحول سازگار ہے تو کیوں ہے؟ جب الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو بورڈ نےمتفقہ طور پر سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت آنجناب اس میں شامل نہیں تھے؟ اگر شامل تھے تو پھر ماورائے عدالت معاملے کو حل کرنے کا بیان انہیں نہیں دینا چاہئے تھا اور اگر حضرت مولاناڈاکٹرکلب صادق صاحب بورڈ کے متفقہ فیصلے میں شامل نہیں تھے تو انہیں یہ بیان دے کر خود کو اجتماعیت سے الگ کرناچاہئے کہ بورڈ نے اکثریتی رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا جس میں ان کی رائے شامل نہیں تھی۔عالی مرتبت وسیم رضوی صاحب کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں ہے اور جس طرح روز سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے انتشار انگیز بیانات دے رہے ہیں وہ ان کے ذہنی خلفشارکی انتہاء کا پتہ دیتے ہیں لیکن ڈاکٹرکلب صادق کےبیان کو کسی بھی طور نظرانداز نہیں کیا جاسکتاکہ بہرحال وہ ایک سنجیدہ اسلامی اسکالر و مفکر ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر بھی ہیں اور ان کے صلح کل والے بیانات کو ان کی مصلحت شناسی نہیں بلکہ روباہی اور مسلم صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی سعی کے طور پردیکھا جاسکتا ہے جو یقیناًحلق سے بہ آسانی اترنے والی نہیں، بالخصوص وقت کے ایسے نازک موڑ پر جب ۵ دسمبر سے سپریم کورٹ میں معاملے کی روزانہ کی بنیاد پرسماعت شروع ہونے والی ہے۔مولانا کلب جواد نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ اگر ڈاکٹر کلب صادق کو ’ہندوبرادران وطن‘ کے جذبات کا اتنا ہی خیال ہے تورام مندر تعمیر کے لئے اپنا گھر کیوں نہیں دے دیتے؟
بھلا ہو بورڈ کے جنرل سکریٹری سید محمد ولی رحمانی صاحب کا کہ انہوں نے عین موقع پر بیان جاری کرکے ساری غلط فہمیوں کو دور کردیا کہ کوئی حالات سازگار نہیں ہیں، درپردہ کوئی بات چیت نہیں جاری ہے اور اب اس معاملے میں صرف عدالت کا فیصلہ ہی قابل قبول ہوگا۔ولی رحمانی صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ۵ دسمبر سے سپریم کورٹ میں اس معاملے کی روزانہ شنوائی ہونے والی ہے اوراس کو متاثر کرنے کے لئے ملک کی فضا کو بگاڑنے کی سازش کی جارہی ہےتاکہ عدالت پر اس کا اثر ہو اور عدالت جب اجتماعی ضمیر کے نام پر افضل گرو کو پھانسی دے سکتی ہے تو یہاں بھی کچھ بھی کرسکتی ہے محض اس مفروضے پر کہ خود مسلمانوں میں ٹھیک ٹھاک اختلافات ہیں ،وہ اس معاملے سے تنگ آچکے ہیں لہٰذا اکثریت کے اجتماعی ضمیر کو خوش کرنے کے لئے ہم بابری مسجد اراضی کی جگہ کو مسلمانوں کی طرف سے ایک تحفے کے طور پررام مندر تعمیر کے لئے پیش کررہے ہیں اورامید ہے کہ مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کوئی بعید نہیں کہ صفوں میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو ہوا نکل جاتی ہے۔مسلم پرسنل لابورڈ کی اپنی خامیاں اور خوبیاں ہیں اور فی الحال وہ عیوب و نقائص اورنااہلیاں ہمارا سروکار نہیں ہیں، ہمارااصل سروکار بابری مسجد اراضی تنازعہ میں مسلمانوں کی طرف سے بورڈ کا ایمانداری سے قیادت کرنا ہے اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ بورڈ نے من جملہ مسلم جذبات کو ہمیشہ مقدم رکھا ہے اور امید ہے کہ وہ مقدم رکھے گا۔اگراب تک بابری مسجد تنازع کا حل ماورائے عدالت تلاش نہیں کیا جاسکا ہے تو اس کی ایک وجہ وہ شرائط بھی رہی ہیں جنہیں بورڈ نے اسلام کے تقاضوں اورمسلم عوام کے جذبات کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے تسلیم نہیں کیا ۔مذاکرات کے ذریعہ معاملہ حل کرنے کا وقت نکل چکا ہے۔بات چیت سے اب کچھ حل ہونے والا نہیں۔جس طرح انہوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بابری مسجد کو شہید کیا تھا ٹھیک اسی طرح بنابھی سکتے ہیں۔ بقول سادھوی رتمبھرا مرکز میں مودی ہیں یوپی میں یوگی ہیں اوراس کے باجود اگر رام مندر تعمیر نہیں کرسکے تو پھر کب کریں گے۔بذریعہ جوروجبر اگر آپ رام مندر تعمیر کرسکتے ہیں تو شوق سے کرلیں لیکن اس کے لئے آگ کا دریا تیر کرکے جانا ہوگااور نہیں تو پھر اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں۔بقول عرفان صدیقی مرحوم
یہ ایک صف بھی نہیں ہے ، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہوگا، مقابلہ کیسا۔
بشکریہ:
http://www.humaapdaily.com

محمد ہاشم خان
لوح جہاں پہ حرف مکرر نہیں ہوں میں (مصنف افسانہ نگار و ناقد کے علاوہ روزنامہ ’ہم آپ‘ ممبئی کی ادارتی ٹیم کا سربراہ ہے) http://www.humaapdaily.com/

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *