وہ مرکزہ تھا کہ شاید سبب تھا اےآنند
کہ اختتام بھی جس کا غضب تھا اے آنند
جنم جنم سے ترا ایک ہی مقدر ہے
تو ایک موتی درون ِ صدف تھا اے آنند
وہ رنگ اب بھی مرے دل میں خون روتا ہے
وہ رنگ جو کبھی تزئین ِ لب تھا اے آنند
خدا گواہ کہ میں بھی تو ابن ِ مریم تھا
میں صرف ِایک کف ِ خاک کب تھا اے آنند
ملا تھا نطق تو پھر بولنا ضروری تھا
سبب ِ اولیٰ تو جملہ بلب تھا اے آنند
گناہ جو بھی ہوئے تجھ سے،سب معاف ہوئے
ترا گواہ تو بس ایک رب تھا اے آنند!


Facebook Comments