افسانہ

فل اسٹاپ/مقصود جعفری

میز پر دھرے پراٹھے کے بچے ہوئے ٹکڑے کا ذائقہ اس جھوٹ جیسا تھا جو عموما ہم اپنے باپ کے ساتھ بولتے ہیں ۔ اس کے ساتھ رکھی چائے کی پیالی سے اٹھتی بھاپ کسی بوڑھے کی آخری ہچکیوں کی←  مزید پڑھیے

میچ میکنگ۔۔(افسانہ)۔۔۔۔صادقہ نصیر

میچ میکنگ۔۔ “آپ کی نظر میں کوئی رشتہ ہے”؟۔ میری دوست نے کہا ۔ “کس کے لئے ؟ “ میں نے پوچھا۔ “میرے بیٹے کے لئے اور بیٹی کے لئے “ پھر خود ہی تعارف بڑھاتے ہوئے بولی۔”ماشاللہ دونوں ہی←  مزید پڑھیے

وِکست بھارت میں فروغِ عبدل (ایک غیر مطبوعہ افسانہ)- اشعرنجمی

عبدالمجید کے دفتر کی فضا میں ایک ایسی مصنوعی تازگی تھی جو صرف مہنگے فلٹریشن سسٹم اور اقتدار کی قربت سے میسر آتی ہے۔ میز پر پھیلے ہوئے رنگین بروشرز اور ’اردو کتب میلے‘ کے نقشے کسی جنگی حکمت عملی←  مزید پڑھیے

صفر کی گونج/مقصود جعفری

اندھیرا گہرا نہیں تھا۔ یہ سیاہی نہیں تھی، بس روشنی کی غیر موجودگی تھی۔ اور وہ اس غیر موجودگی کے عین بیچ میں کھڑا تھا۔ نام؟ اس کے لیے نام ایک اضافی بوجھ تھا۔ وہ تو بس ہونےکا ایک نقطہ←  مزید پڑھیے

بے معنویت کا فارمولا/مقصود جعفری

رات کا تیسرا پہر تھا۔ ایک زیرِ زمین گیلری، جسے کبھی سٹور روم کہا جاتا تھا، میں اُلٹا قمر نامی ایک پینٹر جو کینوس پر ہمیشہ نہیں لکھتا تھا۔ اپنے آخری کام کے سامنے بیٹھا تھا۔ کام کا نام تھا۔←  مزید پڑھیے

خواہشِ نمو/یحیی ٰ تاثیر

یہ تین ہزار چوبیس کا زمانہ ہے۔ زمین کا اصل حصہ ختم ہوچکا ہے یا شاید ختم ہونے والا ہے کیوں کہ اب بھی کوئی نہ کوئی شخص جب زمین کا اصل حصہ دیکھتا ہے تو عمارتوں کی چھتوں پر←  مزید پڑھیے

پارکنگ لاٹ۔۔۔۔۔( افسانہ): حامدیزدانی

’’دیکھو! وہ سامنے رہا دروازہ فزیو تھیراپی کلینک کا۔ میں تو ساتھ اندر نہ جا سکوں گا  ’کووِڈ پروٹوکول‘ جو لاگُو ہے۔ صرف مریض ہی کو اندر داخل ہونے کی اجازت ہے۔ رجسٹریشن کے فارم انھیں پہلے ہی ای میل←  مزید پڑھیے

نیلی روشنیوں کا نروان/مقصود جعفری

فٹ پاتھ کے کنارے لگے سگنل کی سرخ بتی نے ٹھیک اسی لمحے آنکھ جھپکائی جب سدھارتھ نے اپنی پرانی سوزوکی مہران کا انجن بند کیا۔ باہر ٹریفک کا ایک سمندر تھا جو پائپ لائن میں پھنسے ہوئے گندے پانی←  مزید پڑھیے

کھنڈروں کا تاجر …..(افسانہ)۔۔۔۔۔صادقہ نصیر

  گارسیا ایک چھوٹے قد کا خوب صورت اور سلجھا ہوا جوان تھا ۔  جب  کولمبیا  یونیورسٹی سے ہسٹری میں ڈگری یافتہ ہوا تو فوراََ ہی اسے آرکیالوجی کے محکمہ میں جاب مل گئی ۔  اس کے لئے یہ ایک سنہری موقع تھا ۔ غربت اور←  مزید پڑھیے

عزازیل/سید محمد زاہد

وہ برکانی شیشے اور آتش فشانی انگاروں سے بنے تخت پر بیٹھا خنجر کی نوک سے ناخنوں میں الجھی راکھ صاف کررہا تھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ نہ سوجھا تو اسی خنجر سے تخت پر جڑے زبرجد، عقیق←  مزید پڑھیے

گول باغ کا منجمد اثاثہ/مقصود جعفری

وقت یہاں کبھی بھی مستطیل نہیں رہا۔ مگر یہ ایک دائرہ بھی نہیں ہے۔وقت گول باغ میں ایک شفاف جیلی کی شکل میں بہتا تھا۔ جب بھی کوئی شاعر یہاں سے اٹھ کر جاتا، وہ اپنے پیچھے وقت کا ایک←  مزید پڑھیے

صفر اور تین کنارے/مقصود جعفری

غائب ۔ غائب ایک شخص نہیں تھا۔ وہ ایک کیفیت تھی—نہایت ہلکے خاکستری رنگ کی ایک غیر متحرک شکل جو ہمیشہ دیوار اور زمین کے سنگم پر بیٹھی رہتی۔ وہ کسی شے کو نہیں دیکھتا تھا، وہ صرف محسوس کرتا←  مزید پڑھیے

کونسل کا کتا اور آوارہ آرٹ/مقصود جعفری

منظر سیدھا سادہ تھا۔ یہ ایک پرانی عمارت تھی۔ جسے شہر کی آرٹس کونسل قرار دیا گیا تھا۔ اس کی سفید سیمنٹ کی دیوار پر جابجا کائی جمی ہوئی تھی۔ اس کائی کے اوپر ایک بورڈ لگا تھا جس پر←  مزید پڑھیے

چوڑی / علی عبداللہ

شام کی سرخی ابھی اندھیرے میں نہیں بدلی تھی، درختوں پہ دن بھر تھک کے لوٹ آتے پرندوں کا شور تھا- کہتے ہیں شور آلودگی ہوتا ہے، مگر پرندوں کا یہ شور آلودگی نہیں تھا، یہ ان کے لوٹ آنے←  مزید پڑھیے

یقین کامل/محمد کوکب جمیل ہاشمی

رات نے اپنی تاریکی کے سیاہ پر پھیلا رکھے تھے، جب نسیم کے ابو کی بےبسی، بند آنکھوں کی بھیگی پلکوں سے ٹپک رہی تھی۔ اکھڑتی ہوئی بے ربط سانسیں پچکے ہوئے زرد گالوں کی ڈھلان پہ اتر کر کسی←  مزید پڑھیے

حاصل /تسنیم عباس

تیس سالہ نرما نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گہری سانس لی۔ درختوں کے پتوں میں ہلکی سی سرسراہٹ تھی، جیسے کائنات اس کے اندرونی طوفان سے ہم آہنگ ہو رہی ہو۔ شبیر کی دنیا اور نرما کی دنیا اب←  مزید پڑھیے

کفنائی ہوئی کرچیوں کا نوحہ/مقصود جعفری

شہر میم نون کے ان گزرتے دنوں کو میں کسی طرح بھی بیان نہیں کر سکتا ہوں ۔ ہر طرف تیزی ہے ، ہر کوئی جلد ی میں ہے ، ہر چیز بدل رہی ہے ، ہر لمحہ بوجھل ہے←  مزید پڑھیے

بے ترتیب کونا/مقصود جعفری

اُس نے کرسی کو چُھوا۔ کرسی ٹھوس نہیں تھی؛ وہ گوندھے ہوئے شک کی ایک ڈھیلی سی شکل تھی۔ وہ جانتا تھا کہ بیٹھنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک ایسے عمل کا حصہ تھا جو ہمیشہ کیا جاتا ہے۔ بیٹھنا،←  مزید پڑھیے

بے رنگ تصویر کا شور/مقصود جعفری

​وہ کھڑکی نہیں تھی، ایک مربّع خلا تھا جس میں سے روزانہ “گزرتے” ہوئے رنگ در آتے تھے۔ مگر در آنے سے پہلے ہی کٹ کر، ایک دوسرے سے خلط ملط ہو کر، کھڑکی کے شیشے پر ایک بے معنی←  مزید پڑھیے

عمامے سے عمامے تک/ پروفیسر فضل تنہا غرشین

عمامے سے عمامے تک/عماد جب دن بھر کی پرمشقت محنت و مزدوری کے بعد تھکا ماندہ گھر لوٹتا، تو سوچتا: “کاش میں بھی تعلیم یافتہ ہوتا یا کسی ہنر کا مالک ہوتا تو آج آرام کی زندگی بسر کرتا۔” عماد←  مزید پڑھیے