• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اور پاکستانی ردِ عمل۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات اور پاکستانی ردِ عمل۔۔سید کلیم اللہ شاہ بخاری

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں تاریخی معاہدہ ہو چکا ہے اور کئی دہائیوں پر مشتمل بائیکاٹ ختم ہو چکا ہے۔ اسرائیل عرب امارات میں اپنا سفارت خانہ کھولے گا اور عرب امارات اسرائیل میں۔ دونوں ممالک اس معاہدہ سے سیاحت اور کاروبار سمیت کئی طرح کی امیدیں وابستہ کر چکے ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان تعلقات سے خطے میں موجود کاروباری سرد مہری بھی اپنے اختتام کو پہنچے گی۔
پاکستانیوں میں تعلقات کی ان بحالی پر ملا جلا رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اکثریت اس فیصلے پر خوش نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر منفی کمنٹس کے ذریعے اپنی بھڑاس نکالی جا رہی ہے۔ فلسطین سے پاکستانیوں کی والہانہ وابستگی اس قدر ہو چکی ہے کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ لیکن کیا غصے اور جزبات کا جا بجا اور زیادہ تر بے جا استعمال مستقبل قریب میں عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب کر سکتا ہے اس کے متعلق کسی ذی شعور پاکستانی نے سوچنے کی زحمت کی ہے؟
متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی تعداد پندرہ لاکھ کے قریب ہے جنھوں نے پچھلے سال 4.6 بلین ڈالر کما کر پاکستان بھیجے۔ اس رقم کے حجم کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ دو سال قبل جب نئی حکومت کو زرمبادلہ کی ضرورت تھی اور عمران خان دنیا بھر میں امداد کے لیے ہاتھ پاوں مار رہے تھے تو اس وقت پاکستان کو دراصل 12 بلین ڈالر کی ضرورت تھی جس میں سے 3 بلین سعودی عرب نے سٹیٹ بنک میں رکھوائے تھے اور تین بلین متحدہ عرب امارات نے دیے تھے۔
متحدہ عرب امارات میں فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا فورمز پر کسی بھی منفی ویڈیو تصویر یا کمنٹس کی سخت ممانعت ہے اور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں مقرر ہیں۔ لیکن انفرادی سزاوں کے علاوہ پاکستانیوں کے تبصرے جو کبھی کبھار گالیوں کی شکل بھی اختیار کر لیتے ہیں اس سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کا اندازہ پاکستان میں بیٹھ کر گلف نیوز اور دوسرے اماراتی اخباروں کے فیس بک ورژن پر تبصرے کرنے والوں کو بلکل بھی نہیں۔ اگر ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے تو مذاق اڑانے کے ساتھ ساتھ مزید مغلظات سے واسطہ پڑتا ہے۔ یاد رکھیں کہ وہاں کے لوکل اخبار عام اماراتی سے لے کر اعلی حکام تک پڑھتے ہیں اور موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستانیوں کا رد عمل پاکستانی کمیونٹی کے خلاف چارج شیٹ کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور ان کی مشکلات میں اضافہ کا باعث ہو سکتا ہے۔
پاکستانیوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر آزاد اور خود مختار ملک اپنی خارجہ پالیسی اپنانے میں آزاد ہے اور اس کے لیے اس کو کسی سے مشورہ یا ڈکٹیشن لینے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی آجکل ممالک اپنی خارجہ پالیسی جذباتیت کی بنیاد پر چلا رہے۔
متحدہ عرب امارات ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے جو اپنی خارجہ پالیسی کے لیے کسی دوسرے ملک کا محتاج نہیں ہے۔
البتہ پاکستان جیسے ملک جنھیں ہر کچھ عرصہ بعد امداد کے لیے ادھر ادھر دیکھنا پڑتا ہے تو خارجہ پالیسی بھی امداد اور قرضے دینے والوں کے اہداف میں تبدیل کرنی پڑتی ہے۔
ترکی اور طیب اردگان سے محبت کرنے والے پاکستانی کیا نہیں جانتے کہ ترکی اور اسرائیل کے برسوں سے سیاسی و معاشی تعلقات ہیں اور ترکی میں مذہبی نعرے لگانے والی قیادت اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا عندیہ تک نہیں دے رہی اور نہ ہی یہ تعلقات فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی فائرنگ کی وجہ سےترک فوجیوں کی ہلاکت سے ختم ہوئے۔
متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین نے بھی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا علان کیا یے اور عنقریب مزید خلیجی ممالک اسی ڈگر پر چل کر اسرائیل کو تسلیم کر کے اپنے لیے معاشی امکانات پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک طبقہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا حامی ہے اور ان کی بات میں وزن ہے کہ آپ نے ستر سال اسرائیل کو تسلیم نہ کر کے کونسی فلسطینیوں کی مدد کر لی ہے۔ شاید تسلیم کر کے آپ فلسطین سے متعلق کوئی بات منوا بھی لیں۔
یہ ایک الگ موضوع ہے کہ پاکستان کو اسرائیل سے تعلقات رکھنے چاہیں یا نہیں لیکن میری تحریر کا مقصد پاکستانیوں کو یہ باور کروانا ہے کہ آپ کے اماراتی اور دوسرے عرب اخبارات کی اسرائیل سے متعلق خبروں پر تبصروں کو ہر اماراتی دیکھ رہا ہے۔کسی بھی قسم کے غلط تبصروں اور بحث سے اجتناب کریں۔
جو امارات میں رہ کر کوئی غلط تبصرہ اور تنقید کریں گے وہ براہ راست لوکل قوانین کی گرفت میں آ کر اپنے لیے مصیبت کھڑی کریں گے اور جو پاکستانی امارات سے باہر پاکستان یا کسی اور ملک میں رہ کر ایسا کر رہے ہیں وہ پندرہ لاکھ پاکستانیوں کے لیے مشکلات کھڑی کرنے کا باعث بن سکتے ہیں اور ان لاکھوں روزگار کے مواقع سے پاکستانیوں کو محروم کرنے کی وجہ بن سکتے ہیں جن کی امید پر پاکستانی ہنر مند اور مزدور امارات کا رخ کرتے ہیں۔
عرب امارات نے نہ صرف پاکستان کی ہر مشکل میں مدد کی ہے بلکہ اس کی سر زمین کو اللہ نے لاکھوں پاکستانیوں کے رزق اور روزی روٹی کا ذریعہ بنایا ہے اس سے پاکستان کی معیشت میں بھی براہ راست و بلواسطہ پیسہ آتا ہے اس لیے رزق کے اس وسیلے کا احترام بھی لازم ہے ورنہ پندرہ لاکھ پاکستانیوں کو نکال کر اتنے ہی انڈین، سری لنکن اور فلپائنی رکھنے میں انھیں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

Avatar