پاکستانی ہنڈا سٹی(قسط1)۔۔شریف اللہ محمد

دنیا ہنڈا کی سیونتھ جنریشن استعمال کرکرکے تھک گئی ہے اور ہم پاکستان میں پچھلے دس سالوں سے وہی ففتھ جنریشن ابسلیٹ ڈیزائن گلے ڈال کر بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ ہندوستان میں بھی سکستھ جنریشن ہنڈا گاڑیوں پر شفٹ ہوچکا۔

گاڑی کی جنریشن کے متعلق جند بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ جنریشن کا مطلب گاڑی کا لائف سائجکل ، ڈیزائن، مخصوص سانچے، انٹیریئر سپیسنگ، نٹ بولٹ اور مختلف پیسز ہوتے ہیں۔ یعنی اگر آپ کے پاس گاڑی کی اے ٹو زیڈ چیزیں موجود ہوں تو آپ چاہے سو سال بعد ہی کیوں نہ ان پیسز کو اسمبل کریں آپکو اسی ماڈل اور فیچرز کی برانڈ نیو گاڑی ملے گی، چاہے دنیا مریخ پر ہی کیوں نہ پہنچی ہوئی ہو۔
ہنڈا اٹلس پاکستان اگر ایسا کررہی ہے تو اسکا سب سے سادہ فائدہ یہ ہے کہ  ہنڈا  اٹلس پاکستان، دنیا کی مسابقتی قیمت میں کچرا بیچیں گے اور انکو کوئی کچھ بھی نہیں کہہ سکے گا۔ ہنڈا اٹلس کی مارکیٹ کی “نیک نامی” اور حالات کو دیکھتے ہوئے مجھے یقین ہے کہ کم از کم دوسالوں تک ہنڈا سٹی کی فیس لفٹ کے علاؤہ نیکسٹ جنریشن تک جمپ ناممکن ہے۔ کیونکہ انکا مقصد آسان راستے سے پیسے کمانا ہے۔

ہنڈااٹلس پاکستان کی گاڑی سٹی میں وہ بینادی فیچرز بھی شامل نہیں جوکہ دنیا کی کسی بھی گاڑی حتی کہ ہندوستان کی سیٹنڈرڈ فیچرڈ گاڑی میں بھی موجود ہوتے ہیں۔

ہم اگر امریکہ میں موجود ہنڈا کی ماڈلز سے پاکستانی ہنڈاکارز کا موازنہ کریں گے تو شاید بہت سوں کو ہضم بھی نہ ہو، اسی لئے ہم اس موازنے کے لئے ہندوستانی ہنڈا گاڑی ہنڈا وی ایکس کو   چنتے ہیں۔
بہت سال پہلے ہنڈا ہندوستانی ہنڈا کمپنی نے جو فیچزر اپنی گاڑیوں میں آفر کررکھے ہیں وہ فیچزر ہنڈا اٹلس کی نئے ماڈل کی گاڑیوں میں بھی موجود نہیں اور قیمت۔۔

ائر بیگز، کروز کنٹرول، ایل ای ڈی ہیڈ لائٹس، ایل ای ڈی ٹیل لائٹس، ریموٹ انٹری، اے سی کی پچھلی سیٹس کے فرلز، سن روف انٹرٹینمنٹ وغیرہ۔ کچھ فیچزر کے اگر میں نام بھی لوں تو آپ سب کو ہنسی آئے گی۔ مثلاً

LAN WATCH CAMERA
TYRE PRESSURE MONITORING DISPLAY
ALEXA COMPATIBILITY OPTIONS

انٹیریئر میں لگا سستا خام مال، اسٹیئرنگ کی خرابیاں، انجن ناکنگ، اور انٹرٹینمنٹ سسٹم ڈسکنکشنز عام خرابیاں ہیں جس کی تصدیق پاکستانی ہنڈا استعمال کرنے والے کرسکتے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں ہنڈا اٹلس کی منیجمنٹ کے کارنامے مجھے پتہ چلتے رہتے ہیں مگر کم از کم آپ تو ہوشیار ہوجائیں۔ تاکہ کسی ٹین ڈبے کے لئے تین ملین خرچ نہ کرڈالیں۔ نیچے دیا ہوا چارٹ ضرور دیکھ لیں۔ مکمل ذمے داری سے فیچرز کا جائزہ لیا ہے۔ ہندوستانی کرنسی کنورژن کے بعد کی قیمت اگر مختلف آرہی ہے تو کمنٹ میں بتادیں۔ اس پوسٹ کی شئیرنگ سے آپ کو ثاقب شیرازی کے علاؤہ کوئی نہیں روکے گا۔

انباکس والے حضرت اقدس سے گزارش ہے کہ اگر اب بھی آپ ہنڈا اٹلس کی کھٹارہ خریدتے ہیں تو آپکی مرضی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *