سیکیولر تصور ریاست اور اسلامی تصور ریاست۔ منصور ندیم

سیکولرازم کا بنیادی ماخذ یا ایک تعریف یہ ہے کہ ایک کثیر القومی یا کثیر الاعتقادی معاشرے میں برابری اور توازن          Maintain         کی جائے۔علاوہ ازیں حقیقی اسلامی ریاست کاتصور بھی اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک ریاست زمانہ عصر کے مروجہ انسانی حقوق، شہری آزادی اور شہری مساوات کا پورا لحاظ ،عدل کی بنیاد پر نہیں رکھے گی۔بس بنیادی فرق یہ ہے کہ سیکولرازم میں انسان کو اپنے اجتماعی نظام کوچلانے کے لئے کسی مابعد الطبیعاتی( Meta Physical source ) کی, کسی ایمان کی، کسی خدا کی ضرورت نہیں ہے۔سیکولرازم کے تاریخی پس منظر کو جانے بغیر ہم اس ترکیب کے معنی اور اس کے ممکنہ یقینی اثرات کو سمجھ نہیں سکتے۔
رومیوں نے جب عیسائیت کو قبول کر لیا اور ریاست اور جج کی ایک وحدت وجود میں آئی، جس میں حاکم غالب تھا اور پادری مغلوب تھا، اور جب وہ تجربہ ناکام رہا، تو رومیوں کے مزاج نے عیسائیت کی Subjectivity سے جب تصادم محسوس کیا، اور ان میں دولختگی اور جدائی کا عمل پیش آیا۔ تو پھر چرچ نے اپنی حکومت کو       Establish       کیا، اور بادشاہ کو اپنا ماتحت بنالیا۔ مغرب نے کئی صدیاں اس نظام کے تحت گزاری ہیں کہ چرچ کو اصل طاقت حاصل ہے اور بادشاہ بھی اس کی بنائی ہوئی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔ چونکہ چرچ نے ریاستی قوت کو بنا کسی بھی ریاستی امور کو چلانے کی صلاحیت کے بغیر حاصل کیا تھا۔ تو ان کی قوت ایک ننگا جبر بن کر سامنے آئی۔ چونکہ مغرب نے مذہبی تشدد و جبر کا صدیوں تک تجربہ کیا تھا تو اس کے بعد انہوں نے رومیوں کی یہ منطق کہ “مسیحیت صرف غلاموں کا ایک دین ہے، حاکموں اور آزاد انسانوں کا نہیں”- کے طور پر لیا۔

اس جبر اور اجتماعی غلامی کے تجربے سے نکلنے کے لئے جس قوت نے ایک نظریاتی روپ اختیار کیا، مذہب یا مذہب کے نام پر اقتدار کی تمام اشکالی ڈھانچوں کو گرانے کےلئے جو قوت اٹھی اور اس قوت نے جب خود کو ایک نظریے میں ڈھالا تو وہ نظریہ سیکولرازم کی شکل میں سامنے آیا ۔اور سیکولرازم دنیا کے ان چند نظریات میں سے ایک ہے جن پر عمل پہلے ہوا اور اس کا نام بعد میں رکھا گیا۔ یعنی یہ مارکسزم یا کمیونزم کی طرح نہیں ہے جو پہلے بیان میں آیا اور پھر نظامی وجود میں دنیا کے سامنے آیا۔جو نظریات    بیان    سے    پہلے وجود میں آجائیں ان کی جڑیں اور تاثیر یقینا    ًبہت گہری ہوتی ہیں۔اور وہ انسانی زندگی کے تمام پہلووں کا   احاطہ کرنے  کا        قابل تصدیق دعویٰ رکھتے ہیں۔ (     یعنی وہ یوٹوپین     Approach       اختیار نہیں کرتے ہیں )۔
سیکولرازم نے اپنے تمام دعووں کو اپنی نظریاتی تشکیل سے پہلے حاصل کرکے دنیا کو دکھایا ہوا ہے۔ اور اس سارے دعوے یا سیکولرازم کے ایجنڈے کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو خدا کی آرائشی ضرورت ہوسکتی ہے لیکن حقیقی حاجت نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک نفسیاتی طلب ہوسکتی ہے ایک آرائشی یا رسوماتی خواہش ہوسکتی ہے۔ سیکولرازم خدا یا اس کے ماننے والے تمام ادیان کو ایک میوزیم تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔ مطلب یہ آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ اپنے دین کو خود اپنے لئے Sensor کریں اور مطالبات کا عملا ًانکار کریں جو مطالبات وہ اجتماعی زندگی کے قوانین بنانے کیلئے دیتا ہے۔ سیکولرازم کا ایک معنی ہے دنیاویت، کہ دنیا کے امور دنیاوی علوم سے ہی چلایا جائیں۔

کچھ اہل علم کے نزدیک سیکولرازم کی تعریف لادینی بھی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ دنیاویت بالاصل الہیات کے مقابلے میں ہی آئی ہے۔ یعنی سیکولرازم کا معنی حقیقت کا اصل ادراک دنیا ہی ہے۔ اس تعریف کی بنیاد پر مسلم سوسائٹی کا تعلق فرد سے چاہے کتنا ہی غیر سنجیدہ اور رسمی ہی کیوں نہ رہ جائے، مسلم سوسائٹی سے تشکیل پانے والی ریاست مزاج و نفسیات سے کبھی بھی سیکولر نہیں ہوسکتی۔ اگر اسلام           Tag      کے طور پر بھی مسلم سوسائٹی کے فرد کے ماتھے پر چسپاں ہے تو   وہ      Tag     بھی فرد کو کسی سیکیولر آرڈر کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔ اور سیکولرازم کا آرڈر بھی اس     Tag     کی موجودگی میں فرد کو اس آرڈر کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔جبکہ اگر مسلم سوسائٹی اپنے بنیادی احکامات کے ماخذ میں اس ٹکراؤ کا سامنا کرتی ہے؟ کہ دنیا کیا چاہتی ہے اور اللہ کیا چاہتا ہے؟ تو دین اپنی تمام دستیاب منطق پر ایک مسلمان سے یہ جواب        Valid اور قابل قبول رکھتا ہے کہ فرد اس طرف توجہ ہی نہیں کرے گا کہ دنیا کیا چاہتی ہے۔ اگر وہ ٹکرائویا سوال ” خدا کیا چاہتا ہے؟ ” سے متصادم ہو۔
دین کا بنیادی خلاصہ ہی یہ ہے کہ کسی بھی تصادم کے موقع پر خدا اور دنیا کے موجود نظریات و تصورات میں کبھی بھی خدا کی طرف پیٹھ نہ کرنا۔ دین اجتماعی زندگی میں اس عہد کا نام ہے کہ دنیا اگر کبھی احکام خداوندی کے ٹکراؤ پر آجائے تو فرد اپنی تمام کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اللہ سے اپنی وفاداری نبھائے گا۔ مسلمان ،سوسائٹی کا منافق و فاجر مسلمان ہو، یا متقی و صالح مسلمان، اس نفسیات پر متفق ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی کچھ نہیں ہے، چاہے ان کا عمل اس کے خلاف گواہی دے لیکن اس سوسائٹی کی نفسیات اس بنیادی مسلمہ اصول پر بنی ہے۔
تو    سیکولرازم  ریاستی  آرڈر میں جو               Situation پیدا کرے گا وہ فرد کو خدا سے حالت تصادم کی صورت میں خدا  کی طرف پیٹھ کرنے کا پابند بنائے گا۔ ایک بات تو یہ ہے کہ عام حالت میں فرد   خدا   کی نافرمانی اپنی نفسانی   خواہشات و ضروریات کے لئے کر رہا ہے۔ لیکن سیکولر ریاست کے فرد کی حیثیت سے وہ فرد خدا کی نافرمانی ایک اصول کے طور پر کررہا ہے۔ ایک اسلامی تصور ریاست میں سیکیولر ریاست، فرد کو اسلامی احکامات کی نافرمانی کے اصول پر کھڑا کردیتا ہے۔ اور خدا کے ساتھ فرد کی فرمانبرداری کو اپنے آرڈر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا تو اس معنی میں کسی بھی مسلم اکثریتی ریاست کا سیکولر ہونا اس    کے    اسلام سے روگردانی کرنے پر کیا جاے گا۔

پاکستان میں سیکولرازم کا مطالبہ اور اسلامی ریاست تصور کی ناکامی کے اسباب:

جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ ریاست پاکستان میں بحیثیت نظام سیکیولر ہونا چاہئے ہے تو ہمارے مذہبی حلقوں سے بہت شدت سے اس کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن مذہبی حلقوں کے پاس نہ تو کوئی ایسی اسلامی ریاست کا حقیقی تصور موجود ہے جو دنیا میں مثال کے لئے Apply کیا جائے اور نہ ہی اس وقت موجود دنیا میں کوئی ایسا اسلامی ریاستی ڈھانچہ موجود ہے۔۔ مسلم اکثریتی ممالک میں ریاست کا مسلم ریاست ہونا کیوں ضروری ہے یا یہ مطالبہ عصر حاضر میں کیا حقیقت رکھتا ہے ۔ پاکستان میں سر دست ہم جن مشکلات میں اس وقت گھرے ہوے ہیں اس وقت دنیا میں اس کا مجرب نسخہ صرف سیکولرازم ہی ہے۔
موجودہ مشکلات سے نکالنے کی ضمانت دینے والی عملی شکل موجود مسلم دنیا میں سیکولرازم کے سوا موجود ہی نہیں ، اس کے لئے اب تک ایک ہی دوا ایجاد ہوئی ہے جو اس درجہ مذہبی تشدد پسندی سے بچنے کے لئے  ہے،اور اس دوا نے اپنا اثر بھی دکھایا ہے اور کئی معاشروں کو مذہبی تشدد پسندی سے نکالا بھی ہے۔ ہماری بد نصیبی ہے کہ ہمارے پاس اپنے اندر پیدا ہوجانے والی دہشتگردی Militancy کے لئے خود ہماری ہی تہذیب یا دین سے ہمارے پاس نہ ہی کوئی مجرب نسخہ یا اس کے تدارک کے لئے جواب تک موجود نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہم اس خلا کو محسوس کرنے سے بھی قاصر ہیں، کہ وہ کیا مسئلہ ہے کہ ہمارے انسانی معاشرے میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا مجرب حل ہمارے اہل دین کے پاس نہیں ہے۔ اس کوتاہی اور نارسائی کو ختم کرنا گویا اپنے آپ کو نئے سرے سے مسلمان بنانے جیسا عمل ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ہمارا دین اس قدر بے تاثیر ہے؟ (ہمارے نفس میں بھی اور آفاق میں بھی)۔ہمارے یہاں دین کی تعلیم کے نام سے ایمانی شعور کی نشوونما کا کوئی اہتمام نہیں کیا گیا ہے، ہمارے یہاں دینی تعلیم بھی مرکز خدا نہیں رہی بلکہ مرکز شخصیات بن کر رہ گئی۔دین محض قانون نہیں ہے بلکہ یہ ایک State of Being ہے۔ جب تک ہمارا دین State of Being کے درجے پر نہیں پہنچے گا، اس وقت تک ہم ایسے ہی تیسری دنیا کا حصہ بنے رہیں گے، اور مختلف گروہوں میں بٹ کر مختلف نظاموں کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت تک دین کا ہر استعمال متشددانہ، جابرانہ یا پھر تاجرانہ ہے ۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”سیکیولر تصور ریاست اور اسلامی تصور ریاست۔ منصور ندیم

  1. مدارس یا شخصیات ظاہری علم سے نواز رہی ہیں اور ہمیں باطنی تبدیلی درکار ہے جسکا واحد حل تصوف ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *