یہ تماشا بھی ہماری ہی نگاہوں کے نصیب میں تھا کہ جب نواز شریف کو پہلی بار حکومت سے نکالا گیا تو ایک اجنبی کو نگراں وزیر اعظم بنایا گیا۔ اس روز پاکستان میں سب سے زیادہ پوچھے جانے والا← مزید پڑھیے
2006ء کے اواخر میں سوات کے علاقے چار باغ جانا ہوا۔ اس قصبے کی ایک لب سڑک مسجد میں عشاء کی نماز میں امام نے سلام پھیرا تو سترہ اٹھارہ برس کا ایک لڑکا کھڑا ہوا اور پشتو میں اعلان← مزید پڑھیے
مذہب اور نظریے کے باب میں حق اور حق گوئی بکثرت استعمال ہونے والے الفاظ ہیں۔ خود خدا نے اپنی کتابوں میں انسانی شعور کو مخاطب کیا ہے اور قرآن مجید میں تو وہ قدم قدم پر اسی جانب متوجہ← مزید پڑھیے
میرے صحافتی کیریئر کا آغاز 1990ء میں ماہنامہ “صدائے مجاہد” سے ہوا تھا جس کے چار سال بعد میں نے ادارت بھی سنبھالی. کیریئر کی پہلی تحریر “خلیجی بحران کا پس منظر” کے عنوان سے لکھی جو خارجہ و عسکری← مزید پڑھیے
سانحہ بس اتنا نہیں کہ ایک شخص آیا، قصور کی معصوم زینب کو ورغلا کر لے گیا اور اسے درندگی کا نشانہ بنا کر کچرے کے ڈھیر پر پھینک گیا۔ یہ تو محض پہلے سے جاری بہت بڑے سانحے کے← مزید پڑھیے
فن قرأت یا علم موسیقی اتنے آسان فنون و علوم نہیں ہیں کہ انہیں ایک پوسٹ میں سمیٹنے کا تصور بھی کیا جا سکے۔ چونکہ گزشتہ دو روز کے دوران آپ کو تلاوت کے مختلف کلپس سنائے ہیں اس لئے← مزید پڑھیے
تحریر ایک فن ہے، دنیا کا سب سے اعلیٰ درجے کا ہی نہیں سب سے زیادہ زیر استعمال فن بھی۔ یہ واحد فن ہے جو نسلوں سے لے کر قوموں تک کی تعمیر کرتا ہے۔ جب امام ابن تیمیہ سے← مزید پڑھیے
“امریکہ مردہ باد یا امریکی سامراج مردہ باد” بظاہر یہ دو نعرے ایک جیسے نظر آتے ہیں مگر غور سے دیکھا جائے تو یہ ہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک سامراج مخالف عوام دوست سوشلسٹ انقلابی کو ایک عوام دشمن← مزید پڑھیے
رینے دیکارت نے ہماری موجودگی کی سب سے بڑی دلیل دیتے ہوئے کہا تھا ’’میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں‘‘ لیکن سوچنا بھی تو اپنے اثبات کی محتاج ہے اور یہ اثبات ’’اظہار‘‘ کی صورت ہوتا ہے۔ اظہار زبانی بھی ہو سکتا ہے، تحریری بھی۔ پھر انسان چونکہ معاشرتی حیوان ہے اس لئے اس کے مفادات باہم مربوط ہیں۔ یہی مربوط مفادات اسے ایک نظم اجتماعی کی جانب لے جاتے ہیں اور یہ نظم اجتماعی ارتقاء سے گزرتا ہے۔ ارتقاء نئے سوالات کھڑے کرتا ہے اور یہ سوالات ترقی کے لئے جوابات چاہتے ہیں۔← مزید پڑھیے