سیاست کا بے رحم کھیل۔۔ محمد اسلم خان کھچی ایڈووکیٹ

SHOPPING

میاں محمد نوازشریف صاحب کے نظریاتی ہونے کی کہانی دفن ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کو ھے ۔ پانامہ ہنگامہ کے بعد ووٹ کو عزت دو کا نعرہ جی ٹی روڈ کے سفر کے اختتام پہ ھی اختتام پذیر ہو گیا تھا ۔لندن یاترا سے واپسی پہ بس چند ھی دن میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت نہ کر سکنے پہ معاہدہ سعودیہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے کچھ دے دلا کر اور بقیہ وعدے وعید اور شخصی ضمانت پہ لندن سدھار گئے۔ کچھ عرصہ معاہدے پہ عمل کیا کہ بیمار رھیں گے لیکن اچانک صحت مندی کا سرٹیفیکیٹ لے کے حسب عادت معاہدہ توڑتے ہوئے کچھار سے نکلے اور حکومت پاکستان اور اسٹیبلشمنٹ کے پرانے رحم دلانہ ہتھیار نظریہ ضرورت کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اپنی آہنی توپوں کا رخ اسٹیبلشمنٹ کی طرف کر دیا لیکن یہاں پہ شدت جذبات میں بہہ گئے یا شاید سپیچ رائٹر ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی ہاتھ کر گیا اور میاں نواز شریف صاحب لگے ہاتھوں اپنے تمام جرائم کا اعتراف کر بیٹھے۔ماضی کی تمام حکومتوں بشمول پیپلزپارٹی, ق لیگ, مسلم لیگ اور موجودہ پی ٹی آئی کو ناجائز قرار دے دیا اور سارا الزام اسٹیبلشمنٹ پہ دھر دیا۔ خود اسامہ بن لادن سے پیسے لیکر محترمہ بینظیر صاحبہ کی حکومت کو گرانے والی تمام سازشوں کو بھول گئے۔ آئی جے آئی کی دو تہائی والی حکومت کو بھول گئے۔اسٹیبلشمبٹ بھی حیران ہو گئی کہ لاڈلے کو کیا ہو گیا ھے۔ ہمیشہ جسے لاڈ پیار سے پالا پوسہ, جوان کیا, نظریہ ضرورت استعمال کرتے ہوئے جونیجو صاحب کی بحال شدہ حکومت کو بھی بحال نہیں ہونے دیا۔ طیارہ ہائی جیکنگ میں سزائے موت ہونے کے باوجود رحم کرتے ہوئے بادشاہوں کے ملک میں بادشاہوں جیسی زندگی گزارنے کیلئے بھیج دیا۔ ابھی چند سال پہلے ھی ڈان لیکس میں غداری کے الزام سے سرخرو کیا لیکن اچانک میاں نواز شریف صاحب موجودہ حکومت سے لڑنے کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ سے جنگ کرنے کیلیئے صفیں ترتیب دینے میں مصروف عمل ہو گئے۔
میاں نواز شریف صاحب پچھلے تین سال سے سوشل میڈیا سیلز کی مدد سے فوج کے خلاف ایک نیریٹو بلڈ کرنے کی کوشش کر رھے ہیں اور اس میں کچھ کامیاب بھی رھے ہیں اور شاید اب وہ سمجھتے ہیں کہ تین سالہ محنت کا پھل کھانے کا وقت آگیا ھے اس لئے وہ بہت جلدی میں نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ میاں نواز شریف صاحب کی خام خیالی ھے کہ وہ عوام اور فوج کے درمیان کوئی تفریق پیدا کر سکیں گے۔ عوام فوج سے محبت کرتی ھے اور سمجھتی ھے کہ اگر اس وقت پاکستان قائم و دائم ھے تو صرف پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ھے ورنہ ہمارے لیئے تو یہ افغانی ھی کافی تھے۔
میاں نوازشریف صاحب نے اپنی تقریر میں ایک بڑی خوبصورت بات کہی کہ۔۔۔ میری جنگ عمران خان کو لانے والوں کے ساتھ ھے شاید میاں صاحب کو زمینی حقائق کا اندازہ نہیں کہ عمران خان صاحب تو عوام کے ووٹوں کی طاقت سے آئے۔ ہم نے پولنگ اسٹیشن دیکھے ہیں۔ لوگوں کا عمران خان کیلئے جنون دیکھا ھے۔ عورتوں, بہنوں, ماؤں کی عمران خان کیلئے محبت دیکھی ھے۔ عمران خان اپنی طاقت سے الیکشن جیتا ھے ۔International Election Observers of United States نے 2018 کے انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین انتخابات قرار دیا ھے۔ عمران خان صاحب تو 2013 میں بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے تھے لیکن میاں صاحب کی دس بجے کی وکٹری سپیچ بہت سے راز آشکار کر گئی۔
ویسے بھی میاں نواز شریف سمیت ہماری تمام سیاسی جماعتوں کا وطیرہ ھے کہ اپنی ناکامیوں کا الزام اسٹیبلشمنٹ پہ دھر دیتے ہیں اور پھر معافی تلافی اور ڈیل کا سہارہ لے کے دوبارہ برسر اقتدار جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ بعد وھی کہانی دوبارہ دھرائی جاتی ھے۔ یاد ہو گا کہ ایک طاقتور سیاستدان جوش جذبات میں دھمکیاں دے بیٹھا اور پھر تین سالہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔
میاں صاحب نے جس طرح کی زبان استعمال کی اور جو دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا۔ لگتا یہی ھے کہ اب الطاف حسین ثانی بن کے ہمیشہ لندن میں رھنا پڑے گا ۔
آج کل اے پی سی کا کا چرچہ ھے۔ ن لیگ, پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان صاحب حکومت گرانے کیلئے آخری اوور کھیلنے کیلئے پر تول چکے ہیں۔ مریم صفدر صاحبہ بڑے جارحانہ موڈ میں ہیں۔ شہبازشریف صاحب کی گرفتاری کے بعد پارٹی پہ مریم صفدر صاحبہ کا قبضہ ہو چکا ھے۔ کل مسلم لیگ مصالتی گروپ کی پریس کانفرنس کو مریم صفدر صاحبہ کی ہنگامہ پریس کانفرنس میں تبدیل کر دینا اس بات کا غماز ھے کہ مسلم لیگ ش گروپ اب منظر عام سے غائب ہونے والا ھے۔ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نعرہ اب فرسودہ سا نظر آنے لگا ھے کیونکہ عوام اچھی طرح جانتی ھے کہ شہباز شریف صاحب کی گرفتاری انکے اپنے ایما پہ ہوئی ھے۔ ان کے وکلا نے جب درخواست ضمانت واپس لی تو عدلیہ کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ شہباز شریف صاحب کی ضمانت کینسل کرے۔
یہ بڑے لوگوں کے وہ کارنامے ہیں جو عام انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ عدالت عالیہ میں شہباز شریف صاحب کی گرفتاری پہ محترمہ حنا بٹ صاحبہ, عظمی بخاری صاحبہ اور مریم اورنگ زیب صاحبہ کی پراسرار مسکراہٹ شہباز شریف صاحب کے مستقبل کی نوید سنا رھی تھی۔
آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ موجودہ حکومت کے خلاف اعلان جنگ ھے لیکن اگر شرکا پہ نظر ڈالی جائے تو معزز سپریم کورٹ کے سسلین مافیا جیسے الفاظ حرف بحرف درست نظر آتے ہیں۔تمام شرکا کرپشن کی گنگا سے نہائے ہوئے ہیں۔ محترمہ مریم صفدر صاحبہ کیلبیری فونٹ فورجری کیس میں سزا یافتہ ہیں اور اس وقت عدالت عالیہ کی مہربانی سے ضمانت پر ھیں۔ جناب اعتزاز احسن صاحب ڈنکے کی چوٹ پہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ملک کے عدالتی نظام نے ہمیشہ شریف خاندان کو ریلیف دیا ھے۔ وہ شریف خاندان کو اس ملک کے لاڈلے کہتے ہیں اور انکی یہ بات دل کو لگتی ھے کہ اس وقت ن لیگ کے تمام سزایافتہ مجرم ضمانتوں پہ گھروں میں عیش کی زندگی جی رھے ہیں۔ حتی کہ عمرقید کے سزا یافتہ ایفیڈرین کیس کے محترم حنیف عباسی صاحب بھی ضمانت پہ رھا ہو چکے ہیں۔ زرداری صاحب پہ اربوں کی کرپشن کے کیسز ہیں۔ احسن اقبال, شاہد خاقان عباسی, رانا ثناءاللہ صاحب ضمانت پر ہیں۔ مولانا فضل الرحمان صاحب زمینوں کی ناجائز الاٹمنٹ کے سنگین الزامات کی زد میں ہیں لیکن مذہبی رہنما اور سعودی عرب کی ناراضگی کے ڈر سے ان پہ ہاتھ ڈالنے سے گریز کیا جا رھا ھے لیکن وہ شکنجے میں ضرور آئیں گے۔
اخلاقی, مالی کرپشن کے الزامات تلے دبی کمزور اپوزیشن موجودہ حکومت کے خلاف کوئی بھی تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں ھے کیونکہ ان کے پاس کوئی مقبول عوامی بیانیہ نہیں ھے۔ پوری قوم سمجھتی ھے کہ یہ ساری تحریک کرپشن بچاؤ مہم کیلئے ھے اور عوام ایسی کسی تحریک کا ساتھ دینے کی موڈ میں نظر نہیں آرھی۔
پیپلز پارٹی آل پارٹیز کانفرنس کا حصہ ضرور بنی ھے لیکن وہ پھونک پھونک کے قدم رکھ رھی ھے۔ صرف ایک جذباتی بیان سے تین سالہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد بڑی مشکل سے اپنے سابقہ گناہوں کا ازالہ کرنے کی کوشش میں کامیاب رہی ھے اور ویسے بھی مسٹر زرداری صاحب کو اندازہ ہو گیا ھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مہم جوئی فضول ھے کیونکہ عوام اب اینٹی اسٹیبلشمنٹ کے نعرے کو دفن کر چکی ھے۔ انہیں اندازہ ھے کہ اگر سیاست میں زندہ رہنا ھے تو انہیں ایشوز کی سیاست کرنا ہو گی۔ ڈیلیور کرنا ہو گا کیونکہ عوام کو ریلیف دینے سے ہی وہ مسٹر بلاول زرداری کو عوامی لیڈر بنا سکتے ہیں اور ویسے بھی سندھ میں پیپلزپارٹی پارٹی کی حکومت ھے۔ مسٹر زرداری کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے پیروں پہ خود کلہاڑی مار کے اپنی ھی حکومت ختم کر دیں اور ویسے بھی مسٹر زرداری ن لیگ کی قیادت پہ بلکل اعتماد نہیں کرتے کیونکہ مسٹر زبیر عمر صاحب کی چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ملاقات نے میثاق نامی ایجنڈے پہ کاری ضرب لگائی ھے۔جس ملاقات میں انہوں نے محترمہ مریم صفدر صاحبہ اور میاں نواز شریف صاحب کیلئے ریلیف لینے کی کوشش کی ھے۔
ن لیگ اس وقت ایک بکھری ہوئی جماعت ھے۔ تمام سینیر لیڈر یا تو عدالتوں سے سزایافتہ ہیں یا ضمانتوں پہ رھا ہیں اور ویسے بھی ن لیگ اس وقت پے در پہ غلطیوں سے اپنی مقبولیت کھو چکی ھے۔ ہر وقت اداروں سے تصادم, لڑائی جھگڑا, گالی گلوچ, اسٹیبلشمنٹ پہ الزام تراشی سے لوگ نالاں نظر آتے ہیں۔ مریم صفدر صاحبہ کا جارحانہ اور منتقم مزاج رویہ عوام کے ساتھ ساتھ اداروں کو بھی اشتعال دلا رھا ھے۔ پوری قوم اس بات کو سمجھتی ھے کہ اس طرح کا جارحانہ رویہ ملکی سلامتی اور اداروں کی بقا کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ھے اور ویسے بھی یہ ایک کرپشن کی جنگ ھے۔ سٹریٹ پاور سے عاری ن لیگ اس جنگ میں بری طرح شکست کھا جائے گی اس لئے محترمہ صفدر صاحبہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کر رھی ھے لیکن وہ اس میں کامیاب ہوتی نظر نہیں آرھی۔
اس وقت طاقت صرف مولانا فضل الرحمان صاحب کےپاس ھے۔وہ منظم اور جنونی سٹریٹ پاور استعمال کرتے ہوئے کچھ لین دین کی پوزیشن میں ہیں۔ حکومت تو پہلے ھی مولانا صاحب کو ہری جھنڈی دکھا چکی ھے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ وہ مولانا صاحب کو استعمال کرنے کی کوشش میں ہیں لیکن مولانا صاحب پاکستان کی سیاست میں زیرک ترین سیاست دان ہیں جو کچھ کم پہ راضی نہیں ہوں گے۔ وہ یا تو اس بار اپوزیشن سے ٹاپ پوزیشن کا مطالبہ کریں گے یا پھر موجودہ حکومت سے ڈیل کر کے اپنی راہ لیں گے ۔کچھ عرصہ سے عمران خان صاحب بھی مولانا صاحب پہ ہاتھ ہلکا رکھے ہوئے ہیں انہیں اندازہ ہو گیا ھے کہ مولانا صاحب ایک مضبوط سیاسی اور مذہبی طاقت ہیں۔ جنہیں نظرانداز کرنا صرف مشکل ھی نہیں, ناممکن بھی ھے ۔ اندرون خانہ کچھ مشترکہ دوست فاصلے کم کرنے کی کوششیں بھی کر رھے ہیں۔ امید ہیں وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔
اپوزیشن بس بڑھکوں تک ھی محدود رھے گی اور بات جلسے جلوسوں سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔اپوزیشن استعفے دینے کی غلطی کبھی نہیں کرے گی کیونکہ موجودہ حکومت کا دو ٹوک موقف ھے کہ استعفوں پہ ضمنی الیکشن کرا دیئے جائیں گے اور موجودہ حکومت شاید چاہتی بھی یہی ھے کہ اپوزیشن ایسی غلطی کرے تاکہ وہ ضمنی الیکشن میں اپنی پوزیشن کچھ بہتر بنا سکیں۔
اس بار اسٹیبلشمنٹ کے موڈ سے بھی کچھ ایسا لگتا ھے کہ مقتدر حلقوں نے نظریہ ضرورت کو ہمیشہ کیلئے دفن کرنے کا فیصلہ کر لیا ھے۔ اس بار یا تو یہ ملک ہمیشہ کیلئے سسلین مافیا ٹائپ حکمرانوں کے قبضے میں چلا جائے گا یا ریاست خود کو ٹھیک کرتے ہوئے کامیابی کے سفر پہ گامزن ہو گی۔
دوسری طرف اگر موجودہ حکومت پہ نظر ڈالی جائے تو آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے سے حکومت کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگی۔ پرائم منسٹر عمران خان نے خود کو ایک مضبوط اعصاب کا پرائم منسٹر ثابت کیا ھے ۔ احتسابی ایجنڈے کی تکمیل اس کا اٹل فیصلہ ھے جس سے وہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ خلیج ٹائمز نے اسے ایشیا کا بہترین پرائم منسٹر ڈیکلیر کیا ھے۔ مافیاز اور خود ساختہ مہنگائی کے حملوں کی زد میں ھے۔ پارٹی کی اندرونی اور اپوزیشن کی سازشوں کا بھرپور انداز میں مقابلہ کر رھا ھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اے پی سی اعلامیے کے بعد کچھ جھکاؤ کا اظہار کرتا لیکن آج کی کیبنیٹ میٹنگ میں اس نے سختی سے میاں نواز شریف صاحب کو واپس لانے کا حکم دیا ھے اور ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ھے جو میاں نواز شریف صاحب کے واپسی کے عمل کو یقینی بنائے گی۔
اس سے لگتا ھے کہ عمران خان نے بھی فائنل راؤنڈ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ھے ۔
مجھے اس کے چند الفاظ یاد ہیں۔۔۔
کہ یہ حکومت تو کیا اگر میری جان بھی چلی جائے تو میں ان کرپٹ عناصر کو کبھی نہیں چھوڑوں گا اور اس بات کا میں کعبہ شریف میں اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر کے آیا ہوں۔
وہ اس وعدے پہ پوری طرح عمل پیرا ھے ۔اپوزیشن تو صرف ڈراوا دے کے کچھ لینے کی کوشش کر رھی ھے لیکن عمران خان نے آخری اور فیصلہ کن اوور کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 73 سال کے بعد پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہوا ھے۔ نئے ڈیمز, ایم ایل ون, راوی سٹی , کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں بہتری, رینٹل پاور کے ساتھ نئے ایگریمنٹ, ریکوڈک معاملہ, سی پیک پہ ری ایگریمنٹ, امور خارجہ, قرضوں کی واپسی, داخلی قرضوں سے پرہیز موجودہ حکومت کی فہم و فراست کا اظہار ہیں۔ جب ملک معاشی طور پہ ترقی کی جانب رواں دواں ھے تو مقتدر حلقے کبھی نہیں چاہیں گے کہ ملک کی باگ ڈور جارحانہ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے ہاتھ میں چلی جائے۔ لہذا آل پارٹیز کانفرنس کا انجام نوشتہ دیوار پہ واضح نظر آرھا ھے۔
روزانہ میڈیا پہ نیب نیازی گٹھ جوڑ کا نعرہ لگا کے بھولی بھالی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ھے کہ یہ تمام کیسز موجودہ حکومت کے بنائے ہوئے ہیں لیکن سچ تو ھے کہ یہ خود ایک دوسرے کے ڈسے ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ن لیگ پہ کیسز بنائے۔ ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو رگیدا۔ نورا کشتی کا یہ کھیل جاری تھا ۔کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ عمران خان صاحب کی 26 سالہ جدوجہد انہیں اقتدار کے سنگھاسن پہ بٹھا دے گی ۔نہ جھکنے والا انسان جو اپنی زندگی میں بڑے نشیب و فراز سے گزرا۔ ماں کینسر سے دنیا سے رخصت ہوئی تو دنیا کے بہترین کینسر ہسپتال بنا دئے۔۔۔ فقیرانہ زندگی گزاری۔ زندگی میں کبھی رشوت نہیں لی۔ جو کمایا پاکستان شفٹ کیا۔ ساری زندگی مضبوط اعصاب کے ساتھ مشکلات کا مقابلہ کیا۔ وہ بھلا اب کہاں ہار مانے گا۔ وہ لڑے گا۔ بھر پور انداز میں لڑے گا۔
لیکن افسوس اس بات کا ھے کہ وہ پاکستان کی لڑائی اکیلا لڑ رھا ھے۔ قوم, اسکی اپنی پارٹی, اپنی کابینہ کنارے بیٹھ کے تماشہ دیکھ رہی ھے کہ اگر کشتی ڈوبے گئ تو چھلانگ لگا دیں گے اور دوسری کشتی پہ سوار ہو جائیں گے۔۔۔
قوم ڈاکوؤں لٹیروں, ٹھگوں کو چھڑانے کیلئے خودسوزیاں کرنے کو تیار بیٹھی ھے۔ تمام پارٹیاں بشمول پی ٹی آئی کرپٹ لوگوں سے بھری پڑی ہیں ۔بھولی بھالی قوم کسی مجرم کے رھا ہونے پہ بھنگڑے ڈالتی ھے۔ سزایافتہ کو پھولوں کے ہار پہناتی ھے ۔ سونے کا تاج پہنا کے اسے بگھی پہ سوار کر کے گھر پہنچایا جاتا ھے اور پھر مبارک باد کا سلسلہ شروع ہوتا ھے۔ کونسلر, ناظم, ٹھیکیدار, سرکاری افسر, نائی, موچی نان بائی , کسان , رکشہ والا حسب استطاعت مٹھائی کا ڈبہ لییے مبارک باد کیلئے ڈیرے پہ حاضری دیتے ہیں اور ہر کسی کی کوشش ہوتی ھے کہ اللہ کرے قریشی صاحب, چوہدری صاحب, کھچی صاحب, مخدوم صاحب, عباسی صاحب کی مجھ پہ اور میرے مٹھائی کے ڈبے پہ نظر پڑ جائے اور سزایافتہ صاحب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل جائے۔
یہی المیہ ھے ہمارے ملک کا, ہمارے سیاسی نظام کا کہ ہم معمولی سی مدد کیلئے مافیاز کو اسمبلیوں میں بھیج کے امید لگا بیٹھتے ہیں کہ یہ ہمارے حقوق کی حفاظت کریں گے لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم تو اپنے ہاتھوں سے اپنے حقوق کا گلہ کاٹ رھے ہیں۔ مافیاز ہمارے مفادات صلب کر کے اپنے مفادات کو تحفظ دے گا۔ عوام کے ساتھ سیاست کا یہ بے رحم کھیل جاری ھے۔ اس کھیل کو عوام کو خود ختم کرنا ہو گا۔
عمران خان یہی جنگ لڑ رھا ھے اور مجھے قوی امید ھے کہ وہ اس میں کامیاب ہو گا۔ موجودہ اپوزیشن یا اے پی سی کچھ نہیں بگاڑ سکے گی۔۔۔
موجودہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی اور اگلے الیکشن میں ہم سب ڈلیور نہ کرنے پہ عمران خان کا بھی احتساب کر لیں گے۔۔۔ ابھی موجودہ حکومت کو کام کرنے دیجیئے۔ کرپٹ عناصر کا آلہ کار بن کے انکو بچانے کی کوشش مت کیجئے۔ یہ موقع ملتے ہی ملک سے بھاگ جائیں گے اور ہم پھر لکیر پیٹتے رہ جائیں گے۔
اللہ رب العالمین آپ سب کا حامی و ناصر ہو

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *