چلی سے نیو یارک اور کراچی تک، تین نائن الیون

ہم طبقات میں منقسم جس دنیا میں رہتے ہیں یہاں ہر طبقے کے ، ہر قوم کے،ا نسانوں کے ہر گروہ کے اپنے اپنے المیے، اپنے دکھ درد ، اپنی خوشیاں ، اپنے تہوار، اپنے جشن ،اپنے روزِ ماتم اپنے ہیرو اور اپنے اپنے ولن ہیں ۔ کچھ دنوں اور تواریخ سے ان کی خوش گوار تو کسی سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ 11ستمبر بھی ایک ایسا ہی دن ہے جسے کسی نے امریکی سامراج کے کبر ورعونت کی علامات پر حملے سے تعبیر کرتے ہوئے خوشی کے شادیانے بجائے تو کسی نے اسے ایسے نہتے اور معصوم انسانوں کا بدترین قتلِ عام قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی جو امریکہ  کی سامراجی پالیسیوں کے ، اس کی توسیع پسندی کے، اس کے دنیا بھر میں مسلط کی گئی جبرکی شکلوں کے بالکل بھی ذمہ دار نہیں تھے ۔وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں قائم مختلف دفاتر میں اپنی ذہنی وجسمانی محنت فروخت کر نے والے محنت کش انسان تھے۔ ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جو دور دراز کے ملکوں سے اس لیے آئے تھے کہ محنت کے کچھ معقول دام پا سکیں ۔ہاں تین ہزار سے زائد محنت کش جو ایک ایسی دہشت گردی کا شکار ہوئے جس کے تخم ستر کی دہائی کے آخر میں خود امریکی سامراج نے اشتراکیت کو نیچا دکھانے کے لیے افغانستان میں بوئے تھے اور اپنے ہمکاروں کی مدد سے اس کی خوب نشوونما کی تھی ۔ لیکن دیکھا جائے تو اس بدترین دہشت گردی کو بھی امریکانے کمال ہوشیاری سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔

نائن الیون کی اصطلاح زباں زد عام ہوئی اور امریکی سامراج اپنے اتحادیوں سمیت افغانستان پر چڑھ دوڑا ۔ پھر عراق کی باری آئی،صدام حسین کے مجسمے مسمار کیے گئے اور اسے گرفتار کرنے کے بعد پھانسی گھاٹ روانہ کر دیا گیا ۔’’ دہشت گردی کے خلاف‘‘ جنگ کا دائرہ’’ عرب بہار‘‘ کے جلو میں لیبیا تک پھیل گیا۔ معمر قذافی نہ تو فرار ہوا نہ ہی کسی زمین دوز غار میں پناہ لی ۔ سبز کتاب کا مصنف ، اپنے طرز کے’’ سوشلزم‘‘ کا علمبردارضعیف العمر معمر قذافی اپنی خوبیوں ،خامیوں سمیت بہادر انسانوں کی طرح اس دنیا سے رخصت ہوااور صحرائے اعظم کی وسعتوں کا حصہ بن گیا ۔بارود کی فصل پھیلتی چلی گئی اور سامراج منافع سمیٹتا چلا گیا ۔ افغانستان میں اس کے مستقل اڈے ، عراق ولیبیا کے وسائل پر مکمل قبضہ،شام پر قبضے میں ناکامی کے بعد سازشوں کے تانے بانے، دندناتے لشکراور افریقی ملکوں میں ان کا منظم پھیلاؤ ۔لیکن وہاں کے لوگوں کو کیا ملا ؟ القاعدہ ،داعش، الشباب اور بوکو حرام جیسے جنونی گروہ ، بے شمار خونی لشکر ، دہشت گردوں کے جتھے اور اس کے جلو میں بھوک، بے روزگاری ، قحط و بیماریوں کی سوغاتیں ۔گویا نائن الیون نامی مظلومیت کی چادر اوڑھ کر امریکی سامراج نے اپنی توسیع پسندی کا جواز حاصل کرلیا ۔امریکہ  کی سرزمین پر کام آنے والے تین ہزار سے زائد محنت کشوں کے خون کو اپنے مقاصد کے لیے بھلا اس سے بہتر کون استعمال کر سکتا تھا ؟۔


نائن الیون کے بعد اس وقت کے سیکولرامریکی صدر بش دوئم نے صلیبی جنگوں تک کے نعرے لگائے !۔لیکن انھیں کون  بتاتا اور یاد دلاتا کے آج جس دہشت گردی کے خلاف آپ نے مذہبی جنگ لڑنے کا اعلان کیا ہے اس کے خالق بھی تو آپ ہی ہیں۔ یہ سارے لشکر تمھارے ہی پروردہ ہیں ۔تب انھیں ’نیو یارک ٹائمز‘ ، ’واشنگٹن پوسٹ‘‘ جیسے اخبارات اور ’ٹائم میگزین ‘ جیسے رسالے ’’ عظیم جنگجو ‘‘ لکھتے تھے اور ان کی تصاویر بڑے طمطراق سے شایع کی جاتی تھیں۔یاداش بخیر ! جب افغان انقلاب کے خلاف امریکہ  کی سربراہی میں انتہا پسند جتھے تباہی پھیلا رہے تھے تو ان دنوں پاکستان کے بائیں باز و کے رہنما معراج محمد خان سے افغان صدرکامریڈ ڈاکٹر نجیب اللہ نے ایک ملاقات میں کہا تھا کہ ہم نے ایک پسماندہ ملک میں انقلاب کر کے یہاں تعمیرکے ایک سفر کا آغاز کیا تھا ہمارے پاس نہ اس طرح وسائل ہیں اور نہ ہی انفراسٹرکچر لیکن یہاں مداخلت کر کیااور بارود کی فصل بو کر صرف ہمیں ہی نہیں برباد کیا جارہا بلکہ یہ آپ کے سماج کو بھی تہہ وبالا کر کے رکھ دے گا ۔‘‘ آنے والے وقتوں نے کامریڈڈاکٹر نجیب اللہ کے ان الفاظ کو حرف بحرف درست ثابت کیا ۔آج دنیا بھر میں بارود کی پھیلی ہوئی یہ فصل اسی سے یادگار ہے ، امریکہ  کا نائن الیون اسی کا شاخسانہ ہے اور ایشیا و افریقہ میں بارود کی اس آگ میں جھلستے کروڑوں انسان اسی کا منطقی نتیجہ ہے ۔

بہر کیف امریکہ  میں ظہور پذیر ہونے والا یہ دنیا کا کوئی پہلا یا آخری نائن الیون نہیں تھا بلکہ اس سے ٹھیک اٹھائیس سال قبل اسی تاریخ کوجنوبی امریکہ  کے ایک چھوٹے سے ملک چلی کے محنت کش عوام بھی ایک نائن الیون سے دوچار ہوئے تھے۔ اس نائن الیون کو اس وقت کے امریکی حکمرانوں نے CIAکے ساتھ مل کر ڈیزائن کیا تھا اور پھر چلی کے ہی فسطائی جنرل آگستو پنوشے کی مدد سے اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا تھا ۔اس نائن الیون میں چالیس ہزار سے زیادہ انسان کھیت ہوئے ۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انھوں نے تین سال قبل ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کے متحدہ محاذ کو کامیاب کیا تھا جس کے نتیجے میں سلوادور الاندے نامی سوشلسٹ رہنماصدر منتخب ہوئے ۔الاندے کے ’’جرائم‘‘ کی فہرست بھی خوب طویل تھی ۔اس نے امیر وغریب کے درمیان برزخ جیسی خلیج ختم کرنے کے اقدامات کیے تھے ۔اس نے چلی کے معدنیات کے ذخائر اور زراعت سے امریکہ  کی اجارہ دار کمپنیوں ’’کیٹن کوپر کارپوریشن ‘‘ اور ’’ انا کونڈا ‘‘کا قبضہ ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا ۔کوئلے ،تانبے اور فولاد کی صنعتوں کو قومی ملکیت میں لے کر اس کا ثمر محنت کشوں تک پہنچانے کی سعی کی تھی اور زرعی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے جاگیریں غریب اور بے زمین کسانوں میں بانٹی تھیں۔ کیا عجب آدمی تھا جس نے بچوں کی طبی امداد اور مفت تعلیم کا پروگرام بنایا تھا۔


سرد جنگ زوروں پر تھی اور الاندے چلی کو کیوبا کے بعد جنوبی امریکہ  میں اشتراکیت کا ایک اور مرکز بنانے چلے تھے جو امریکی سامراج کو کسی طور منطور نہیں تھا ۔ سلوادور الاندے کی منتخب حکومت کو گرانے کے لیے بہت نسخے آزمائے گئے ۔حزب اختلاف کے سیاست دانوں ،اوراخبارات سے لے کر تاجروں اور زرخرید ٹریڈ یونینز تک میں لاکھوں ڈالرزتقسیم کیے گئے ۔ چلی میں گولہ بارود اور اسلحے کے ڈھیر لگا دیے گئے اور یوں حالات خراب کرتے ہوئے سلوادور الاند ے کی حکومت گرانے کی راہ ہموار کی گئی۔سلوا دور الاندے اس صورتحال کے خلاف ڈٹ گئے تب فوج کاشافی نسخہ آزمایا گیا ۔جنرل پنوشے جسے محض 19دن قبل فوج کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اس نے الاندے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جسے الاندے نے مسترد کر دیا ۔اس کے ساتھ ہی جنگی جہاز وں نے صدارتی محل پر حملہ کر دیا۔ الاندے نے تب بھی ہتھیار نہیں ڈالے انھوں نے فوری طور پر ریڈیو کے ذریعے قوم سے مختصر خطاب کیا ’’ آپ نے اپنے ووٹ کے ذریعے مجھ پر اعتماد کیا تھا سو آپ کا ووٹ میرے پاس امانت ہے جس کی لاج میں اپنی جان دے کر رکھوں گا ۔ یہ لوگ ہمیں ختم کر سکتے ہیں لیکن سیاسی عمل کو طاقت کے ذریعے نہیں دبایا جا سکتا ۔سماجی تبدیلی کے عمل کو اس طرح جرم کے ذریعے نہیں روکا جاسکتا ۔ان لوگوں کافیصلہ تاریخ کرے گی ۔ تاریخ جسے عوام بناتے ہیں۔سلوادور الاندے اپنے درجن بھر ساتھیوں اور محض دو بندوقوں کے ساتھ پنوشے کے ٹینکوں اور آگ اگلتے جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صدارتی محل سے نکل آئے ۔ وہ شاید دنیا کے واحد سربراہِ مملکت تھے جو بندوق بدست رزم گاہ میں کام آئے ۔

جی ہاں یہ نائن الیون ہی تھا ۔ چلی کے محنت کشوں کا نائن الیون، ان کی منتخب حکومت کا نائن الیون ۔ یہ نائن الیون ایک دن میں ختم نہیں ہوگیا بلکہ یہ امریکی سامراج کی تائید وایما سے اگلے سترہ سال تک جاری رہا ۔ پنوشے کی فسطائی آمریت نے سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی ، بائیں بازو کی ٹریڈ یونینز کو کچل کر رکھ دیا، ہر قسم کی آزادی سلب کر لی اور جو مخالف بھی اس کے ہتھے چڑھا اسے پیس کر سرمہ بنا دیا گیا، ہزاروں سیاسی کارکن ہمیشہ کے لیے غائب کر دیے گئے ۔ دریاؤں میں تیرتی لاشیں اور اجتماعی قبریں پنوشے کے چلی میں معمول کی باتیں تھیں۔سلوادور الاندے کی طرح کامریڈوکٹر ہارا بھی اس نائن الیون کا خصوصی ہدف ٹھہرا تھا ۔اس کا تعلق چلی کی کمیونسٹ پارٹی سے تھا ۔ وہ چلی کا ممتاز انقلابی شاعر، نغمہ نگار اور موسیقار تھا جس کے نغمے اور دھنیں محنت کش عوام کے لیے تھیں ۔وہ الاندے کی پالیسیوں کا پرجوش حامی تھا ۔ اقتدار پر قابض ہونے کے بعد فوجی جنتا نے اسے بھی پانچ ہزار دیگر سیاسی قیدیوں اور مزدوروں کے ساتھ سان تیاگو کے باکسنگ اسٹیڈیم میں قید کر دیا ۔اس کا ایک انقلابی گیت ’’ہم جیتیں گے‘‘بہت مشہور تھا پنوشے کے فوجیوں نے بندوق کے بٹوں سے اس کی انگلیاں کچل کر گٹار اس کے سامنے پھینکا اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ’’ اب گیت گا کر دکھاؤ‘‘ ۔تب زخموں سے نڈھال جواں ہمت وکٹر ہارا انے کچلی ہوئی انگلیوں سے گٹار بجایااور انقلابی گیت بھی گایا ۔

میرا راگ نہیں ہے درباری
کیوں دھن کی تال پہ رقص کروں
میرے گیت میں کل کی آشا ہے
میری تان میں جھانجھ ستاروں کی
میں آخری پل تک جنگ کروں
میرے سارے سُر سچے نکلیں!


وکٹر ہارا کو بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اسی اسٹیڈیم میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا اور اس کی لاش ایک گلی میں اچھال دی گئی۔بین الاقوامی شہرت یافتہ انقلابی شاعر پابلو نرودا بھی اسی نائن الیون کے کشتگان میں سے ایک تھا ۔اس کے قریبی ساتھی اور رفقاء مار دیے گئے اور اس کے محض دو ہفتے بعد 23ستمبرکو 69سالہ پابلو نرودا کی میت اس کے گھر سے اس عالم میں اٹھائی گئی کہ وہاں کئی انچ پانی کھڑا تھا اور اس کے زندگی بھر کے سرمائے یعنی کتب خانے سے دھواں اٹھ رہا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ پابلو نرودا کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ انھیں زہر دیا گیا تھا ۔اس نائن الیون کے جلو میں پنوشے نے چلی کو امریکا کے ایک فوجی اڈے اور کھلی منڈی میں تبدیل کر کے رکھ دیا ۔امریکا اور اس کے ہمکاروں کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ کتنے لوگ مارے یا غائب کیے جا رہے ہیں ، انسانی حقوق کی کون سی بدترین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں ۔ انھیں تو بس یہ اطمینان تھا کہ اشتراکیت کا خطرہ ٹل گیا ہے ان کی کمپنیوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے ،اورانھیں لوٹ کھسوٹ کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔

1988کے ریفرنڈم میں تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود پنوشے کو شکست ہوئی لیکن وہ 1990تک اقتدار کا بلاشرکت غیرے مالک رہا ۔اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھی وہ فوج کا سپاہ سالار اور پھرملک کی نومنتخب پارلیمنٹ کا تاحیات سنیٹر رہا ۔1998میں پنوشے جب علاج کے لیے برطانیہ میں تھا تو اسپین کے وکلاء کے دباؤ پر اسے گرفتارکر لیا گیا لیکن اس پر کبھی کوئی مقدمہ نہیں چل سکااور برطانوی ہائی کورٹ نے اسے رہا کرنے کا حکم دیا ۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ اس کے ان جرائم میں امریکی صدر نکسن سے لے کر برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر تک شامل تھی۔ 10دسمبر 2006کو پنوشے مر گیا ۔ اپنے کرتوتوں کے باعث اسے خوف تھا کہ چلی کے عوام اس کی لاش اور قبر تک کو نہیں بخشیں گے سو وصیت کے مطابق اس کی لاش جلانے کے بعد ساری راکھ دریا برد کر دی گئی ۔ بہر کیف اہلِ چلی اس نائن الیون کو آج تک فراموش نہیں کر سکے ہیں۔

چلی سے امریکہ  تک نائن الیون نے محنت کشوں کو زخم ہی دیے ۔اس دنیا میں موجود بدصورتی اور جبر واستحصال پر مبنی نظام کو مزید استحکام ہی بخشا یہاں تک کہ 11ستمبر 2012کا دن آن پہنچا ۔ ایک اور نائن الیون مزدوروں کے لیے ایک اور سیاہ دن ۔سائٹ ایریا کراچی کی علی انٹر پرائز نامی فیکٹری میں 260محنت کش جل کر کوئلہ بن گئے ۔یہ صنعتی دنیا میں آگ لگنے کے نتیجے میں ہونی والی ہلاکتوں کا سب سے بڑا واقعہ تھا جسے حکمرانوں نے اس وقت محض ایک حادثے کا نام دے کر مقامی صنعت کاروں کی غفلت اور لاپروہی سے لے کر انٹر نیشنل برانڈز اور آدٰیت سرٹیفیکٹ جاری کرنے والی کمپنیوں تک کے سنگین جرائم کی پردہ پوشی کی کوشش کی۔ بعد ازاں اسے بھتہ خوری کا نتیجہ قرار دے کر سیاست مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس واقعے کے 29ماہ گزرنے کے بعد ایک رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی گئی جس میں آتشزدگی کے واقعات میں ملوث افراد اور گروہ کی جانب نشاندہی کی گئی ۔ اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری کر تی رہیں لیکن کسی بھی جماعت کوسانحہ بلدیہ کے لواحقین کو درپیش مسائل اور فیکٹریوں میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔اتنے عرصے میں کسی نے بھی پارلیمنٹ یا پارلیمنٹ سے باہر متاثرین کے مطالبات کے لیے کوئی آواز بلند نہیں کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے جوہر میں مزودر دشمن تھیں اورہیں۔

متاثرہ فیکٹری میں آگ لگی یا لگائی گئی یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس پر عدالت کا فرض بنتا ہے کہ وہ جلد از جلد اس گھناؤنے جرم میں ملوث درندہ صفت افراد اور پشت پر موجود گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے عبرتناک سزا دے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے کہ کیا فیکٹری میں کسی ناگہانی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے وہ تمام انتظامات موجود تھے جن کے ذریعے کام کرنے والے محنت کشوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکتا تھا۔ اب تک کی تمام رپورٹس اور حقائق اس امر کی جانب واضح اشارہ کرتے ہیں کہ یہ فیکٹری، فیکٹری ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ نہیں تھی ، غیر قانونی طور پر کام کر رہی تھی ، فیکٹری سے ایمرجنسی اخراج کے تمام راستے بند تھے ، کھڑکیوں پر بھاری فولادی گرلیں لگی ہوئی تھیں اور گزرنے کے تمام راستے سامان سے اٹے ہوئے تھے جوکہ بڑے پیمانے پر مزدوروں کی شہادتوں کا باعث بنے۔فیکٹری کو غیر قانونی طور پر چلانے والے اور ہیلتھ اور سیفٹی کے مقامی و عالمی قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والے برابرکے مجرم ہیں جن میں فیکٹری مالکان ، بین الاقوامی برانڈز بالخصوص جرمن برانڈKIKجس کے لیے یہاں مال تیار ہوتا تھا، اڈیٹ سرٹیفیکٹ جاری کرنے والی اٹلی کی بین الاقوامی کمپنی RINA اورلیبر سے متعلقہ ادارے شامل ہیں۔

سانحہ بلدیہ کی پہلی برسی کے موقع پر ملک کی معروف مزدور تنظیم ’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان‘‘(NTUF)نے ایک جامع اور مفصل رپورٹ پیش کی تھی جو اس فیکٹری میں زخمی ہونے والے 50اور51شہداء کے لواحقین کے انٹرویوز پر مشتمل تھی ۔اس رپورٹ کے مطابق فیکٹری کے 90%سے زائد ورکرز ٹھیکہ داری سسٹم کے تحت کام کر رہے تھے اور وہ EOBIاور سوشل سیکورٹی کے اداروں سے رجسٹرڈ نہیں تھے ۔ انھیں یونین سازی کی اجازت نہیں تھی ۔ ان سے12سے 14گھنٹے کام لیا جاتا تھا اور فیکٹری بیگار کیمپ کا منظر پیش کرتی تھی۔جبکہ فیکٹری میں کام کرنے والے 2000کے قریب مزدوروں کو ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لیے کسی قسم کی تربیت نہیں دی گئی تھی ۔اس سانحے سے قبل 9ماہ کے عرصے میں دو بار اس فیکٹری میں آگ لگنے کے واقعات رونما ہو چکے تھے۔بین الاقوامی کمپنیاں ملکی لیبر قوانین اور انٹرنیشنل لیبر معیارات کی مستقل خلاف ورزیاں کر رہی ہیں اور غیر انسانی ماحول میں کام لے کر سستی لیبر سے اربوں ڈالرز کما رہی ہیں۔جب کہ نام نہاد بین الاقوامی اڈیٹ کمپنیاں غیر قانونی اور نامناسب حالات میں ورکرز سے کام لینے والی فیکٹریوں کو مسلسل سرٹیفکیٹ ایشو کر رہی ہیں جو مزدوروں کے لیے ڈیتھ وارنٹ ثابت ہو رہے ہیں۔ اٹلی کی کمپنی RINAاس کی بدترین مثال ہے جس نے بلدیہ فیکٹری کے حادثے سے محض دو ہفتے قبل اس کو اسی قسم کا سرٹیفیکٹ جاری کیا تھا ۔ یہ کمپنی 100کے قریب دیگر فیکٹریوں کو ایسے ہی سرٹیفیکٹ جاری کر چکی ہے جو کسی بھی طور قتل کے لائسنس سے کم نہیں ہے۔


سانحہ بلدیہ کے متاثرین انصاف کے حصول کے لیے مہینوں دربدر پھرتے رہے لیکن ان کی اشک شوئی کا آغاز مزدور تنظیموں کے بھرپور احتجاج کے بعد ہی ممکن ہوسکا ۔حکومت کی طرف سے اعلان کردہ امداد متاثرین کو اس وقت ملنا شروع ہوئیں جب مزدور تنظیموں کی پٹیشن پر سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس باقر نے احکامات دیتے ہوئے معاوضے کی ادائیگی ، شہید ہونے والے محنت کشوں کی پنشن اور سوشل سیکورٹی کو یقینی بنایا ۔اس ملک میں عدلیہ کی بحالی کے لیے چلائی جانے والی تحریک میں کراچی کے پچاس محنت کشوں نے 12مئی کو اپنے خون کا نذرانہ دیا تھا ۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ عدلیہ کی بحالی کے بعد مزدوروں کے مسائل سے بے اعتناعی ہی برتی گئی۔ البتہ سانحہ بلدیہ کیس کے حوالے سے جسٹس باقر کے کردار کو مزدور تنظیموں اور شہداء کے ورثانے بجا طور پر سراہا ۔مزدور تنظیموں کے آواز بلند کرنے پر جرمن برانڈKIKنے بھی لواحقین کو معاوضے کی ادائیگی کی لیکن بعد ازاں بھتہ خوری کا معاملہ سامنے آنے پر مزید معاوضے کی ادائیگی سے صاف انکار کر دیا جس پر لواحقین نے ان کے خلاف جرمنی میں کیس داخل کیا اس کے بعد KIKکی جانب سے 5.1امریکی ڈالر عالمی ادارہ محنت کے حوالے کیے گئے لیکن لواحقین کا مطالبہ تھا کہ یہ رقم انھیں یکمشت اور SESSIکے بدنام زمانہ کرپٹ ادارے بجائے سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے ادا کی جائے ۔ بہر حال سال گزرنے کے باوجود یہ رقم لواحقین کو نہیں مل سکی ہے ۔کیونکہ عالمی ادارہ محنت معاوضے کی رقم لواحقین کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر کے دینا چاہتا ہے جو متاثرین کو قبول نہیں ہے ۔اسی طرح آڈیٹ جاری کرنے والی کمپنی RINAکے خلاف بھی اٹلی میں 750سے زائد لواحقین نے کیس داخل کررکھاہے ۔

کراچی کے محنت کشوں کے اس نائن الیون کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ 17محنت کشوں کی ناقابل شناخت لاشوں کے DNAتصدیق نہیں ہو سکے تھے ۔ عدالتی حکم پر 24فروری2013کو ایدھی فاؤنڈیشن کے رضا کاروں نے موچکو قبرستان میں ان کی تدفین کی ۔ان محنت کشوں کی قبروں پر ان کے نام کی بجائے DNAنمبرز تحریر ہیں ۔ جبکہ 8شہید مزدوروں کی لاشیں ہی نہیں مل سکیں ۔گویا پچیس مزدور خاندان اپنے پیاروں کا آخری دیدار بھی نہ کرسکے ۔ان 25شہداء کی DNAرپورٹ آج تک نہیں پیش کی گئی جس سے حکمرانوں اور متعلقہ اداروں کی بے حسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ان کے ساتھ کیے گئے اکثر وعدے بھلا دیے گئے ۔سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف جو اُس وقت اپوزیشن لیڈر تھے اور ان کی جماعت کی پنجاب میں حکومت تھی انھوں نے فی شہید 3لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا جس کی ادائیگی آج تک نہیں کی گئی ۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شہدا ء کے لواحقین کے لیے ایک پلاٹ ، سرکاری ملازمت اور بچوں کے تعلیمی اخراجات کا علان کیا تھا جو محض اعلان ہی ثابت ہوا ۔بحریہ فاؤنڈیشن کے ملک ریاض نے بھی دو دولاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا جو 90سے زائد شہداء کے لواحقین کو نہیں مل سکے۔ اس نائن الیون میں کام آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کی تنظیم ’’ سانحہ بلدیہ متاثرین ایسوسی ایشن ‘‘ اور ’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان‘‘ نے اس مسئلے پر متعدد بار پریس کانفرنسیں ، ریلیاں اور مظاہرے کیے لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔


صنعتی دنیا کے اس بدترین سانحے سے کسی نے کوئی سبق نہیں سیکھا آج بھی کروڑوں کی تعداد میں فیکٹریوں ،کارخانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے کام کی جگہیں موت کے کنوئیں اور گیس چیمبر بنے ہوئے ہیں لیکن اس ضمن میں صوبائی اور وفاقی حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ 90%فیکٹریاں رجسٹرڈ نہیں ہیں،95%فیکٹریوں میں ٹھیکہ داری نظام ہے محض 5%کے قریب محنت کش ہی سوشل سیکورٹی اورEOBIسے رجسٹرڈ ہیں ۔پرائیوٹ سیکٹر خصوصاََ ٹیکسٹائل اور گارمنٹ میں 2%مزدور کوہی یونین سازی کا حق حاصل ہے، فیکٹریوں اور کارگاہوں میں ہیلتھ اور سیفٹی ندارد، جبکہ لیبر انسپیکشن جو کہ فیکٹریوں کی حقیقی صورتحال کو دیکھنے کا اہم طریقہ کار تھا ،اس کو بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں فیکٹری مالکان مزدوروں سے غلاموں سے بھی بدتر سلوک کر رہے ہیں اور فیکٹریوں اور کارخانوں میں آگ لگنے سے لے کر مختلف قسم کے حادثات معمول بن کر رہ گئے ہیں۔

بہر کیف ایک بات طے ہے کہ چلی سے نیو یارک اور کراچی تک جتنے نائن الیون ہوئے ہیں اس کی براہِ راست ذمہ دار منافع  کی اندھی ہوس میں مبتلا سرمایہ داری اور سامراجیت ہے ۔ آج جو صورتحال ہے اس میں نائن الیون جیسے مزید انسانی المیوں کے ناگزیر امکانات موجود ہیں ۔ جتنے نائن الیون ہوئے ہیں یہ سب دنیا میں قائم لوٹ کھسوٹ پر مبنی طبقاتی نظام کو قائم ودائم رکھنے کی مجنونانہ کوششوں کا شاخسانہ ہیں۔ محنت کش طبقہ ہی اس کا براہِ راست نشانہ بنا اور وہی ان کے اثرات سے متاثر ہوئے ۔ اس لیے یہ محنت کش طبقے کا فریضہ ہے کہ وہ جبر پر مبنی سرمایہ داری اور سامراجیت کی بنیادوں کو ڈھا دینے والی اس فکر سے رجوع کرتے ہوئے طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو جائیں جس کے بانی کارل مارکس نے کہا تھا کہ’’ دنیا بھر کے محنت کشو ایک ہو جاؤ‘‘۔ سرمایہ داری اور سامراجیت کا مقابلہ کرنے کا فکری ہتھیار القاعدہ ، داعش، طالبان اور ان جیسی انسان دشمن قوتیں فراہم کر سکتی ہیں نہ ہی یہ ان کا مقابلہ کر سکتی ہیں کیوں کہ یہ خود اس نظام کی پیداورااور سامراجی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کا ہتھیار ہیں۔دوسری بات یہ ہے کہ محنت کی نجات کی جدوجہد کبھی مذہبی، فرقہ وارانہ، نسلی ولسانی بنیادوں پر نہیں ہوسکتی ۔ محنت کش طبقے کے پاس متحد ومنظم ہوکر اپنی انقلابی جماعتوں کی قیادت میں نجات کی جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ بصورت دیگر نائن الیون سے بھی بدترین المیے رونما ہوتے رہیں گے اور نوع انسانی کا شرف اور وقار بارود کی فصلوں کی کھاد بنتا رہے گا۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *