پاکستان کی پہچان ہمارے آم۔۔۔ مزمل فیروزی

 

 

ملتان اولیاءکی سر زمین کہلاتا ہے اب آموں کا شہر بھی بن گیا ہے، پاکستانی آم رسیلا، میٹھا اور جسامت کے اعتبار سے دنیا بھر کے آموں سے بہتر ہے، ہمارے آم اپنے ذائقے،اعلیٰ معیار اورغذائیت کی وجہ سے دنیا بھر میں پسند کیے جانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی پہچان بھی ہیں، پاکستان آم کی پیداوار میں چھٹا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان میں پیدا ہونے والادوسرا سب سے بڑا پھل ہےپچھلے دنوں نیسلے پاکستان نے صحافیوں کو نیسلے کی ریسرچ سے مستفید ہونے والے آم کے باغات کا دورہ کرایاجس کی بدولت ہمیں ملتان کے نواح میں دو باغات دیکھنے کا موقع ملا، ہماری خوش قسمتی کہ ہمارے میزبان چونسہ پروجیکٹ کے منیجر علی اشعر سید اورزارابشارت تھیں انہوں نے ہمیں سب سے پہلے مینگوریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کا دورہ کرایا جہاں ہمارے استقبال کیلئے مینگوریسر چ انسٹی ٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحمید صاحب پہلے سے ہی موجود تھے دوران بریفنگ انہوں نے بتایا کہ دنیا میں آم کی تقریبا 1595ً اقسام پیدا ہوتی ہے پاکستان میں تقریبا 500سے زائد اقسام ہیں اور وطن عزیز میں 110اقسام کاشت کی جارہی ہیں جبکہ صرف 23 سے پچیس 25 اعلیٰ اقسام کو تجارت کی غرض سے اگایا جا رہاہے جن میں سب سے زیادہ مانگ آموں کے بادشاہ چونسہ کی ہے ۔


پاکستان میں 4لاکھ 20 ہزار ایکڑ رقبہ پر آم کے باغات ہیں جس سے سالانہ 16 لاکھ 99 ہزار میٹرک ٹن آم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے، پاکستان میں آموں کی فصل میں بہتری اور ان کی مزید اچھی اقسام لانے کے لیے نیسلے پاکستان اور مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان نے مشترکہ تحقیق کا عمل شروع کیا ہوا ہے آم کی پیداوار میں اضافے اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے کسانوں کی مدد کے لیے ملتان مینگو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ فنی اور تحقیقی تعاون کر رہا ہے اور اب تک آم کی کئی مخلتف اعلی ٰ اقسام متعارف کرائی گئی ہیں جس میں ایک “عظیم چونسہ”اوردوسرا “MRI1″ہے۔ اب پاکستان میں چونسہ آم کی پیداوارا آم کی کل پیداوار کا 72 فیصد ہے جدیدتحقیق سے آم کی پیداوار بڑھا کر ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے قیمتی زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہو گا۔ایک اندازے کے مطابق صرف ایک فیصد آم بطور پلپ استعمال کیا جا تاہے جس سے جوسز، آئس کریم وغیرہ بنائے جاتے ہیں ۔
یہاں سے فارغ ہونے کے بعد ہمارے میزبان نے جٹ سنڈیالہ مینگوفارم لے جانے کا عندیہ دیادوران سفر روڈ کنارے چلتے جانور ، گاﺅں کی سوہنی خوشبو ، لہلہاتے کھیت ، باغات اور سب سے بڑھ کر آموں سے لدے ہوئے درخت جو ایک الگ دنیا کا منظر پیش کر نے کے ساتھ ساتھ وہاں سے ہر گزرنے والوں کو اپنی طرف راغب کررہے تھے،ملتان کی سخت گرمی اور دھوپ کی شدت بھی ہمیں باغ میں جانے سے نہیں روک سکی اور ہم سب جب گاڑی سے اتر کر باغ میں اخل ہوئے تو اندازہ ہوا کہ ہمارے کاشت کار بھائی کتنی محنت سے یہ پھل ہماری ٹیبل تک پہنچاتے ہیں ۔پاکستان کی موجودہ صورت حال میں کسی پھلتے پھولتے کاروبار کو دیکھنا ہر محب وطن پاکستانی کو نہال کر دیتا ہے۔
اسی دوران فارم کے مالک حاجی اللہ بخش کاکہنا تھا کہ آم کے باغات سے بھرپور پیداوار لینے کے لیے باغ لگاتے وقت زمین، آب و ہوا، پھل کی اقسام اور ذرائع آبپاشی کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے۔ماڈرن فارمنگ، آم کے درختوں کی کانٹ چھانٹ اور بروقت اسپرے کے بارے میں آگاہی سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے ۔ حاجی صاحب کا فارم واقعتا ًدیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ پھلوں کا سائز، درختوں کی تراش خراش، اور ایک درخت پر سینکڑوں پھلوں کی موجودگی ان کی محنت، لگن کا باغ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا،اور پھر وہاں پرخود درختوں سے آم توڑ کر ٹیوب ویل کے پانی میں ٹھنڈا کرنے کی غرض سے رکھ کرسینئر صحافی انجم وہاب کے ہاتھوں کٹے آم کھانے کا مزا ہی کچھ اور تھا جو کبھی نہیں بھلایا جاسکتا ۔اس کا اندازہ پڑھنے والوں کو جب ہوگا جب آپ لوگ خود کسی درخت سے آم توڑ کر کھائیں گے ۔
اس کے بعد ہم نے موضع مسی میں واقع دوسرے فارم کی طرف رخت سفر باندھا جو زیادہ دور نہ تھا مگر حد نگاہ آم سے بھرے درخت ہی درخت نظر آرہے تھے درختوں سے چھن کر آنے والی دھوپ خوب صورتی کے ساتھ ساتھ منظر کو بھی دلکش بنا رہی تھیدوران گفتگو آم کے باغ کے مالک چوہدری رحمت اللہ نے بتایا کہ آگاہی مہم کے ذریعے آم کی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ آمدنی بھی بڑھی ہے اور ہمیں بہترین معلومات دینے اور ترقی کی طرف گامزن کرنے میں اہم کردارادا کیا ہے جدید طرز پر کام کر کے فروٹ فلائی سے بچا جا سکتاہے آم کی برآمد میں اضافہ کو یقینی بنانے کیلئے فروٹ فلائی پر قابو پانا ضروری ہے جس سے نہ صرف کاشت کاروں کو فائدہ ہو گا بلکہ ملکی تجارتی ساکھ میں بہتری اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق پر عمل کرنے سے فصل اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے، پاکستانی آم کی اپنی ایک منفرد غذائیت اور لذت ہے جس سے اس کی مانگ دنیا بھر میں کی جاتی ہے ،جبکہ سب سے زیادہ آم پیدا کرنے والا بھارت خود ہم سے چونسہ آم کی مانگ کرتاہے ۔ آم پر ہونے والی جدید تکنیک، زراعت میں جدت اور پاکستان کے لئے ترقی کے سب خواب اپنی تعبیر لئے ساتھ ساتھ نظر آتے ہیں۔

علی اشعر سید کا کہنا تھا کہ چونسہ پروجیکٹ کا مقصد کسانوں کو ماڈرن فارمنگ کے طریقوں سے آگا ہ کرناہے اور ان کے کام کو جدید خطوط پر اسطوار کرنا ہے ، جس کا مقصد عام کسانوں تک جدید تحقیق کے مثبت اثرات پہنچانا تھا اب تک بہت سے کسان فرسودہ اور پرانے طرز کاشت اپنائے ہوئے ہیں جس سے ہر سال فصل میں کمی واقع ہو رہی ہے اور جو لوگ جدید طرز پر کام کررہے ہیں ان کی فصل میں اضافہ ہورہاہے ۔پہلے مرحلے میں 8 مینگو فارمز پر کام شروع کیا گیا ہے۔ملک میں آموں کی مختلف نئی اقسام پر تحقیق کے ساتھ جدید سائنسی طریقوں کے ذریعے آم کی پیدوار میں اضافے کے لیے کام کررہی ہے، اس سلسلے میں تین سال قبل چونسہ پائلٹ پروجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔ ترقی یافتہ ممالک میں آم کے باغات کی داغ بیل کے وقت ان باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے جبکہ ہمارے ملک میں ان ضروری امور کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

پاکستانی آم امریکہ ،جاپان،اردن،موریشیں اور جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ رسائی حاصل کر چکاہے جبکہ اس سے قبل پاکستان سے آم کی ایکسپورٹ زیادہ تر متحدہ عرب امارات کوکی جاتی رہی ہے جو تقریباً60سے 70ہزار میٹرک ٹن ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی آم میں بھارت کے تاجر بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور اب یہ امید کی جاسکتی ہےکہ یورپی یونین کے بعد دیگر ممالک میں بھی ہم اپنا اہممقام بنا سکیں گے۔اگر حکومت اور نجی ادارے اسی طرح آم کی کاشت کے بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہے تو کوئی بعید نہیں کہ ہم دنیا میں بہترین آم کے ساتھ ساتھ سب سے زیادہ آم پیدا کرنے والوں کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں ۔

 

مزمل فیروزی
مزمل فیروزی
صحافی،بلاگر و کالم نگار پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے رکن مجلس عاملہ ہیں انگریزی میں ماسٹر کرنے کے بعد بطور صحافی وطن عزیز کے نامور انگریزی جریدے سے منسلک ہونے کے ساتھ ساتھ کراچی سے روزنامہ آزاد ریاست میں بطور نیوز ایڈیٹر بھی فرائض انجام دے رہے ہیں جبکہ صبح میں شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں اردو میں کالم نگاری کرتے ہیں گھومنے پھرنے کے شوق کے علاوہ کتابیں پڑھنا اور انٹرنیٹ کا استعمال مشاغل میں شامل ہیں آپ مصنف سے ان کے ٹوءٹر اکائونٹ @maferozi پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *