عورت ایک فتنہ ہے۔۔۔۔ہما

مردوں کے لئے عورت سے ذیادہ نقصان دہ کوئی اور فتنہ نہیں ہو سکتا۔۔۔کاش یہ جھوٹ ہوتا۔۔ لیکن افسوس! یہ سچ ہے۔

اوپر لکھے ہوئے لفظ میرے نہیں بلکہ کسی کی تحریر میں پڑھے
اور پڑھتے ہی مردوں کی خود ساختہ بے چارگی پر آیا تو غصہ لیکن ترس کھاتے ہوئے لکھا۔۔
کہ دنیا میں جتنے جرم ہوئے عورت ہی کی وجہ سے ہوئے ہیں
بے چارے آدم جنت میں چین کی زندگی جی رہے تھے
ناحق حوا کی خواہش کی جس نے پیدا ہوکر جنت بھی چھین لی
یہیں بس نہیں ہوا
لکھنے پر مجبور اسوقت ہوئی جب میرے اس جملے پر مجھے کہیں سے
یہ سننے کو ملا۔۔۔۔کہ درست کہا

یعنی آج بھی لوگوں میں یہ تصور موجود ہے کہ آدم کو حوا نے بہکایا۔

ایک عورت جسے مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا
وہ مرد کی عقل پر اسطرح غالب ہوئی کہ اس سے صحیح غلط میں تمیز چھین لی؟

پہلے تو آدم اور حوا والی کیوری سولو کرتے ہیں۔حل بھی کیا کرتے ہیں،بس دہراتے ہیں کیونکہ حل تو صدیوں پہلے کی جاچکی ہے۔

کیا حواعلیہا السلام کے کہنے پر آدم علیہ السلام نے پھل کھایا تھا؟

قرآن مجید میں آدم و حوا کے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے نہایت تفصیل کے ساتھ ایک سے زائد جگہوں پر بیان کیا ہے مگر کسی ایک جگہ بھی یہ نہیں کہا ہے کہ حوا نے اس پھل کو پہلے کھایا یا آدم علیہ السلام سے کھانے کو کہا، سورۂ بقرہ میں اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کیا ہے:
وَقُلْنَا یٰٓـاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنْہَا رَغْدًا حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَo فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْہَا فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ
(البقرۃ:۳۵-۳۷)
’’اور ہم نے کہا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاو پیو، لیکن اس درخت کے قریب مت جانا، نہیں تو ظالموں میں سے ہوجاو گے۔ پھر شیطان نے دونوں کو بہکایا اور جس عیش و آرام میں تھے اس سے ان کو نکلوا دیا۔

ان مکمل تصدیق شدہ آیات (جن میں دونوں ہی کو بہکانے اور دونوں ہی کے کھانے کا ذکر ہے )کو  پڑھنے کے بعد بھی اگر عورت ہی مرد سے سرزد ہونے والی  غلطی کی زمہ دار ہےتو مرد حضرات اپنی عقلوں کو ہاتھ مارئیے۔۔کہ آپ کی پسلی سے پیدا ہوئی عورت آپ سے زیادہ عقلمند ہے ۔۔

کیونکہ ہر غلط فیصلے کی ذمہ دار اکثر عورت ہی ہوتی ہے۔

مرد گھر کا معاشرتی اور اسلامی سربراہ ہونے کے باوجود گھر کی عورتوں میں جب انصاف نہیں کرپاتا تو انہی میں سے کسی ایک کی صلاح پر عمل کرکے یا اپنا جھکاؤ ایک طرف کرکےخود کو دوسری طرف بے بس ظاہر کرتا ہے۔

دوسری طرف سے صحیح ردعمل تو آنے کی امیدہوتی  نہیں،بس پھر  عورت فتنہ ہے۔

عورت کے فتنے یہاں ختم نہیں ہوتے
عورت کے فتنے تو کبھی بھولے بھالے عقل سے پیدل مرد کو محبت کے نام پر پھنساتے ہیں
کبھی بیوی کے نام پر بے جا فرمائش کرتے ہیں
کبھی بہن ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں
اور کبھی ماں کی شکل میں آنسو بہاکر بتاتے ہیں
بیٹا ایسا نہ کر میں تیری ماں ہوں

تو ثابت ہوگیا کہ عورت ایک فتنہ ہے

لیکن قارئین آپکو جہاں جہاں جس جس کہانی میں عورت کا کردار فتنہ نظر آئے
وہاں مرد کا کردار ضرور دیکھ لیں پہلے کہ اس میں فیصلے کی قوت کتنی ہے؟؟

اپنی بات کو درست انداز میں صنف نازک تک پہنچانے کی صلاحیت اور اہلیت کتنی ہے؟؟؟
مرد مختلف کرداروں میں عورت کے مختلف کرداروں سے ملتا ہے

ہر روپ میں خود کو اللہ کی دی ہوئی برتر ” قوام “ثابت کرنے کا اہل ہے یا نہیں ؟؟
اگر مرد میں مردوں والی جامع خصوصیات موجود ہیں تو وہ کبھی کسی عورت کو نہ کبھی فتنہ قرار دے گا اور نہ اپنے عمل کی کوتاہی سے اس صنف کو فتنہ بننے دے گا ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *