• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • کامریڈ ننگر چنا اور دیگر سیاسی ،سماجی اور ادبی کارکنوں کوبازیاب کیا جائے

کامریڈ ننگر چنا اور دیگر سیاسی ،سماجی اور ادبی کارکنوں کوبازیاب کیا جائے

کراچی ( سٹاف رپورٹر سے )سندھ کے ممتاز مترجم ، شاعرو ادیب کامریڈ ننگر چنا اور دیگر سیاسی ،سماجی کارکنوں ، ادبی شخصیات اور دانشوروں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف گذشتہ روزکراچی پریس کلب پر ’’ انقلابی آدرش فورم،کراچی ‘‘ ،’’نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ‘‘(NTUF)اور ’’ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن ‘‘(HBWWF)کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سیاسی ،سماجی اور ٹرید یونین کارکنوں نے شرکت کی ۔مظاہرین نے کامریڈ ننگر چنا اور ،جبری طور پر غائب کیے گئے دیگر سیاسی، سماجی وادبی کارکنوں کی بازیابی کے مطالبات پر مبنی بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ احتجاجی مظاہرے کی قیادت ’’ انقلابی آدرش فورم، کراچی ‘‘ کے رہنما مشتاق علی شان کر رہے تھے ۔
اس موقع پرجاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ میں سیاسی وسماجی اور ادبی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کی نئی لہر نہایت ہی تشویش ناک امر ہے ۔ شہریوں کا اس طرح غائب کیا جاناجمہوری حکومتوں کے کھوکھلے پن اور بے بسی کا اظہار ہے جب کہ جبری گمشدگیاںآئینی اداروں ،منتخب حکومتوں، قانونی اداروں اور عدالتوں کے دائرہ اختیار پر بھی سوالیہ نشان ہے ۔ اس طرح کے ماورائے آئین وقانون اقدامات آنے والے وقتوں میں سماج میں انارکی پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کے لیے آکسیجن کی مانندہے جو سماجی ترقی کے لیے مستحکم بنیادیں فراہم کرتی ہے ۔غیر جمہوری قوتوں کی جانب سے سماج پرقبرستان کی سی خاموشی مسلط کرنے کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک خوفناک سیاسی وسماجی گرداب میں پھنسا ہوا ہے جس کے خوفناک نتائج محنت کش عوام مسلسل بھگت رہے ہیں ۔
روشن فکر ، ترقی پسند نقطہ نظر رکھنے والوں اور ریاستی بیانیے کے متبادل سوچنے والوں کو طاقت کے زور پر دباکر جمہوری قوتوں کوکمزور کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی اور نسلی تعصب کو فروغ ملا ہے ۔آج کی گھمبیر صورتحال میں ضروری ہے کہ عدالتوں اور جمہوری اداروں کو اپنا حقیقی کردار ادا کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کے اس غیر قانونی سلسلے کو روکنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔
انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کامریڈ ننگر چنا سمیت جبری طور پر غائب کیے گئے سیاسی ،سماجی و ادبی کارکنوں کو بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ فی الفور ختم کیا جائے ۔
احتجاجی مظاہرے کے شرکاء میں ’’انقلابی آدرش فورم ،کراچی‘‘ کے رہنما مشتاق علی شان ’’نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن  ‘‘کے مرکزی صدر رفیق بلوچ ، ڈپٹی جنرل سیکریٹری ناصر منصور ,این ٹی یو ایف سندھ کے جنرل سیکریٹری ریاض عباسی’’ ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکریٹری زہرا خان ، سائرہ فیروز ،’’کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان ‘‘ کے جنرل سیکریٹری امداد قاضی،’’شپ بریکنگ ورکرز یونین گڈانی‘‘ کے صدر بشیر احمد محمودانی ، ’’ جے اینڈ پی کوٹس ورکرز یونین‘‘ کے جنرل سیکریٹری عبدالرحمن آفریدی’ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فیڈریشن ‘‘کراچی کے جنرل سیکریٹری فیروز جمالی،’’ انجمن ترقی پسند مصنفین‘‘ کے آفتاب جاوید اوردیگر شامل تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *