رائٹر اور جمالیاتی ذوق۔رعایت اللہ فاروقی

 تحریر ایک فن ہے، دنیا کا سب سے اعلیٰ درجے کا ہی نہیں سب سے زیادہ زیر استعمال فن بھی۔ یہ واحد فن ہے جو نسلوں سے لے کر قوموں تک کی تعمیر کرتا ہے۔ جب امام ابن تیمیہ سے جیل میں لکھنے کا سامان لے لیا گیا تو انہوں نے کہا “سزا مجھے اب دی گئی” جب نظام الدین طوسی کہتا ہے کہ “اپنا قلمدان الٹ دوں تو بادشاہ کے تاج و تخت الٹ جائیں” تو یہ وہ اپنی نہیں قلم کی طاقت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس غیر معمولی فن کی ایک روح ہے جو تحریر میں “جمالیاتی ذوق” سے آتی ہے، اگر لکھنے والا جمالیاتی ذوق نہیں رکھتا تو وہ بڑا رائٹر کسی قیمت پر نہیں بن سکتا، جمالیات کا ذوق جس قدر اعلیٰ درجے کا ہوگا تحریر اتنی ہی جاندار ہوگی۔

 دنیا کی تمام مصنوعی جمالیات قدرتی جمالیات سے ماخوذ ہیں، میوزک سے لے کر ڈانس تک اور مصوری سے لے کر سنگ تراشی تک دنیا کا ایک بھی فنِ لطیف ایسا نہیں جو اس کائنات میں موجود قدرتی جمالیات سے ماخوذ نہ ہو۔ دیکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ آپ ہر سو پھیلے حسن کا لطف لینے والی حس رکھتے ہیں کہ نہیں ؟۔۔۔

فرض کیجئے بارش ہو رہی ہے، آپ اس کے منظر اور منظر کے ہزار رنگ تو چھوڑیے کبھی آپ نے محسوس کیا کہ بارش کی اپنی ایک مہک بھی ہوتی ہے ؟ اور ہر موسم کی بارش کی مہک دوسرے موسم سے مختلف ہوتی ہے ؟۔ اس مہک کی بھی پھر کئی پرتیں ہوتی ہیں، آپ بارش میں چل کر دیکھ لیں، ہر تین قدم بعد نئی پرت کھلتی ہے، زیادہ صراحت سے سمجھنا چاہیں تو آپ پکوڑے والے کی دکان پر جب بھی جاتے ہیں ایک ہی مہک ملتی ہے جو ہر بار آپ کو یکساں ملتی ہے لیکن کبھی آپ بارش میں پکوڑے کی اسی دکان پر گئے ؟ کیا بارش والے دن بھی مہک وہی ہوتی ہے ؟ اس مہک کو بھی چھوڑ دیجئے !

بارش جاری ہے آپ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں، باہر ایک چھوٹا سا لان اور اس میں دو تین درخت ہیں، لان کے ساتھ ہی ڈرائیوے ہے۔ برستی بارش کے قطرے تین مختلف درختوں کے  پتوں پر پڑ کر تین مختلف طرح کے ردھم پیدا کر رہے ہیں۔ڈرائیوے کے فرش پر پڑنے والے قطرے الگ موسیقی اور گھاس میں جذب ہونے والے قطرے الگ صوتی کیفیت پیدا کر رہےہیں۔ پھر اچانک ہوا کا ایک جھونکا آتا ہے جو درختوں کے پتوں پر قدم جمانے کی کوشش کرتے قطرے جھاڑ کر ایک بالکل نیا ساز پیدا کر دیتا ہے۔ آپ کی کھڑکی پر بھی وقفے وقفے سے کچھ قطرے ہوا کے ساتھ اڑ اڑ ٹکرا رہے ہیں۔ وہ شیشے سے الگ اور لکڑی یا المونیم سے الگ میوزک تخلیق کر رہے ہیں۔ پھر اس پورے آرکسٹرا پر ایک بھاری آواز حاوی ہے جو آپ کی گلی میں بارش کے بہتے پانی کی ہے اور وہ بہتا پانی اس موسیقی میں کلاسیکل گلوکار کا کردار ادا کر تے ہوئے گویا “برسات کا راگ” پیش کررہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب آپ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں تو کیا آپ کی سماعت ان تمام آوازوں کو الگ الگ سن کر ان کا لطف لیتی ہے ؟ اگر آپ بس برستے پانی کو دیکھ رہے ہیں اور ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں کو محسوس کر کے کہہ رہے ہیں “واہ کیا موسم ہے” تو اس سے صرف آپ کا ذی ہوش انسان ہونا ثابت ہوتا ہے فنکار ہونا نہیں۔ تحریر احساسات لکھنے کا نام ہے اگر آپ کے سینسرز ہی حساس نہیں ہیں اور آپ ایک بارش کو ہی اس کی تمام جزیات کے ساتھ دیکھ، سن، سونگھ اور محسوس نہیں کر پارہے تو آپ انسان اور اس کی معاشرت کو کیا محسوس کر پائیں گے اور کیا لکھ پائیں گے !

جانِ عزیز ! ابھی میں نے اس بہار کی بات نہیں کی جو اپنی رنگت سے خود رنگوں کو حیراں کر دیتی ہے۔ اس خزاں کے حسن کو نہیں چھیڑا جو کہتی ہے، میں صورت گل دست صبا کی نہیں محتاج۔ صحرا نامی اس عظیم الشان کینوس کا ذکر نہیں کیا جس کی تصویر ہر لمحہ ہوا کی مدد سے اپنا منظر بدلتی ہے۔ اس ندی اور دریا کی بات نہیں ہوئی جو ہر گزرنے والے سے قرار کا مطلب پوچھتے ہیں۔ ابھی پہاڑ اور اس کے گلیشئرز کے رنگ باقی ہیں۔ ابھی جھیل اور اس کی خاموشی میں پتھر نہیں پھینکا گیا، ابھی چاندنی راتوں میں ہواکے دوش پر جھومتے درختوں کا وجد بیاں نہیں ہوا اور ابھی چڑے اور چڑی کے رومانس کا قصہ بھی نہیں سنایا گیا، صرف بارش اور اس کے بھی صرف صوتی حسن کی جانب محض اشارہ کیا گیا ہے۔

اگر آپ رائٹر سے بڑا رائٹر بننا چاہتے ہیں تواپنے سینسرز کو جگایئے، ایک بار وہ جاگ گئے تو آپ دنیا کو جگانے کی طاقت حاصل کر جائیں گے۔ مگر اے حسرتِ ریختہ ! انہیں کسی شاعر کی طرح بھی نہ جگایئے کہ ساری دنیا کا حسن ایک بل کھاتی کمریا میں سمٹ آئے اور آپ کی نظر وہاں سے ہٹنے کا نام ہی نہ لے۔

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *