مسلمان۔ماضی سے جُڑا ہوا مستقبل۔۔۔اسد مفتی

برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کی 40فیصد تعداد چاہتی ہے کہ ملک کے چند علاقوں میں شرعی قوانین نافذ کیے جائیں۔
ایک حالیہ سروے میں یہ بتایا ہے کہ برطانیہ میں مقیم مسلم بہت زیادہ راسخ العقیدہ یا انتہا پسند بنتے جارہے ہیں،اور اس کے نتیجے میں وہ مسلکی عام دھارے سے دور ہورہے ہیں۔اس سروے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ برطانیہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد 7جولائی کے لندن پر خود کش دھماکوں کے ذمہ داروں ے کام اور ان کی تخریبی کارروائیوں کو سراہتی اور ان کی تائید کرتی ہے۔ان خودکش دھماکوں میں 52افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سروے سے جو بات منظرِ عام پر آگئی ہے وہ یہ ہے کہ برطانوی مسلمان اپنی مذہب پسندی میں انتہا پسندی یا سخت مذہبی خیالات کی طرف تیزی سے مائل ہورہے ہیں۔اور اس طرح وہ اپنے آپ کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کا ذریعہ بن رے ہیں،جس کا ثبوت برطانیہ میں اسلامی شرعی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ ہے۔

tripako tours pakistan

اسلامی شرعی قوانین پر عمل مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں ہوتا ہے،جس کو مغرب قرونِ وسطیٰ کے قوانین سے تعبیر کرتا ہے۔سعودیہ عرب،اور ایران میں اسلامی قوانین نافذ ہیں،یہ شرعی قوانین اسلامی پولیس کے ذریعے نافذ کیے جاتے ہیں۔شرعی عدالتیں سخت شرعی سزائیں دیتی ہیں،جس کو مغرب جرم کو نہیں بلکہ مجرم کو ختم کرنا سمجھتا ہے۔سنگسار کرنا اور ہاتھ کاٹنا جیسی سزائیں صادر کی جاتی ہیں،جس کا آج کے دور میں مغرب تصور بھی نہیں کرسکتا،برطانیہ جسے جمہوری معاشرے میں 20فیصد مسلمان 7جولائی کے خود کش بم دھماکوں کے ذمہ داروں سے ہمدردی رکھتے ہوں،ایسا یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔یہاں مجھے نائجیریا کے ایک مصنف کی کتاب سے اقتباس یاد آرہا ہے،وہ لکھتا ہے۔
“یہ میری ذمہ داری ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف اعلانِ جنگ کروں جو موت بانٹتے ہیں،اور کہتے ہیں کہ اس کے احکامات انہیں براہ راست خدا سے ملتے ہیں،وہ دنیا کو اپنے طریقے سے چلانے کی خاطر اسے آگ میں جھونک رہے ہیں،وہ عراق کے میدانوں میں لڑنے والے جنگجو ہوں یا افغانستان کے پہاڑوں پر لڑنے مجاہدین یا وائٹ ہاؤس کے رہائشی،میں اپنا فرض پورا کروں گا،کیونکہ میں لوگوں میں زندگی بانٹنے والوں کا طرفدار ہوں “۔

میرے حساب سے بھی یہ بات قطعی عیاں ہوچکی ہے کہ جب تک یورپ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ اسلامی انتہا پسندی اور سیکولرازم کی جنگ ہے،جسے چند اسلامی حکومتوں اور انتہا پسند مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے،اس وقت تک ایسے واقعات کی روک تھام ناممکن ہے،نوجوان مسلمانوں کو انتہا پسندی کی ترغیب دے رہے ہیں،کہ وہ رنگ اورمذہب کی وجہ سے کبھی اس سیکولر معاشرے کا حصہ نہ بن سکیں گے،اس لیے انہیں انتہا پسندی کو اپناتے ہوئے اس معاشرے میں سے اپنا حصہ لینا چاہیے،جہاں وہ اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزار سکیں۔

آپ کو یاد ہوگا،کہ کچھ عرصہ قبل برطانیہ کے ایک ا خبار نے اپنے انڈر کور رپورٹر کے ذریعے ملک میں سرگرم ایسے شدت پسند اور انتہا پسند اسلامی گروپ کا انکشاف کیا تھا جو نوجوان برطانوی مسلمانوں کو دہشت گرد بننے کی ترغیب دیتا تھا۔یہ گروپ لندن بم دھماکوں میں ملوث تھا،چار ملزمان کو “فنٹاسٹک فور”کے نام سے بھی یادکیا جاتا ہے۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے،سنڈے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اس کے ایک رپورٹر نے دو ماہ ” سیور فیکٹ” کے درمیاں گزارے تاکہ معلوم کرسکے کہ یہ گروپ کس طرح غیر مسلموں کے خلاف نفرت کے جذبات ابھارنے کے علاوہ اپنے پیروکاروں کو خود کش حملوں سمیت دیگر پُرتشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں پر اکساتا ہے،رپورٹر کے مطابق،7جولائی سے چند روز قبل تنظیم کے ایک اہم راہنما شیخ عمر بروکس کو سنا، جو نوجوان سامعین سے کہہ رہا تھا کہ دہشت گرد ی مسلمانوں پر فرض ہے۔
اسکا کہنا تھا کہ وہ ایک خود کش حملہ آور کے طور پرمر ناپسند کرے گا۔

اور پھر 7 جولائی ے بعد ایک اور انتہا پسند راہنما ذکریا نے ان واقعات کو حق بجانب ثابت رکتے ہوئے،یہاں تک کہا کہ”بے گناہ مرنے والے افراد بے گناہ نہیں تھے،کیونکہ وہ اسلامی قوانین کی پیروی نہیں کرتے تھے”۔۔ودسری طرف 7 جولائی کے حملوں کے بعد اس وقت کے وزیر دفاع جیرالڈ ہارتھ نے انتہا پسندوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ میں پیدا ہونے والے مسلمان جو برطانوی طرز ِ زندگی اور برطانوی معاشرے کے خلاف ہیں وہ ملک چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں،کیونکہ ان جیسی سوچ رکھنے والے بہت سے ممالک اور بہت سی جگہیں ہیں۔
یہ بات طے ہے کہ 7جولائی کے بم دھماکوں کے ذمہ داروں کی شناخت “برٹش” کی حیثیت سے ہوئی لیکن برطانوی پاسپورٹ کے حامل ہر فرد کو برطانوی قرار دینا صحیح نہیں ہے۔برطانوی بننے کے لیے برداشت،تحمل،رواداری،اور احترام اور سب سے بڑھ کر برطانوی قوانین کی پابندی لازمی ہے۔
کیا “فنٹاسٹک فور”پر یہ اصول لاگو ہوتا ہے؟

ادھر ملکی دھارے سے دور ہونے کی وجہ سے ایشیائیوں اور بالخصوص مسلمانوں کی برطانیہ کے بڑے شہروں میں مقامی آبادی سے الگ تھلگ بستیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور جوں جوں تارکین وطن کی تعداد بڑھے گی اور ملک ہنگاموں کی زد میں آئے گاان الگ تھلگ بستیوں اور مسلمان کمیونٹی کی دوسری کمیونٹیز سے تنہائی میں اور بھی اضافہ ہوگا۔
بریڈ فورڈ،لیسٹر اور اولڈ ہیم میں ان علیحدہ بستیوں کا امریکہ کے شہروں نیویارک،شگاکو اور میامی میں سیاہ فام آبادی کی الگ بستیوں سے کیا جاسکتا ہے۔16بڑے شہر کی یہ ریسرچ برٹش اکیڈیمی نے کی ہے،جس سے یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ لندن اور بریڈ فورڈ سب سے الگ تھلگ رہنے والی اقلیتی کمیونیٹیز کے گھر ہیں۔ریسرچ میں الگ تھلگ بستی کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ “ایک ایسی بستی کو یکساں پس منظر کی 70فیصد آبادی ہو”

1970اور 1980میں یورپ میں تصور عام تھا کہ تارکین وطن زیادہ آبای (مقامی) والی ثقافت میں ضم ہوجائیں گے،لیکن معاملہ یورپ کی توقع کے خلاف نکلا جس کے نتیجے میں مسلم کمیونٹی اُن کے ہاتھ سے نکلتی چلی گئی۔اور آج معروضی حالات جس نہج پر آگئے ہیں اس سے نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

Advertisements
merkit.pk

آخر میں اس خطر کا ذکر کیے بغیر نہیں رہا سکتا جو گزشتہ دنوں شائع ہوا ہے۔گارڈین کا مراسلہ نگار لکھتا ہے۔”برطانیہ کے بزرگ مسلمانوں (پاکستانیوں) کو حیرت اور شرمندگی ہے۔بعض نوجوان اپنے باپ دادا کی ان باتوں کامذاق اڑاتے ہیں،کہ جب وہ برطانیہ آئے تھے تو ان کی جیب میں بیس پچیس پونڈ تھے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان بزرگوں نے بڑی بڑٰ رکاوٹوں کو دور کیا اور اب بم دھماکوں میں ملوث خود کش مسلمانوں کی وجہ سے برطانیہ میں آباد دو ملین سے زائد مسلمانوں کے لیے زندگی مشکل ہوگئی ہے،لیکن آج ہمیں پھر سے ان مشکلات پر قابو پانا ہے”

  • merkit.pk
  • merkit.pk

اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply