• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پیاز کی پیداوار اور بلوچستان کے زمینداروں کی مشکلات۔۔۔ نوید حیدر

پیاز کی پیداوار اور بلوچستان کے زمینداروں کی مشکلات۔۔۔ نوید حیدر

بلوچستان میں بسنے والی زیادہ تر آبادی کے روزگار کا انحصار زراعت سے وابستہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 70 فیصد سے زائد لوگ بلواسطہ یا بلا واسطہ زرعی شعبے سے وابستہ ہیں۔ بلوچستان کے زمینداروں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت کا ہے۔ کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں جاری بجلی کی لوڈشیڈنگ سے زراعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کو نیشنل گرڈ سے جس قدر بجلی دستیاب ہے، اسکی تقسیم کا نظام موثر طریقے سے چلایا جا رہا ہے، لیکن بجلی کی مجموعی لوڈشیڈنگ، کھاد اور زرعی ادویات کی سرکاری سطح پر عدم فراہمی اور بازار میں انکی مہنگے داموں فروخت اور دیگر مشکلات کے باوجود کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان میں زرعی اجناس کی پیداوار جاری ہے۔

افسوسناک امر دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بلوچستان کا سیب ہو یا پیاز، ان کے زمینداروں کو حکومت سے ہمیشہ گلہ رہتا ہے۔ بلوچستان کے مقامی زمیندار پاکستان کے ہمسایہ ممالک سے پیاز کی درآمد کیخلاف اکثر سراپا احتجاج رہتے ہیں۔ کوئٹہ سے متصل مستونگ، پنجپائی، کانک، درینگڑھ، نوشکی اور دالبندین سمیت دیگر علاقوں میں وسیع پیمانے پر کاشت کئے گئے پیاز کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں۔ مقامی زمینداروں کے مطابق ایسا ہمسایہ ممالک بھارت، ایران اور افغانستان سے پیاز کی درآمد کے باعث ہوا ہے۔ بلوچستان کے زمینداروں نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ صوبے کی مقامی پیداوار کے سیزن میں سبزیوں کی درآمد پر پابندی ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے بلوچستان اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور ہوئی ہے۔ مذکورہ قرارداد کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے پیاز کی درآمد کا فیصلہ ہمارے صوبے کے عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ لہٰذا بلوچستان کے پیاز کی فصل کو یوٹیلٹی اسٹورز کے ذریعے مناسب قیمت پر خریدا جائے اور ساتھ ہی اسکو عام مارکیٹ میں لایا جائے۔ قرارداد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے، تاکہ بلوچستان کے زمینداروں کے مفاد میں پیاز کی درآمد کے فیصلے کو روکا جائے۔

آل بلوچستان نیشنل فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق حکومت سالانہ اربوں روپے زرعی شعبے کے لئے مختص کرتی ہے، مگر زمیندار اور کاشتکاروں کے ریلیف کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ آج تک بلوچستان کے صوبائی محکمہ زراعت نے پھلوں اور سبزیوں کے سیزن میں وفاق سے یہ سفارش نہیں کی کہ آپ فلاں چیز درآمد کریں اور فلاں نہیں۔ بلوچستان ملک بھر میں پیاز کی پیداوار کے حوالے سے مرکزی اہمیت کا حامل ہے، مگر گذشتہ کچھ عرصے سے مسلسل اس کی کاشت اور پیداوار میں غیر معمولی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ 2016ء کو سندھ میں پیاز کی مجموعی پیداوار 39 فیصد، بلوچستان میں 35 فیصد، پنجاب میں 18 فیصد، خیبر پختونخوا میں 8 فیصد ہوئی۔ یعنی اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پیاز کی پیداوار میں پاکستان نہ صرف خود کفیل ہوچکا ہے، بلکہ پیاز کو دوسرے ممالک کو بھی برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس امر کی بنیادی وجہ حکومتی سطح پر موثر حکمت عملی کا متعین نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں پیاز کی سالانہ اوسط پیداوار 9 لاکھ ٹن سے زائد ہے۔ صوبوں کے مابین پیاز کی پیداوار کا حجم گھٹتا اور بڑھتا رہتا ہے۔ بلوچستان میں پیاز کی قیمتوں میں عدم توازن سے خریدار تباہ ہو رہے ہیں۔ پانچ سے دس ہزار فی بوری خریدنے والے اسے پندرہ سو سے دو ہزار میں بیچنے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان کے زمینداروں کے مطابق پنجاب کا آلو 8 ہزار روپے فی بوری خریدا جاتا ہے، لیکن بلوچستان سے جانے والے پیاز کی قیمت اگر دو ہزار سے اوپر ہو جاتی ہے تو وفاقی حکومت فوراً باہر سے درآمد کرنا شروع ہو جاتی ہے۔

غیر ملکی افراد امپورٹ شدہ مال کنٹینروں میں لاد کر پورے ملک کی منڈیوں میں آزادانہ گھومتے ہیں، جبکہ پاکستان اور خصوصاً بلوچستان کے تاجر حضرات جب اپنا مال ہمسایہ ممالک میں لے جاتے ہیں تو انہیں اس طرح آزادی سے گھومنے نہیں دیا جاتا۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ہم امپورٹ ایکسپورٹ کے قطعی مخالف نہیں، کیونکہ اگر کسی ملک کو ہماری جانب سے کچھ ایکسپورٹ ہوتا ہے تو اسکے بدلے امپورٹ بھی ہوگی۔ ایسی باہمی تجارتی سرگرمیوں کا ہونا خوش آئند ہے، لیکن حکومت کو امپورٹ ایکسپورٹ کے حوالے سے مقامی کسانوں اور زمینداروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی تجاویز سننی چاہیئے۔ آل بلوچستان نیشنل فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل کمیشن ایجنٹس ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے تجویز پیش کی ہے کہ حکومت امپورٹ پالیسی میں تبدیلی لاتے ہوئے پندرہ پندرہ دنوں کی پالیسی وضع کرے۔

یعنی ہر پندرہ دن کے لئے امپورٹ کا پرمٹ دیا جائے، اس کے بعد اس پرمٹ میں توسیع ہونی ہے یا اسے منسوخ کرنا ہے، اس کا فیصلہ ہماری مشاورت سے کیا جائے۔ اس سال بلوچستان میں پیاز کی پیداوار سب سے زیادہ ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئٹہ کی سبزی منڈی میں روزانہ 40 سے 50 ٹرک پیاز خالی ہو رہے ہیں۔ اسی طرح پنجاب کی بڑی منڈیوں میں بھی صوبے کے 20 سے 30 ٹرک روزانہ پیاز پہنچا رہے ہیں۔ اب پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ایک جانب زمیندار اور کاشتکار خوش ہیں تو دوسری جانب گھریلو صارفین اس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس حوالے سے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ممالک سے امپورٹ پر پابندی عائد کرنے کی بجائے مقامی پیداوار کی فی ٹن امدادی قیمت متعین ہونے سے عوام اور کاشتکار دونوں طبقات کو ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *