ڈاکٹر مختار مغلانی کی تحاریر

صدارتی یا پارلیمانی نظام۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

نظامِ اقتدار سے مراد وہ ڈھانچہ ہے جس کے تحت کسی بھی ملک یا ریاست کے اعلی و مرکزی اداروں کا قیام، ان کی تنظیم ، ان کی ساخت، صلاحیت، کسی بھی جماعت یا گروہ کی معیادِ اقتدار، ان کے←  مزید پڑھیے

عالمی دہشت گردی کے اسباب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیارملغانی

دہشت گردی کے اسباب کو مجرمانہ سرگرمیوں کی اقسام کے تناظر میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔۔عام طور پر، وجوہات مندرجہ ذیل ہیں: 1۔ سماجی نا انصافی، قومی اور مذہبی پیچیدگیوں کا جمود ۔ لیکن یہاں ہر ناانصافی یا پیچیدگی الجھن←  مزید پڑھیے

مسئلہ کشمیر کا ممکنہ حل۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

بیسویں صدی کی تاریخ بین الاقوامی مسائل و تنازعات سے بھری پڑی ہے، ان تنازعات میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو آج دن تک حل طلب ہیں، لیکن ان تمام تنازعات میں سے کسی ایک کا بھی اس کے←  مزید پڑھیے

مارکسِزم، خونی یا معصوم ؟۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لینن کے انقلاب و نفاذِ نظام میں موجود خونی عنصر کی بنیادی وجہ مارکس کے فلسفے کی “معصومیت” ہے، بنیادی سوال یہ ہے کہ مارکس سے کہاں غلطی ہوئی کہ جس کے نتائج←  مزید پڑھیے

برگِ تناسلی۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

کہانی کا آغاز آدم و حوا, بلکہ بنی نوعِ انسان، کے سقوطِ قسمت سے ہوتا ہے۔ اس اصطلاح ” سقوطِ قسمت “میں ہی کہانی کے تمام راز پنہاں ہیں۔ جب آدم اور حوّا نے معرفتِ خیر و شر کے مآخذ،←  مزید پڑھیے

فنونِ لطیفہ کی زبان۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

پیغام رسانی کے مقصد کے پورا ہونے کیلئے لازم ہے کہ پیغام بھیجنے اور پیغام وصول کرنے والے کے درمیان ایک مشترک وسیلہ یا ذریعہ ہو، اور یہ ذریعہ زبان ہے، اس بابت کوئی دو رائے نہیں، مگر یہاں ایک←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک ۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/دوسری،آخری قسط

 جنرل ضیاءالحق کے دورِ اقتدار میں سب سے زیادہ نقصان نظامِ تعلیم کو پہنچا، عہدِ رفتہ کی عظمتوں اور امتِ مسلمہ کے سنہری دور کے گُن گانا ہی حقیقی قابلیت مانا گیا، جبکہ دورِ حاضر کے علمی تقاضے اور مستقبل←  مزید پڑھیے

مچھلی سے گدھے تک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/پہلی قسط

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتام تھا، رنگ پور گاؤں کے پانچ سو کے قریب گھرانے مقامی دریا کے کنارے آباد ،بلکہ شاد تھے۔ یہاں کی بہترین آب وہوا کا متبادل دنیا میں کہیں اور نہ تھا، مقامی افراد کا←  مزید پڑھیے

یورپ کا فرینکنسٹائن۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

اسٹیفن بنڈیرا (Stephen Bandera) نامی پولینڈ کا ایک نوجوان شہری، جو وزیرِ داخلہ کے قتل کی پاداش میں جیل میں اپنی زندگی کے دن گزار رہا تھا ، کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جرمنی کے پولینڈ پر حملے کے←  مزید پڑھیے

حسِ رقابت۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

علامہ مرحوم کی یہ بات سر آنکھوں پر کہ تصویرِ کائنات میں رنگ، وجودِ زن کا مرہونِ منت ہے، مگر اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ وجودِ زن کی رنگینی میں عشّاق کا خونِ جگر شامل ہے،←  مزید پڑھیے

ابو جہل یا ابو لہب۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایک عمومی غلط فہمی یہ ہے کہ قرآن تمام انسانوں کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہے، ایسا ہرگز نہیں، قرآن کی ابتدائی آیت ہی اس فلسفے کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے ” ذلک الکتاب لاریب فیه هدی للمتقین ” یعنی←  مزید پڑھیے

جذباتیت اور نظامِ معاشرہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسانی جذبات کو ایک دلچسپ پہلو سے دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جذبات کی ان دو میں سے کسی ایک قِسم کا اجتماعی اظہار معاشرے کی سمت کے تعین میں سب سے زیادہ پُر اثر واقع ہوا←  مزید پڑھیے

آقا و غلام۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

غلام بنی نوعِ انسان کی ثقافتی تاریخ کا حقیقی علمبردار ہے، غلامی کی نفسیات، تاریخ ، اہمیت اور اس کے منفی و مثبت پہلوؤں پر ٹھنڈے دماغ سے غور کیا جائے تو یہ ایک انتہائی دلچسپ نوعیت کی بحث ہے۔←  مزید پڑھیے

جنسی جرائم، وجوہات و تدارک۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

بقراط پہلا شخص تھا جس نے انسان کے کردار پر اس کے جسمانی اعضاء کی صحت کے اثر کو تسلیم کیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ بقراط کے اس نظریے پر صرف اس کے ہم عصر ہی ایمان لائے، اس←  مزید پڑھیے

شخصیت کی تعمیر و ترقی۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

شخصیت کسی بھی انسان کی اُن نفسیاتی خصوصیات کا مجموعہ ہے، جو اس کے انفرادی طرزِ عمل کا تعین کرتا ہے، بالخصوص دنیا کے ساتھ تعلقات کا تعین۔ شخصیت کے تناظر میں تعمیر اور ترقی دو مختلف اصطلاحات ہی نہیں،←  مزید پڑھیے

ذوقِ ایرانی۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

اس “مقدُس جذبے ” کو چاہیں تو جمالیاتی حسنِ ذوق کی، جب راہ نہیں پاتے تو چڑھ جاتے ہیں نالے، والی تعبیر کا نام دیا جا سکتا ہے ، مگر اس کیفیت کا موازنہ لواطت سے نہ کیا جائے، جسے←  مزید پڑھیے

نہی عن المنکر اور شغل میلہ۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

مولانا طارق جمیل صاحب کی حکومتی جماعت کی تائید بابت مختلف آراء سامنے آئی ہیں، اگرچہ دونوں اطراف (حامی و مخالفین ) کے سنجیدہ طبقات اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے اس معاملے کو غیر معمولی واقعہ کے طور پر←  مزید پڑھیے

شخصیت پرستی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایسے موجودات کی تعداد چار ہے، جن کے ساتھ انسان باہمی تعلق کا شغف رکھتا ہے، وجودِ خدا، کائناتی وجود، وجودِ معاشرہ اور وجودِ ذاتی (یعنی کہ اپنی ذات )، ان چاروں کے ساتھ انسان کے تعلقات کی بنیاد دو←  مزید پڑھیے

تخلیقی محرک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/افسانہ

ماہرِ نفسیات نے اپنے چہرے پر حیرت کے تاثرات کو مزید گہرا کیا اور سامنے بیٹھے مشہورِ زمانہ ادیب و شاعر، عالمگیر شناس، کو سوال داغا۔۔۔۔ تو آپ کی بیوی نے آپ پر چھری سے حملہ کرنے کی کوشش کیوں←  مزید پڑھیے

بڑھتی آبادی کے مسائل۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

سادہ تجزیئے میں معاملات اتنے خراب نہیں دکھائی دیتے، جتنا کہ اس مسئلے پر آوازیں بلند کی جا رہی ہیں، مثلاً اگر انسانوں کی زمین پہ کثافت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ کچھ ممالک میں آبادی←  مزید پڑھیے