ٹموتھی ویکس یا جبریل عمر سے ایک ملاقات (3،آخری قسط)۔۔افتخار گیلانی

پروفیسر ٹموتھی یا جبرائیل عمر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے مجھے یاد آرہا تھا کہ چند سال قبل دہلی میں ایک جید ہندو سکالر سے ملاقات ہوئی تھی، جنہوں نے اسلا م اور دہشت گردی کے موضوع پر ہندی میں ایک کتابچہ لکھا تھا مگر بعد میں اسلام کے مداح بن گئے۔ ان سے وجہ جاننی چاہی تو ان کا کہنا تھا کہ بھارتی نژاد ہندوں کی ایک امریکی تنظیم نے ان کی کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کے بعد ان کو آفر دی کہ وہ اس موضوع کو مزید پھیلا کر 200یا 300صفحات کی ایک کتاب لکھیں اور اسکے لئے پیشگی کئی لاکھ روپے ان کو دیے گئے۔ چونکہ ایک ضخیم کتاب لکھنے کیلئے مزید تحقیق کی ضرورت تھی، انہوں نے براہ راست قر آن کا مطالعہ کرنا شروع کردیا۔ مطالعہ کرتے ہوئے معلوم ہو اکہ جب آیات وغیر ہ کا حوالہ دیکر انہوں نے جو کتابچہ تحریر کیا تھااس میں آیات کے معنی اور مطالب تو کچھ اور ہی ہیں۔ وہ تو بجائے دہشت گردی کے امن و آشتی کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کا شکوہ تھا کہ اس کے ذمہ دار مسلمان خود ہیں، جو خود قرآن پڑھتے اور سمجھتے ہیںنہ کسی اور کو پڑھنے دیتے ہیں۔ ایک جید دلت سکالر پروفیسر کانچی نے بھی ایک بار مجھے بتایا کہ مسلمان قرآن پاک کو ایک پیغام یا کتاب کے بجائے مقدس تعویذ کے بطور طاقوں یا جز دانوں میں سجاتے ہیں اور اسکے معانی سمجھنے کا کام نہیں کرتے ہیں۔ اگر یہ کسی غیر مسلم کے ہاتھ میں لگ جائے تو جز بز ہو جاتے ہیں کہ کہیں اس کی بے حرمتی نہ ہوجائے۔ مجھے یاد ہے کہ ممبئی کے معروف ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز کے کیمپس میں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر جید سکالر نے کہا کہ افتخار بھائی اسلام اور مسلمان دو الگ الگ چیزیں ہیں، کاش یہ دونوں اکھٹی ہوجاتیں۔ خیر جبرائیل عمر بتا رہے تھے کہ’اب جب میں آزاد ہو گیا ہوں تو میرا ارادہ ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ مل کر ان بچوں خصوصاً لڑکیوں اور عورتوں کی تعلیم کے لیے کام کروں۔ میں اپنے آپ کو لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے وقف کر چکا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں ایک فلاحی ادارے کے قیام کے ذریعے افغانستان میں اس مقصد کے لیے بہت زیادہ کام کر سکتا ہوں۔ طالبان نے ان مغربی پروفیسروں کی دو مرتبہ ویڈیوز بھی ریلیز کی تھیں۔ ایک ویڈیو اغواء کے ایک برس بعد ہی جاری کی گئی تھی۔ زرد رنگت اور علیل دکھائی دینے والے دونوں پروفیسروں نے اپنی حکومتوں سے اپنی اپنی رہائی کی بات چیت شروع کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان کی رہائی کا ایک ریسکیو آپریشن بھی امریکی فوج نے کیا تھا لیکن کارروائی کے وقت اس مقام سے دونوں پروفیسر بازیاب نہ ہو سکے تھے۔ ایک یا دو مواقع پر، امریکی فوجی کمانڈوز ان مقامات پر پہنچ گئے جہاں انہیں رکھا گیا تھا، جس میں افغان شہر غزنی کے ایک گھر کے احاطے تک پہنچنا بھی شامل تھا ،جہاں طالبان اور امریکی فوجی دستے آمنے سامنے تھے۔ مشن کے دوران شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ان کا کہنا تھا ’میری خوش قسمتی ہے کہ اغوا کی اس برائی میں مجھے اچھائی کی ایک کرن نظر آئی ہے، اب میرے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کیونکہ میں سو فیصد پرعزم ہوں کہ اپنے افغان بہن بھائیوں کی مدد کروں۔’ وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے اب طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ اگر یہ نہ ہوا ہوتا تو میں اسلام کو ایک حقیقت کے طور پر نہ جان پاتا۔ اب مجھے افغانستان، وہاں کی ثقافت اور لوگوں سے محبت ہے جو میرے اپنے ہیں اور میں ان کے لیے کام کرنا چاہتا ہوں۔‘ جبرائیل عمر (ٹموتھی ویکس) بتا رہے تھے کہ طالبان قید میں انھیں فرش بھی صاف رکھنا ہوتا تھا اور ٹھنڈے پانی سے طالبان کے کپڑے بھی دھونے ہوتے تھے جو اگر ٹھیک طرح صاف نہ ہوتے تو اس کا خمیازہ بھی انہیں مار کی صورت میں بھگتنا پڑتا تھا۔ جبرائیل عمر (ٹموتھی ویکس ) افغانستان میں طالبان کی قید کے دوران اسلام قبول کرنے والے دوسرے فرد ہیں۔ اْن سے پہلے برطانوی خاتون صحافی ایون ریڈلی بھی ایسا کر چکی ہیں اور اسلام کی مبلغہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ایون ریڈلی کو افغان طالبان نے سنہ 2001 میں اغوا کیا تھا۔ایوان ریڈلی برطانوی صحافی خاتون ہیں جو 28 ستمبر2000ء کو خفیہ طور پر افغانستان میں داخل ہوتے ہوئے طالبان کی قید میں چلی گئی تھیں اور 10 دن تک طالبان کی قید میں رہیں۔ ریڈلی لندن کے اخبار’’سنڈے ٹائمز‘‘ میں ایک صحافی کی حیثیت سے کام کرتی تھیں۔ جب امریکی وبرطانوی فوج کی طرف سے افغانستان پر حملہ ہونے والا تھا تو رپورٹنگ کے لیے انہوں نے اپنے اخبار کو افغانستان جانے کی پیش کش کی۔ پاکستان پہنچنے کے بعد انہوں نے افغانستان کا ویزا حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ملی، انہوں نے افغانستان جانے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا، اس لیے ایک افغانی کی مدد سے جعلی شناختی کارڈ بنواکر وہ افغانستان میں داخل ہوگئیں۔ مگر بعد میں گرفتار ہوگئیں۔ پروفیسرجبرائیل عمر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے وقت کس طرح پرواز کر گیا، پتہ ہی چل نہ سکا۔ان کا کھانا بھی خاصا ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ کیونکہ گفتگو کے دوران انہوں نے ہاتھ روک رکھا تھا۔ اقبال نے شاید انہی کیلئے کہا تھا: ہے اسیری اعتبار افزا جو ہو فطرت بلند قطرہ نیساں ہے زندان صدف سے ارجمند ہر کسی کی تربیت کرتی نہیں قدرت،مگر کم ہیں وہ طائر کہ ہیںدام و قفس سے بہرہ مند شہپر زاغ و زغن دربند قید و صید نیست ایں سعادت قسمت شہباز و شاہیں کردہ اند دعا ہے کہ افغانستان کی قسمت اب اس نومسلم شہباز و شاہین کی کاوشوں سے پلٹ جائے۔(ختم شد)

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply