سب سے بڑا سیکولر دین.آخری حصہ

اسلام کے قانون کی بنیاد اللہ کی رضا جوئی اور اطاعت کے لیے زمین سے فتنہ و فساد کا دفع‘ اس کے بندوں کے درمیان عدل و انصاف اور امن و اطمینان کا قیام اور معاملات میں لوگوں کے درمیان سے نزاع و خدع و فریب کی روک تھام ہے‘ چنانچہ اسلام کے قانون میں جتنے حدود و تعزیرات ہیں ان کا مقصد زمین سے فتنہ و فساد کا دفع ہے اور جس قدر معاملات و معاشرت کے اصول اور مسائل ہیں ان کا منبیٰ بندوں کے درمیان عدل و انصاف اور امن و اطمینان کا قیام ہے اور معاملات میں جتنے قانونی ممنوعات اور منہیات ہیں ان سب کا منشا باہمی نزاع اور خدع و فریب کا استیصال ہے۔ اس میں کہیں رنگ و نسل کا کوئی اختلاف ‘ زبان اور لغت اور تہذیب و تمدن کا کوئی فرق اور ملک و اقلیم کا کوئی امتیاز نہیں‘ یہ قانون اللہ کا ہے ‘ اللہ کے سارے بندوں کے لیے بنایا گیا ہے وہ چاہے کالے ہوں یا گورے‘ آریائی ہوں یا سامی‘ یورپی ہوں یا ایشیائی‘ ہندی ہوں یا حجازی‘ عجمی ہوں یا تاتاری‘ سب کے لیے یکساں اور سب کے لیے برابر ہے۔

اسلام دین و دنیا اور جنت ارضی اور جنت سماوی اور آسمانی بادشاہی اور زمین کی خلافت دونوں کی دعوت کو لے کر اوّل ہی روز سے پیدا ہوا‘ اس کے نزدیک عیسائیوں کی طرح اللہ اور قیصر دو نہیں‘ ایک ہی شہنشاہ علی الاطلاق ہے‘ جس کے حدود حکومت میں نہ کوئی قیصر ہے اور نہ کوئی کسریٰ‘ اسی کا حکم عرش سے فرش تک اور آسمان سے زمین تک جاری ہے‘ وہی آسمان پر حکمران ہے وہی زمین پر فرماں روا ہے۔ اصل دین الہٰی ایک ہی ہے‘ ایک ہی رہا ہے اور ازل سے ابد تک ایک ہی رہے گا اور وہ اسلام ہے۔ اس دین کی جامعیت کی تشریح مختلف پہلوؤں سے کی گئی ہے اور کی جاسکتی ہے‘

انہی میں سے ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ سلطنت اور دین کا معتدل مجموعہ ہے‘ وہ ایسی سلطنت ہے جو ہمہ تن دین ہے یا ایسا دین ہے جو سرتاپا سلطنت ہے مگر سلطنت الہٰی‘ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ سلطنت الہٰی میں قیصر کا وجود نہیں‘ اس میں ایک ہی اعلیٰ حاکم و آمر مانا گیا ہے وہ حاکم علی الاطلاق اور شہنشاہ قادر مطلق اللہ ہے ‘ بادشاہی اسی کی ہے ‘ حکم اسی کا ہے‘ فرمان صرف اسی کا صادر ہوتا ہے دوسرے مجازی حاکموں اور آمروں کا حکم اسی وقت مانا جاتا ہے جب وہ عین حکم الہٰی ہو یا اس کا منبیٰ ہو اور کم ازکم یہ کہ اس کے مخالف نہ ہو۔ حضرت محمدﷺ اس دین کے سب سے آخری داعی ‘ نبی اور پیغمبر تھے اور وہی اس سلطنت کے سب سے پہلے امیر‘ حاکم اور فرمانروا تھے‘ آپ کے احکام کی بجاآوری عین احکام الہٰی کی بجاآوری ہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے جن نیک بندوں کو اقتدار کی مسند پر بٹھاتا ہے انہیں کیا کرنا چاہیے وہ سورہ حج کی اکتالیسویں آیت میں بیان کیا گیا ہے‘
ترجمہ: ’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جمادیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں‘ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے‘‘ اس آیت میں اسلامی حکومت کے بنیادی اہداف اور اغراض و مقاصد بیان کیے گئے ہیں‘ جنہیں خلافت راشدہ اور قرن اول کی دیگر اسلامی حکومتوں میں بروئے کار لایا گیااور انہوں نے اپنی ترجیحات میں ان کو سرفہرست رکھا تو ان کی بدولت ان حکومتوں میں امن و سکون بھی رہا‘ رفاہیت و خوشحالی بھی رہی اور مسلمان سربلند اور سرفراز بھی رہے۔ حکومت اور اس کے فرائض اسلام میں دین کی حیثیت رکھتے ہیں جس سے بحسن و خوبی عہدہ برآ ہونا ثواب اور اس میں قصور گناہ ہے اور بحسن و خوبی عہدہ بر آ ہونا یہی ہے کہ وہ احکام الہٰی کے تحت ادا ہوں۔
ترجمہ: ’’ اور جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ کریں وہی کافر ہیں‘‘(مائدہ۔۴۴)

احادیث میں بھی اس کی تصریحات ہیں‘ ارشاد ہے
’’ہاں اے لوگو! جو امام‘ اللہ نے جو قانون اتارا ہے اس کو چھوڑ کر کچھ فیصلہ کرے اس کی نماز اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا‘‘ (مستدرک)
اللہ تبارک نے انسان کو خلیفہ بنا کر بھیجا جس کا مقصد اس کے حکموں کا نفاذ ہے‘ ارشاد ہوتا ہے
ترجمہ: اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔(بقرہ)
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دو قول لکھے ہیں‘ ایک یہ کہ ایک مخلوق کے بعد دوسری مخلوق کی جانشینی کا ذکر ہے‘ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی نیابت کا ذکر فرما رہا ہے‘ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کے حوالہ سے لکھا ہے ۔ ’’ میں اپنی طرف سے زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں جو میرا خلیفہ ہو گا‘ میری مخلوقات کے درمیان حکم کرنے میں‘‘۔ اس کے اوپر ابن زید کی تفسیر کا مطلب یہ بیان کیا ہے۔ ’’ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو خبر دے رہا ہے کہ وہ زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنا رہا ہے جو اس کے حکم کے مطابق اس کی مخلوقات میں فیصلہ یا حکومت کرے گا‘‘۔

اس سلسلہ میں قاضی بیضاوی کی تصریح زیادہ حکیمانہ ہے۔ ’’ اور اس سے مراد آدم ؑ ہیں‘ کیونکہ وہ اس کی زمین میں اللہ تعالیٰ کے خلیفہ تھے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو خلیفہ بنایا‘ زمین کی آبادی اور لوگوں کی نگرانی اور نفوس کی تکمیل اور اللہ تعالیٰ کے احکام نافذ کرنے میں اللہ تعالیٰ اس کا محتاج نہیں کہ کوئی اس کا خلیفہ ہو بلکہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تلقین کسی واسطہ کے بغیر ممکن نہ تھی‘‘۔رب کائنات کے احکام مخالفین کی ہرزہ سرائی اور رکاوٹوں کے باوجود ہمیشہ قائم رہیں گے ‘ مخبر صادقﷺ کا ارشاد مبارک ہے ’’ میری امت کا ایک گروہ اللہ کی شریعت کو لے کر قائم رہے گا‘ اس کے چھوڑنے والے اور اس کے مخالف اس کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی بات یعنی قیامت آ جائے گی اور وہ اسی پر قائم رہیں گے‘‘۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *