کیا خدا قرنطینہ میں ہے؟۔۔انعام رانا

گزشتہ سال بالآخر وہ ہو گیا کہ جس سے ساری عمر میں بچتا رہا تھا۔ بچپن سے ماں نے سمجھایا ہوا تھا کہ تجھے چکن پاکس (لاکڑا کاکڑا) نہیں نکلا، سو ہمیشہ احتیاط کرنا اور میں کرتا رہا، مگر پھر اک دن 39 سال کی عمر میں ایک دوست کے چھ سالہ بیٹے سے لگوا بیٹھا۔ بیماری کی اذیت اپنی جگہ مگر مجھے اس بیماری نے خدا کے بہت قریب کر دیا۔ جب اذیت حد سے گزرنے لگتی تھی تو مجھے لگتا تھا وہ میرے سرہانے آن بیٹھا ہے، میرا سر اپنی گود میں رکھ کر پیار سے میرا بدن سہلا رہا ہے،تسلی دے رہا ہے۔میری ماں تو میرا خیال رکھ ہی رہی تھیں مگر یوں لگا جیسے تین چار دن خدا بھی ماں بن کر میرے سرہانے بیٹھ گیا تھا۔ شِفا ملی تو ایک دن ایک بیرسٹر دوست دفتر آئے ،جو کافی مذہبی ہیں، نماز روزہ داڑھی حج سب لوازمات کے ساتھ۔ فرمانے لگے آپ کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آپ کا کون سا ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے یہ بیماری آئی، کیونکہ بیماری خدا کی ناراضگی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیے تو میں شدید صدمے میں آ گیا۔ جس بیماری نے خدا کو میری ماں بنا دیا تھا، اس بیماری کو انہوں نے کس قدر آسانی سے خدا کا عذاب بنا دیا۔

آپ اپنے اردگرد غور کیجیے تو یہ رویہ عام نظر آئے گا۔ شاید ہم جو “مظاہر پرست” اجداد کی اولاد ہیں ،ابھی بھی اجداد کی سوچ پر ہیں۔ ہر فائدہ دینے والی شے خدا ہوتی تھی اور اب خدا کی خوشی اور ہر نقصان یا آفت اسکے برعکس۔ ہم نے کائنات کی ہر بیماری ہر مشکل ہر آفت کو خدا کی ناراضگی بنا کر لوگوں کی زندگی حرام کر دی ہے۔ زلزلہ لڑکیوں کے جینز پہننے سے آتا ہے ،تو طوفان زنا کی کثرت سے۔ کوئی بیمار ہے تو خدا ناراض ہے اور اس غریب کی تیمارداری کرتے کرتے ہم اسے احساس گناہ میں بھی مبتلا کرتے جاتے ہیں۔

کرونا وائرس چین میں پھیلا تو ہم نے فورا ً اسے چین میں مسلمانوں پہ ہونے والے مبینہ ظلم سے آنے والا عذاب قرار دے دیا۔ کچھ نے حلال کھانے کی عظمت کے گُن گائے اور ہر قسم کے “غیر انسانی” احساس کا مظاہرہ کیا۔ مگر صاحبوً وبا تو پھر وبا ہوتی ہے۔ یوں پھیلی ہے کہ کیا حرام کیا حلال، کیا مسلم کیا غیر مسلم، کیا ملحد کیا خدا پرست۔اب سب ہی کو سب ہی سے خطرہ ہے۔ مگر جو کوڑا لے کر مذہب پرست دوسروں پہ چڑھ دوڑتے تھے اب وہی کوڑا کچھ “غیر مذہبی” دوست اٹھائے پھرتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ اس معاملے میں شاید دنیا کا منفرد ترین معاشرہ ہے کہ ہمارا مولوی، لبرل، کمیونسٹ، مرد، عورت،مذہبی و غیر مذہبی،اپنی فطرت میں کٹھ مُلا ہیں۔ بس موقع ملنے کی دیر ہوتی ہے۔ خیر آج کل کچھ طعنے مارکیٹ میں بہت “اِن” ہیں۔ جیسا کہ “خدا اپنے ماننے والوں کو بچاتا کیوں نہیں”، “خدا کرونا کے آگے بے بس ہو گیا” بلکہ اک فقرہ زیادہ  مزے کا تھا کہ “خدا بھی قرنطینہ میں ہے”۔ شاید ہمارے مذہب بیزار دوست سمجھتے ہیں کہ الحاد کی تبلیغ کا نادر موقع ہے ،سو فوراً “مریدین” میں اضافہ کر لیا جائے۔

اک دن میرے ایک دوست جو ہر دوسرے ماہ عمرہ کرنے پہنچ جاتے ہیں ،فرمانے لگے کہ یار کچھ عرصے سے زم زم کا ذائقہ بدل گیا ہے۔ میں نے ہنستے ہوے کہا، کیا پتہ ختم ہو گیا ہو اور اب عام پانی ہی چلا رہے ہوں۔ ان کے چہرے پر اِک رنگ آیا مگر پھر کہا کہ ہو سکتا ہے ،مگر کیا فرق پڑتا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ مزاح میں کہی بات اگر سچ ہو تو؟۔۔۔ اس سوچ نے کئی در واء  کیے۔ زم زم ہو یا  کعبہ،  یہ فقط کچھ نشانیاں ہیں۔ کل کو اگر زم زم سوکھ جائے یا کعبہ ڈھے جائے تو یہ خدا کی موت کا اعلان نہیں ہو گا۔ ہمارا ایمان زم زم یا کعبے سے مشروط نہیں ہے۔ یا ہے؟

اسی طور اس کائنات میں ہونے والی تبدیلیوں،آفات،بیماریوں یا وباؤں میں ہم خدا سے اس کی رحمت اور پناہ کی درخواست کرتے ہیں، اسکے فضل کا ترلا کرتے ہیں مگر ہمارا ایمان ان سے ہونے والے فوائد یا نقصان کا محتاج نہیں ہے۔ کرونا اک وبا ہے جو تمام انسانیت کیلئے باعثِ  خوف ہے۔ سب اقوام مل کر اس سے بچاؤ  کی کوشش میں ہیں اور اللہ سے دعا ہے کہ جلد اس سے جان چھوٹے۔ ہم جیتے رہے تو اس کا شکر ادا کریں گے، خدانخواستہ اس کا نشانہ بن کر مر مرا گئے تو بھی کوئی بات نہیں۔ خدا کو بھلے دوست قرنطینہ میں رکھیں، وہ ہمارا خدا ہی رہے گا،ماں جیسا۔

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *